تحریر: نعیم الحسن نعیم
آزادی کوئی اچانک مل جانے والا تحفہ نہیں ہوتی یہ قوموں کے شعور میں آہستہ آہستہ جنم لیتی ہے۔ یہ قربانی مانگتی ہے سچ بولنے کی ہمت مانگتی ہے اور سب سے بڑھ کر ذمہ داری کا احساس مانگتی ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے آزادی کو صرف ایک لفظ بنا دیا ایک ایسا لفظ جو تقریروں میں تو گونجتا ہے مگر عملی زندگی میں کہیں دکھائی نہیں دیتا۔آج آزاد کشمیر کا المیہ یہ نہیں کہ یہاں مسائل ہیں اصل المیہ یہ ہے کہ ہم نے مسائل کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔ بےروزگاری ناانصافی کرپشن تعلیم اور صحت کی زبوں حالی یہ سب اب ہمارے روزمرہ کا حصہ بن چکے ہیں۔ ہم شکوہ تو کرتے ہیں، مگر سوال نہیں اٹھاتے۔ ہم تنقید تو کرتے ہیں مگر تبدیلی کے لیے کھڑے نہیں ہوتے۔ یہی خاموشی استحصالی نظام کی سب سے بڑی طاقت ہے۔آزاد کشمیر میں پچھلے اٹھہتر برسوں کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک تلخ حقیقت ہمارے سامنے کھڑی نظر آتی ہے۔ ہم نے ان دہائیوں میں خواب تو بہت دیکھے نعرے بے شمار لگائے جلسوں میں جوش بھی دکھایا مگر عملی طور پر ہم وہ کچھ حاصل نہ کر سکے جس کے ہم واقعی حقدار تھے۔ ہر پانچ سال بعد وہی چہرے، وہی آوازیں وہی وعدے صرف جھنڈے بدل جاتے ہیں سیاسی جماعتوں کے نام بدل جاتے ہیں مگر سوچ طرزِ حکمرانی اور عوام کے ساتھ رویہ وہی پرانا رہتا ہے۔
یہ حکمران جو کبھی ایک جماعت کے وفادار ہوتے ہیں اور اگلے ہی لمحے دوسری جماعت کے پرچم تلے کھڑے نظر آتے ہیں عوام کی سادگی اور مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔ ہر الیکشن سے پہلے ترقی کے سنہرے خواب دکھائے جاتے ہیں سڑکوں اسپتالوں روزگار اور خودمختاری کے وعدے کیے جاتے ہیں مگر اقتدار میں آتے ہی سب وعدے فائلوں میں دفن ہو جاتے ہیں اور عوام ایک بار پھر صرف امید کے سہارے چھوڑ دیے جاتے ہیں۔افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہم نے بطور قوم سوال کرنا چھوڑ دیا۔ ہم نے کارکردگی کے بجائے نعروں کو ووٹ دیا کردار کے بجائے برادری اور مفاد کو ترجیح دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آزاد کشمیر آج بھی بنیادی سہولیات مضبوط اداروں اور حقیقی خودمختاری کے لیے ترس رہا ہے۔ ہمارے نوجوان ہنر اور صلاحیت کے باوجود بے روزگار ہیں وسائل موجود ہونے کے باوجود ہم مقروض سوچ کے اسیر ہیں اور آواز رکھنے کے باوجود ہم خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔پچھلے دنوں چند گھنٹوں کی برف باری نے اگر پورے نظام کو مفلوج کر دیا تو یہ کسی قدرتی آفت کا نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی کمزوریوں کا ثبوت ہے جو برسوں سے کھوکھلے نعروں عارضی بندوبست اور نمائشی ترقی کے سہارے چلایا جا رہا ہے۔
یہ برف نہیں تھی جو راستے بند کر گئی یہ وہ نااہلی تھی جو برسوں سے اقتدار کے ایوانوں میں جم کر بیٹھی ہوئی ہے۔یہ کیسا نظام ہے کہ بارش ہو تو بجلی غائب گرمی ہو تو پانی ناپید اور اگر برف گرے تو سڑکیں اسپتال ریسکیو اور انتظامیہ سب منجمد ہو جاتے ہیں؟ سوال یہ نہیں کہ برف کیوں پڑی سوال یہ ہے کہ 78 سال گزرنے کے باوجود ہم ایک ایسے بنیادی ڈھانچے کیوں نہ بنا سکے جو موسموں کا مقابلہ کر سکے۔78 سال ایک پوری انسانی عمر سے بھی زیادہ۔ اس طویل عرصے میں اگر قوم کو یہ ترقی نصیب ہوئی ہے کہ چند گھنٹوں کی بارش یا برف باری ہماری ریاستی کارکردگی کو بے نقاب کر دے تو پھر ہمیں خود سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ ہم نے اصل میں حاصل کیا کیا ہے؟ بلند و بالا عمارتیں اشتہاری منصوبے اور کاغذی اصلاحات؟ یا ایک ایسا نظام جو مشکل کی گھڑی میں اپنے شہریوں کے ساتھ کھڑا ہونے سے قاصر ہے اصل المیہ یہ ہے کہ ہر بحران کے بعد ہم وقتی شور تو بہت مچاتے ہیں مگر احتساب کہیں نہیں ہوتا۔ نہ پالیسی بدلتی ہے نہ ترجیحات نہ چہرے۔ عوام ہر بار صبر کا دامن تھام لیتی ہے اور حکمران ہر بار اگلے حادثے تک کی مہلت حاصل کر لیتے ہیں۔
یہ کالم کسی ایک حکومت کسی ایک ادارے یا کسی ایک فرد پر الزام نہیں بلکہ ایک اجتماعی سوال ہے کیا ہم واقعی ایک سنجیدہ ریاست بننا چاہتے ہیں؟ یا ہم ہر آنے والی برف بارش اور آفت کو تقدیر کا نام دے کر اپنی نااہلی پر پردہ ڈالتے رہیں گے؟ جب تک سوال پوچھنے والی قوم زندہ ہے امید بھی زندہ ہے۔ مگر اگر سوال خاموش ہو گئے تو پھر برف صرف سڑکوں پر نہیں گرے گی یہ ہمارے شعور ہمارے ضمیر اور ہمارے مستقبل کو بھی منجمد کر دے گی۔78 سال گزر گئے مگر عوام آج بھی اختیار کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔ فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں وسائل کہیں اور بٹتے ہیں اور قیمت عام آدمی چکاتا ہے۔ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں مائیں علاج کے لیے قرض مانگ رہی ہیں اور باپ اپنے بچوں کے مستقبل کے سامنے بےبس کھڑا ہے۔ سوال یہ ہے کیا یہی آزادی تھی جس کا خواب دیکھا گیا تھا؟ ہمیں سچ کا سامنا کرنا ہو گا۔ آزادی صرف جھنڈا لہرانے کا نام نہیں یہ انصاف کی موجودگی کا نام ہے۔ یہ اس لمحے جنم لیتی ہے جب ایک غریب آدمی بھی خود کو طاقتور کے برابر محسوس کرے۔
یہ اس دن مکمل ہوتی ہے جب قانون صرف کتابوں میں نہیں زمین پر نافذ نظر آئے۔اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس وسائل کم ہیں مسئلہ یہ ہے کہ نیت کمزور ہے اور نظام بوسیدہ۔ ہم نے اداروں کو افراد کے تابع کر دیا میرٹ کو سفارش کے نیچے دفن کر دیا اور سچ بولنے والوں کو دیوار سے لگا دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قوم آگے بڑھنے کے بجائے دائرے میں گھومتی رہی۔آج سب سے بڑا سوال نوجوان کے سامنے ہے۔ وہ نوجوان جو اس دھرتی کا مستقبل ہے مگر خود بےیقینی کا شکار ہے۔ اگر یہی نوجوان مایوسی کے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا تو یاد رکھیں کوئی قوم زندہ نہیں رہ سکتی۔ نوجوان کو صرف وعدے نہیں اعتماد راستہ اور اختیار چاہیے۔یہ کالم کسی سیاسی جماعت، حکومت یا فرد پر فردِ جرم عائد کرنے کے لیے نہیں لکھا گیا۔ یہ دراصل ہم سب کے سامنے ایک آئینہ ہے۔ ایک تلخ مگر ضروری آئینہ جس میں ہمیں اپنی کمزوریاں اپنی مصلحتیں اور اپنی خاموشیاں صاف نظر آتی ہیں۔ کیونکہ جب تک ہم خود کو بدلنے کا فیصلہ نہیں کریں گے کوئی نظام کوئی لیڈر کوئی نعرہ ہمیں نہیں بچا سکتا۔
اب بھی وقت ہے۔ تاریخ ہمیشہ قوموں کو دوسرا موقع دیتی ہے مگر صرف انہیں جو جاگنا جانتی ہوں۔ ہمیں اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی۔شخصیت پرستی سے نکل کر اصولوں کی طرف آنا ہو گا۔ وقتی فائدے چھوڑ کر اجتماعی مستقبل کا سوچنا ہو گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم یہ خاموشی توڑیں۔ اب وقت ہے کہ ہم شخصیات نہیں اصول منتخب کریں۔ نعروں نہیں کارکردگی کا حساب مانگیں۔ بار بار سیاسی بھیس بدلنے والوں سے پوچھیں کہ انہوں نے پچھلے پانچ دس یا بیس سالوں میں ہمارے لیے کیا کیا؟ اب وقت ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک مختلف آزاد کشمیر کا خواب دیکھیں ایسا کشمیر جہاں اقتدار خدمت ہو سیاست عبادت ہو اور عوام اصل طاقت ہوں۔اگر ہم آج بھی نہ جاگے تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ تبدیلی کسی ایک لیڈر سے نہیں باشعور عوام سے آتی ہے۔ اور جب عوام فیصلہ کر لیں تو کوئی طاقت انہیں ان کے حق سے محروم نہیں رکھ سکتی۔ آزاد کشمیر کے بہتر مستقبل کے لیے اب صرف نعرے نہیں شعور جرات اور عمل کی ضرورت ہے۔اختتام پر صرف ایک سوال چھوڑ کر جا رہا ہوں اگر ہم آج بھی نہ بولے نہ بدلے نہ کھڑے ہوئے تو کل ہماری آنے والی نسلیں ہم سے کیا کہیں گی؟ شاید وہ بھی یہی پوچھیں گی کیا تم واقعی آزاد تھے یا صرف آزادی کا خواب دیکھتے رہے؟