مولف : باسط علی
چین میں ایک زمانہ ایسا بھی آیا جب حکومت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ چڑیاں فصلوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ کسان شکایت کرتے تھے کہ دانہ چگنے والی یہ ننھی مخلوق ہماری محنت ضائع کر دیتی ہے۔ فیصلہ ہوا، حکم جاری ہوا، اور پورے ملک میں ایک مہم چل پڑی۔ گھونسلے توڑے گئے، آسمان سے چڑیاں غائب ہو گئیں، فضا غیر معمولی حد تک خاموش ہو گئی۔ ابتدا میں کسان مطمئن تھے، مگر اگلے ہی موسم میں زمین نے جواب دینا شروع کر دیا۔ کیڑے مکوڑے بے قابو ہو گئے، فصلیں برباد ہوئیں، قحط آیا، اور لاکھوں انسان مر گئے۔ تب چین کو احساس ہوا کہ مسئلہ چڑیاں نہیں تھیں، مسئلہ یہ تھا کہ انسان نے خود کو فطرت سے زیادہ عقل مند سمجھ لیا تھا۔
اسی طرح جاپان میں ایک وقت آیا جب سانپوں کو نقصان دہ قرار دے کر ختم کیا گیا۔ سانپ ختم ہوئے تو چوہے بڑھ گئے، چوہوں نے اناج کھا لیا، بیماریاں پھیل گئیں، اور نقصان کئی گنا ہو گیا۔ جاپانی کسانوں نے یہ سیکھا کہ فطرت میں کوئی بھی مخلوق غیر ضروری نہیں ہوتی۔ ہر شے ایک نظم کا حصہ ہوتی ہے، اور اس نظم میں مداخلت کی قیمت انسان کو ہی ادا کرنی پڑتی ہے۔یہ کہانیاں ہمیں دور کی لگتی ہیں، شاید اس لیے کہ ہم انہیں تاریخ سمجھ کر پڑھتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم خود اس کہانی کے مرکزی کردار بن چکے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہم چڑیاں یا سانپ نہیں مار رہے، ہم درخت کاٹ رہے ہیں۔
درخت
خاموش، صابر، بے زبان
اسلام آباد کو کبھی سبز پہاڑیوں کا شہر کہا جاتا تھا۔ سڑکوں کے کنارے درخت تھے، ہوا میں ٹھنڈک تھی، شامیں نرم تھیں۔ گزشتہ برس ہزاروں درخت کاٹ دیے گئے۔ منصوبے مکمل ہو گئے، سڑکیں بن گئیں، تصاویر بن گئیں، مگر شہر کی سانس کم ہو گئی۔ کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ یہ درخت کیوں تھے، ان کی ضرورت کیا تھی، اور ان کے بغیر یہ شہر کیسا ہو جائے گا۔چند سال پہلے ملتان میں ہزاروں آم کے باغات کاٹ دیے گئے۔ یہ باغات صرف پھل نہیں دیتے تھے، یہ شہر کی پہچان تھے، کسانوں کی زندگی تھے، گرمی میں سایہ تھے۔ آم کے درخت کٹے تو زمین ننگی ہو گئی، گرد بڑھی، گرمی بڑھی، اور کسان خاموش ہو گئے۔ خاموشی اکثر سب سے بڑا احتجاج ہوتی ہے۔
کشمیر اور شمالی علاقہ جات کے جنگلات بھی تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جو برف کو سنبھالتے ہیں، بارشوں کو ترتیب دیتے ہیں، دریاؤں کو زندگی دیتے ہیں۔ یہاں درخت کٹتے ہیں تو صرف لکڑی نہیں نکلتی، یہاں موسم کا توازن بگڑتا ہے۔ یہ نقصان صرف پہاڑوں تک محدود نہیں رہتا، یہ میدانی علاقوں تک پہنچتا ہے، سیلاب بن کر، گرمی بن کر، پانی کی کمی بن کر۔صوفیا ہمیشہ فطرت کو عبادت کی طرح دیکھتے رہے ہیں۔ حضرت فریدالدین عطارؒ کہا کرتے تھے کہ جو شخص درخت کے نیچے بیٹھ کر سانس لیتا ہے، وہ جانے بغیر شکر ادا کر رہا ہوتا ہے۔ درخت ہمیں کچھ مانگے بغیر دیتے ہیں۔ سایہ، ہوا، سکون—اور ہم بدلے میں انہیں کاٹ دیتے ہیں۔
بلھے شاہ نے کہا تھا
جنگل بیلا سبز نظارہ
ساہ نال سانس ملا کے یارا
درخت صرف زمین پر نہیں اگتے، وہ انسان کے اندر بھی اگتے ہیں۔ جب درخت ختم ہوتے ہیں تو انسان کے اندر بھی کچھ سوکھنے لگتا ہے—برداشت، نرمی، ٹھہراؤ۔یہ کہنا آسان ہے کہ حکومت ذمہ دار ہے، اور یہ بات غلط بھی نہیں۔ ترقی کے نام پر فیصلے ہوتے ہیں، نقشے بنتے ہیں، مگر توازن کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم خود مکمل طور پر بے قصور ہیں؟ ہم سہولت چاہتے ہیں، سایہ نہیں۔ ہم پارکنگ چاہتے ہیں، درخت نہیں۔ ہم آج کی آسانی کے لیے کل کی قیمت ادا کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔فطرت انتقام نہیں لیتی، وہ صرف ردِعمل دیتی ہے۔ سیلاب آتے ہیں، گرمی بڑھتی ہے، موسم بے ترتیب ہو جاتے ہیں۔ یہ سب ہمیں چیخ چیخ کر نہیں کہتے، یہ آہستہ آہستہ سمجھاتے ہیں۔
ایک صوفی نے کہا تھا:
جب انسان نے درخت کا احترام چھوڑ دیا،
اس دن سے زمین نے بھی انسان کو سنبھالنا چھوڑ دیا
اصل المیہ یہ ہے کہ انسان اپنا ہی گھر خود تباہ کر رہا ہے، اور پھر حیران ہوتا ہے کہ سکون کیوں ختم ہو گیا، سانس کیوں بھاری ہو گئی، موسم کیوں ناراض ہو گئے۔
ہمیں شاید یہ ماننا ہوگا کہ ترقی صرف کنکریٹ کا نام نہیں۔ ترقی وہ ہے جس میں انسان، فطرت اور آنے والی نسلیں تینوں محفوظ ہوں۔ اگر درخت نہیں ہوں گے تو شہر صرف عمارتوں کا قبرستان بن جائیں گے۔
اب بھی وقت ہے۔
درخت اب بھی لگائے جا سکتے ہیں۔
جنگلات اب بھی بچائے جا سکتے ہیں۔
سوچ اب بھی بدلی جا سکتی ہے۔
کیونکہ فطرت دشمن نہیں، ماں کی طرح ہے۔
ماں بہت کچھ برداشت کر لیتی ہے،
مگر جب وہ خاموش ہو جائے،
تو سمجھ لیجیے
کچھ بہت قیمتی کھو چکا ہوتا ہے۔
اور فطرت کی خاموشی
سب سے خطرناک چیخ ہوتی ہے۔