آزاد کشمیر خوابوں کی تعبیر یا حقیقت کا فسانہ(قسط 3)

103

تحریر :نعیم الحسن نعیم

آزاد کشمیر جسے تحریکِ آزادی کشمیر کا بیس کیمپ کہا جاتا ہے وہ بیس کیمپ جو مظلوم کشمیریوں کی آزادی کی امید قربانیوں کی علامت اور جدوجہد کا مرکز سمجھا جاتا تھا آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ بیس کیمپ مفادات کی آماجگاہ عیش و عشرت کی پناہ گاہ اور اقتدار کے کھیل کا میدان بن چکا ہے۔ان 78 سالوں میں ریاستی عوام نے ہر قربانی دی۔ جان مال روزگار تعلیم سکون سب کچھ تحریک آزادی کے نام پر قربان کیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جنہیں ہم نے نمائندہ بنایا جنہیں بیس کیمپ کا محافظ سمجھا انہوں نے اس بیس کیمپ کے ساتھ کیا کیا؟ آج ان حکمرانوں کے پاس بیرونِ ممالک جانے کے جواز صرف تحریک آزادی کشمیر کا نام ہے مگر وہاں جا کر وہ نہ عالمی ضمیر جھنجھوڑتے ہیں نہ کشمیری مظلوموں کی آواز بنتے ہیں۔ وہ وہاں اعلیٰ ہوٹلز کانفرنسوں کے نام پر دعوتوں تصویری نشستوں اور مہنگی شاپنگ تک محدود ہو جاتے ہیں۔ وہ مظلوموں کی ترجمانی نہیں کرتے بلکہ آزادی کی تحریک کو اپنے پروٹوکول اور غیرملکی دوروں کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔تحریک کی اصل روح جدوجہد ایثار سچائی اور قربانی سب کچھ ان کے فائیو اسٹار سفارتی بیگ میں دفن ہو چکا ہے۔ عوام کے حصے میں صرف تقریریں قراردادیں اور تحریک جاری ہے جیسے روایتی جملے رہ گئے ہیں۔

78 سال گزر چکے ہیں مگر آزاد کشمیر کے عوام آج بھی بنیادی مسائل کا شکار ہیں ۔جب دنیا ڈیجیٹل انقلاب سے گزر رہی ہے مریخ پر بستیاں بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں وہیں آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ چلانے کے لیے آج بھی نوجوان پہاڑیوں چھتوں اور اونچی چٹانوں کا رخ کرتے ہیں تاکہ سگنل مل سکے۔ فور جی کے مہنگے پیکجز کے نام پر عوام کی جیبیں خالی کی جا رہی ہیں مگر معیار ایسا کہ ویڈیو کال تو دور ایک میسج بھی گھنٹوں پھنسا رہتا ہے۔یہی نہیں جس ریاست کو آزاد کہا جاتا ہے وہاں آج بھی کوئی مربوط سوریج سسٹم موجود نہیں۔ گلیوں بازاروں اور مرکزی شاہراہوں پر بہتا ہوا گندہ پانی بدبو مکھیاں اور تعفن نہ صرف ہمارے نظام پر سوال اٹھاتے ہیں بلکہ ترقی کے سارے دعووں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ صاف پانی پینے کو نہیں اور جو پانی ہے وہ اکثر بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ کچرا اٹھانے کا کوئی مربوط نظام نہیں شہروں میں گندگی کے ڈھیر آزاد کشمیر کی بدقسمت ترقی کا منہ چڑاتے ہیں۔ہمارے نوجوان بے روزگاری کے سمندر میں ڈوب رہے ہیں تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ ہماری بیٹیاں تعلیم کے بعد عزت سے روزگار کے مواقع نہ ملنے پر مایوس ہو رہی ہیں۔ دوسری طرف اشرافیہ ہر سہولت سے آراستہ بنگلوں گاڑیوں اور پروٹوکول میں مصروف ہے۔ وہ نہ ان سڑکوں پر چلتے ہیں نہ ان اسپتالوں میں علاج کرواتے ہیں نہ ان اسکولوں میں اپنے بچوں کو بھیجتے ہیں۔

آزاد کشمیر کو جب بھی ترقی کے تناظر میں بیان کیا جاتا ہے تو بلند و بانگ دعوے خوش رنگ وعدے اور سوشل میڈیا پر جگمگاتی پوسٹس نظر آتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ آزاد کشمیر کو پیرس بنا دیا گیا ہے مگر جو لوگ اس سرزمین پر رہتے ہیں جو روزانہ ان سڑکوں پر سفر کرتے ہیں جن کی زندگیاں انہی دعووں کی حقیقت سے جڑی ہیں ان کے لیے یہ سب ایک تلخ مذاق سے زیادہ کچھ نہیں۔آزاد کشمیر میں نہ کوئی ایئرپورٹ ہے نہ ٹرین کی سہولت نہ موٹروے اور نہ ہی بین الاقوامی معیار کی کوئی سڑک۔ ہاں دعوے ضرور ہیں۔ ہر حکومت نے اپنے حصے کا پیرس بنایا لیکن وہ پیرس صرف اشتہاروں میں بینرز پر یا سیاسی تقاریر میں ہی نظر آیا۔ زمینی سطح پر عوام آج بھی کھنڈرات نما سڑکوں پر سفر کرتے ہیں جہاں بارش ہو تو گاڑیاں پھسلتی ہیں اور دھوپ ہو تو گرد و غبار میں راستے گم ہو جاتے ہیں۔دیہی علاقوں میں تو ایسے مقامات بھی موجود ہیں جہاں مریض کو ہسپتال لے جانے کے لیے دو افراد کو چارپائی اٹھانی پڑتی ہے کیونکہ وہاں نہ سڑک ہے نہ ایمبولینس کی سہولت۔ جدید دنیا چاند پر پہنچ چکی ہے اور ہم آج بھی پانی کی ایک لائن ایک کھمبے یا ایک کچی سڑک کے افتتاح پر خوشی مناتے ہیں اصل سوال یہ ہے کہ اگر 78 سال بعد بھی ایک خطے کو ٹرین موٹروے جدید ہسپتال فنی تعلیمی ادارے اور عالمی معیار کا انفراسٹرکچر میسر نہ ہو سکا تو ترقی کے یہ دعوے کن بنیادوں پر کیے جا رہے ہیں؟ اگر پیرس ایسا ہوتا ہے تو شاید ہمیں ترقی کی نئی تعریف ایجاد کرنی پڑے۔

آزاد کشمیر جو ایک وقت سبز پہاڑوں گھنے جنگلات بہتے چشموں اور قدرتی حسن کی علامت سمجھا جاتا تھا آج بےرحم ہاتھوں کی لالچ اور نااہلی کا شکار ہو چکا ہے۔ یہ خطہ جو فطری وسائل سے مالا مال تھا بدقسمتی سے سیاسی مفادات سرکاری چشم پوشی اور کرپشن کی نظر ہو گیا۔ قیمتی جنگلات جنہوں نے صدیوں میں پنپنا تھا جنہوں نے ماحول موسم زندگی اور معیشت کو سہارا دینا تھا انہیں دن دہاڑے کاٹا گیا۔ درختوں کے لاشے ٹرکوں پر لد کر نیلام ہوتے رہے اور حکومت صرف تماشائی بنی رہی۔ کیا یہ سب کچھ متعلقہ محکموں وزراء اور اثرورسوخ رکھنے والے مافیاز کی سرپرستی کے بغیر ممکن تھا؟ ہرگز نہیں۔قیمتی معدنیات قیمتی پتھر یہاں تک کہ پہاڑوں کی مٹی تک لیزوں کے نام پر بیچی گئی۔ جن زمینوں نے نسلوں کو پالا انہیں خود فروخت کر دیا گیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر سب کچھ بیچ دیا گیا تو ریاستی عوام کو کیا ملا؟ آج بھی لوگ ان پہاڑوں کے دامن میں لکڑیاں کاٹ کر چولہا جلاتے ہیں مٹی کے گھروں میں سردی کا مقابلہ کرتے ہیں اور ان پتھروں پر ننگے پاؤں چل کر ہسپتال یا سکول جاتے ہیں جو شاید صرف کاغذوں میں موجود ہیں۔78 سال بعد بھی ریاستی عوام کے حصے میں آیا تو صرف دھواں مٹی دھول اور سبز وعدے۔ یہ سب اس وقت ہوتا رہا جب ہم نعرے لگانے میں مصروف تھے حکمران کرسی کی رسہ کشی میں مصروف تھے اور اشرافیہ مٹی بیچ کر کوٹھیوں میں تبدیل ہو رہی تھی.

بڑے مسائل کا حل ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات میں کبھی شامل ہی نہیں رہا۔ انہیں نہ ریاست کی سمت کی فکر تھی نہ عوام کے اصل دکھوں کی۔ کیونکہ جب حکمرانی کا مقصد خدمت نہیں صرف اقتدار کا تسلسل ہو تو پھر سوچ کی سطح بھی فیتہ کاٹنے سے آگے نہیں جاتی۔پانی صحت تعلیم روزگار صاف سڑکیں جدید سہولیات یہ سب صرف تقاریر کی زینت بنے رہے۔ زمینی حقیقت یہ رہی کہ عوام کو چھوٹے چھوٹے مسائل میں الجھا کر انہیں ریلیف کا دھوکہ دیا گیا۔ کہیں بجلی کا کھمبا لگا کہیں نالی بنی کہیں گلی میں مٹی ڈال کر فیتہ کاٹ دیا گیا۔ بس یہی ترقی کا پیمانہ بنا دیا گیا۔ایسا دکھایا گیا جیسے گلی کا افتتاح ہی انقلاب ہو جیسے پانی کی عارضی لائن ہی ریاستی خوشحالی ہو۔ اصل مسائل کو نظر انداز کیا گیا کیونکہ ان پر کام کرنا مشکل تھا محنت طلب تھا جوابدہی مانگتا تھا۔نتیجہ یہ نکلا کہ آج بھی آزاد کشمیر میں کئی دیہات پانی کو ترس رہے ہیں نوجوان روزگار کے لیے دربدر ہیں ہسپتالوں میں علاج نہیں سکولوں میں معیار نہیں اور شہروں میں سیوریج تک کا نظام تباہ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ عوام کو خواب نہیں دھندلا آئینہ دکھایا گیا۔ اور جب آئینہ ہی دھندلا ہو تو چہرہ بھی دھوکہ لگتا ہے۔وقت آ گیا ہے کہ عوام اب ان فیتوں سے نکل کر فیصلے کریں۔ کیونکہ فیتے ترقی نہیں فریب کا ربن بن چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں