تحریر :راشد ہاشمی
ایک ایسا معاشرہ جہاں نوجوانوں کی اکثریت صلاحیت کے باوجود پہچان سے محروم ہو، وہاں اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ درست پلیٹ فارم اور سچی رہنمائی کا فقدان ہوتا ہے۔ پاک و کشمیر جیسے خطے میں، جہاں ٹیلنٹ فطری، بے پناہ اور متنوع ہے، وہاں ٹیلنٹ پروموٹر گروپ پاک/کشمیر کا وجود محض ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک فکری ضرورت بن چکا ہے
۔
اس گروپ کا اصل مشن صرف تقریبات، سرٹیفکیٹس یا سوشل میڈیا کی داد سمیٹنا نہیں، بلکہ خام صلاحیت کو شعور، ہنر اور مقصد میں ڈھالنا ہے۔ یہ پلیٹ فارم اس یقین پر کھڑا ہے کہ اگر نوجوان کو اظہار کا موقع، رہنمائی کی سمت اور اعتماد کی طاقت دے دی جائے تو وہ خود اپنا راستہ بھی بنا لیتا ہے اور دوسروں کے لیے بھی چراغ بن جاتا ہے۔
ٹیلنٹ پروموٹر گروپ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ وہ گاؤں، قصبوں اور دور افتادہ علاقوں میں چھپے ہوئے لکھاری، شاعر، فنکار، کھلاڑی، محقق اور تخلیق کار کو سامنے لائے—انہیں یہ احساس دلائے کہ وہ غیر اہم نہیں، بلکہ قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ یہ گروپ نوجوانوں کو منفی رجحانات، مایوسی اور بے سمتی سے نکال کر مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کی عملی کوشش کرتا ہے۔
یہاں ٹیلنٹ کو صرف تعریف تک محدود نہیں رکھا جاتا، بلکہ اسے ترقی کے راستے دکھائے جاتے ہیں۔ رہنمائی، تربیت، نیٹ ورکنگ اور مواقع تک رسائی یہ سب اس مشن کا حصہ ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ نوجوان صرف باصلاحیت نہ کہلائے بلکہ باوقار، باخبر اور باکردار انسان بنے۔اہم بات یہ ہے کہ ٹیلنٹ پروموٹر گروپ پاک/کشمیر کسی مخصوص نظریے یا گروہی مفاد کا نمائندہ نہیں، بلکہ یہ اس سوچ کا علمبردار ہے کہ انسان کو پہچان ملے تو معاشرہ خود سنورنے لگتا ہے۔ یہ گروپ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومیں سڑکوں، عمارتوں اور نعروں سے نہیں بلکہ صلاحیتوں کی قدر سے بنتی ہیں۔