یوم یکجہتی

128

تحریر: گلزار اختر کاشمیری
پانچ فروری کا دن پورے پاکستان آزاد کشمیر گلگت بلتستان میں یوم یکجہتی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ کوہالہ سے مظفر آباد برار کوٹ سے مظفر آباد آزاد پتن ہر جگہ ہاتھوں میں د ہاتھ ڈال کر انسانی ہاتھوں کی زنجیربنائی جاتی ہے۔ خیبر سے کراچی تک اور کراچی سے گوادر اور چترال تک ہر جگہ جلسے جلوس اور تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔ جن میں مقررین پر جوش تقریروں کے ذریعے کشمیر کے مسلمانوں کو یہ یا دلانے. کی کوشش کرتے ہیں کہ پوری قوم کشمیریوں کی پشت پر ہے۔ جلسے جلوسوں اور مظاہرین میں یہ نعرہ عام ہوتا تھا بلکہ مقبول تھا۔ کشمیریو مجاہدو ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ پانچ فروری کا دن سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان جناب قاضی حسین احمد کا صدقہ جاریہ ہے۔ انہوں نے 1990 میں پہلی مرتبہ پاکستانی قوم سے اہل کشمیر کیلیے یکجہتی کرنے کی اپیل کی۔ جب مقبوضہ جموں و کشمیر سے بھارتی مظالم سے ستائے ہوئے ہزاروں نوجوان مجاہد بن کر آزاد کشمیر کے بیس کیمپ دارالحکومت مظفر آباد میں پہنچے اور ہزاروں خاندان ہجرت کرکے آزاد کشمیر پہنچے۔ یہ لوگ یہ توقعات لے کر آئے تھے پاکستان نہ صرف ہماری داد رسی کرے گا بلکہ ہماری آزادی کی جد و جہد میں ہماری مدد بھی کرے گا۔ بد قسمتی سے اس وقت بھی پاکستان میں سیاسی کشمکش چل رہی تھی۔پاکستان میں وزیر اعظم بے نظیر بھٹو تھیں اور نواز شریف آئی جے آئی کے سربراہ اور صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے۔

قاضی صاحب نے سوچا کے ان حالات میں اگر ان مجاہدین کی داد رسی نہ ہوئی تو یہ مایوسی کا شکار ہو جائیں گے۔ قاضی صاحب کی اپیل پر اس وقت کی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور وزیر اعلیٰ پنجاب نواز شریف صاحب دونوں نے اس یکجہتی کی توثیق کی اور پوری پاکستانی قوم نے بھر پور طور پر یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ پاکستانی وزیر اعظم دارالحکومت مظفر آباد آئیں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم کو للکارا۔ اس طرح ایک طرف ریاست پاکستان اس تحریک کی پشت پر کھڑی ہو گئی۔ اور دوسری طرف اس پیغام سے کشمیریوں کے حوصلے بلند ہوئے۔ پاکستانی قوم نے کبھی بھی کشمیریوں کو مایوس نہیں کہا۔ یہ ہماری حکومتیں ہیں جن کی ترجیحات بدل جاتی ہیں. 1988 میں جب پاکستانی عوام نے کشمیری مسلمانوں کے حالات سنے تو وہ تڑپ اٹھے۔ سینکڑ وں پاکستانی نوجوان کشمیری ماؤں بہنوں کے محافظ بن کر کشمیر کے ہر علاقے کپواڑہ، بارہ مولا، سری نگر، جموں، ڈوڈہ، انت ناگ (اسلام آباد) پہلگام عرض ہر پہاڑ پر اور ہر وادی میں بھارتی درندوں سے ٹکرانے کے لئے کشمیر پہنچے۔ وہ نوجوان جو کوئی جنگی تجربہ رکھتے تھے نہ جنگی ماہر تھے۔ جہادی تنظیموں ں سے معمولی تربیت حاصل کرکے کشمیر پہنچ گئے۔

وہاں کشمیر ی مجاہدین سے مل کر بھارتی فوج پر قہر خدا وندی بن کر ٹوٹ پڑے۔ اور بھارتی ماہرین جنگ کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ ان کا جذبہ ایمانی تھا ان میں سے درجنوں کشمیری ماؤں، بہنوں کی عظمتوں کی حفاظت اور عصمتوں کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ ان پاکستانی نوجوانوں کا خون کشمیری نوجوانوں کے خون کے ساتھ مٹی میں جذب ہو گیا۔ مقبوضہ کشمیر کے ہر علاقے کے قبرستانوں میں آزاد کشمیر اور پاکستان کے ان شہیدوں کی قبروں پر لگے ہوئے شناختے یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ یہاں جو شہید آرام کر رہا ہے یہ پاکستان یا آزاد کشمیر کے کس علاقے کی نمائندگی کر رہا ہے۔ 14 ا گست اور 23 مارچ کو کشمیری مسلمان اپنے مہمانوں کی قبروں پر جمع ہوتے ہیں اور ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس جذبے کو سلامت رکھے۔ سید علی گیلانی سے کسی نے پوچھا اس وقت جنرل مشرف کا آخری دور تھا کہ پاکستانی حکومت نے یوٹرن لے لیا ہے اور پھر بھی آپ کشمیر کا پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا ہمارے پیش نظر حکومت پاکستان نہیں ہوتی ہے بلکہ پاکستانی عوام ہوتے ہیں۔ وہ ہم سے محبت کرتے ہیں۔گیلانی صاحب نے بالکل درست کہا۔ تذکرہ ہو رہا تھا پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیرکا 5 فروری کا دن کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت ان کی قربانیوں اور ان کے حق آزادی کی جدو جہد کو اجاگر کرنے کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔

یہ دن نہ صرف کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن ہے بلکہ یہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے بھی ایک پیغا م ہے کہ ہم سب کوانسانی حقوق اور انصاف کے لئے آواز بلند کرنی چاہیے۔ کشمیرکی تاریخ میں کئی عروج اور زوال آچکے ہیں۔ یہ خوبصورت وادی جس کو جنت نظرت وادی بھی کہا جاتا ہے اس وادی کے حوالے سے کسی شاعر نے کہا تھا
اگر فردوس بر روئے زمین است
ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است
کشمیرکی اس وادی پر صدیوں سے ظلم ہو رہا ہے۔ مہاراجہ رنجت سنگھ کے دور میں اس پر ظلم و ستم شروع ہوا۔ پھر مہاراجہ گلاب سنگھ کادور آیا شہریوں پر ظلم ستم میں ا اضافہ ہوتا گیا۔ ہری سنگھ کے دور میں تو باقی ظلم کے علاوہ معاشی ظلم شروع ہوتا گاا اتنے ٹیکس لگ گئے کہ پھر امیر لوگ بھی پریشان ہو گئے۔ قالین بانی کا کام شالیں بنانے کا کام بہت ہی متاثر ہوا۔ قالین بنانے میں ٹیکس اور قالین جب فروخت ہوتی پھر اس پر ٹیکس حتی کہ مزدور جو دھاڑی لگاتا اس پر بھی ٹیکس۔ سیا حوں کے جو پورٹر ہوتے ان کی ایک دن کی مزدوری پر 50% ٹیکس عائد رہا۔ 1947 میں برطانوی ہند کی تقسم کے بعد کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے ریاست کا مستقبل طے کرنے میں دیر کر دی جس کی وجہ سے کشمیر ی عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔یہ مسئلہ ابھی تک حل طلب ہے۔ بھارت نے موقع پا کر اس پر نا جائز قبضہ کر لیا۔ اور کشمیر ی عوام کی آواز کو دبا دیا۔ کشمیر کی آزادی کے لئے کشمیری کے مسلمانوں نے لاکھوں جانوں کی قربانی دی۔ 1947 میں اکتوبر اور نومبر میں لاکھوں لوگوں کو سرکاری سڑکوں پر بٹھا کر کہا گاا کہ آپ کو پاکستان بھیج رہے ہیں مگر پولس اور فوج نے راستے میں گھات لگا کر لاکھوں مسلمانوں کو قتل کر دیا۔

اب بھی بھارتی فوج اسی طرح کشمیریوں پر ظلم ڈھارہی ہے۔ کشمیرمیں بھارت کے غیر قانونی قبضے کے دوران کشمیری عوام نے مختلف قسم کی مشکلات کا سامنا کیا۔ بھارتی فوج کی طرف سے ہونے والے ظلم و ستم کی کوئی حد نہیں۔ خواتین کی عصمتوں کی قربانی. بے گناہ لوگوں کا قتل عام قید و بند کی تکالیف بے شمار جبر و تشدد کشمیریوں کی روز مرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ اس کے باوجود کشمیری عوام نے اپنی آزادی کی جدو جہد کو جاری رکھا ہوا ہے۔ ہر کشمیری مسلمان کے دل میں جذبہ آزادی موجود ہے۔ ان کا ایمان ہے انشاء اللہ کشمیر کی آزادی کا سورج طلوع ہو گا۔ کشمیری مسلمانوں کی قربانیاں نہ صرف کشمیریوں کے لئے بلکہ پوری دنیاکی انسانیت کے لئے ایک مثال ہے کہ ظلم اور جبر کے باوجود کشمیر ی مسلمانوں کا حوصلہ بھارت توڑ نہ سکا۔ کشمیری مسلمان اپنے فرض سے نہ پہلے کبھی غافل تھے نہ آج غافل ہیں وہ آج بھی اپنے شہدا کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفن کرتے ہیں۔ قائد کشمیرک سید علی گیلانی نے جو تعرہ دیا:”ہم پاکستانی ہیں“ پاکستان ہمارا ہے یہ نعرہ آج بھی کشمیری لگا رہے ہیں۔ بھارت کشمیری مسلمانوں کے لئے نا پسندیدہ ملک ہے اس لئے پاکستان سے الحاق کے علاوہ ان کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔ اللہ تعالٰی استقامت نصیب کرے امین۔

کشمیر کی دیوار برلن کب گرے گی
اگست 1947ء سے قبل جموں و کشمیر گلگت بلتستان ایک ہی ریاست تھی۔ سکردو سے لداخ کی طرف جو راستہ جاتا تھا بڑا مصروف راستہ تھا۔ برٹش گورنمنٹ کی طرف سے پاکستان بننے کا اعلان ہوتے ہی ریاست کی غالب مسلمان آبادی نے موقع غنیمت جانا اور مہاراجہ کے خلاف بغاوت کرلی۔ اس طرح آزاد کشمیری اور گلگت بلتستان کا علاقہ آزاد ہو گیا۔ بھارتی وزیر اعظم پنڈت جو ہرلعل نہرو اقوام متحدہ میں جا پہنچا۔ اور دھائی دی کہ کشمیرمیں رائے شماری ہونے تک سیز فائر کیا جائے۔ امن قائم ہوتے ہی اقوام متحدہ کے زیر اہتمام پوری ریاست کے لوگوں سے رائے لی جائے گی۔ کہ وہ ہندوستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے ہیں پاکستان سے۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے جب اپنی کشتی ڈوبتی دیکھی تو بھارت سے امداد طلب کرلی 27 اکتوبر1947ء کو بھارتی فوج کشمیر میں داخل ہو گئی۔ اقوام متحدہ کے مشورہ سیز فائر ہو گیا۔ مجاہدین کا جہاں قبضہ تھا وہ آزاد کشمیرخ بن گیا۔جہاں بھارتی فوج قابض تھی وہ مقبوضہ کشمیر بن گیا۔پھر پرویز مشرف کے دور میں ا کنٹرول لائن پر باڑ لگ گئی۔ باڑ سے آر پار رشتہ داریاں ہیں۔ ایک بھائی آزاد کشمیرمیں جب کہ دوسرا مقبوضہ کشمیری ہے ماں باپ ایک طرف ہیں جبکہ بیٹی دوسری طرف 1990 سے قبل چوری چھپے رات کی تاریکی میں باڈر کراس کر کے ایک دوسرے کے دکھ میں شریک ہوتے تھے۔ مگر باڑ لگنے کے بعد باڑ میں کرنٹ ہے جگہ جگہ کیمرے لگے ہوئے ہیں۔ باڑ کو ہاتھ ٹچ ہو جائے تو الارم بجنے لگتے ہیں۔

اب ملنا ممکن نہیں رہا۔33 سال ہو گئے کئی بچھڑے نہیں مل سکے۔ جرمنی بھی دوسری جنگ عظیم کے بعد دو حصوں میں تقسم ہو گیا تھا۔ مشرقی جرمنی روس کے زیر قبضہ تھا جبکہ مغربی جرمنی امریکہ کے ساتھ تھا۔ درمیان میں دیوار برلن تھی۔ جرمن دیوار برلن کو گرانے کے لئے 30 سال تک جدو جہد کرتے رہے۔
جرمن قوم کو آزادی اور اتحاد کا جشن منانے کے لئے 30 سال انتظار کرنا پڑا۔ پھر جشن منانے کی گھڑیاں آ پہنچیں۔ دیوار برلن نہ گرتی تو یورپ متحد نہ ہو سکتا تھا۔ یورپی یونین اوریورو دیوار برلن گرنے کا تحفہ ہے. کشمیری 78 سال سے انتظار کر رہے ہیں۔ کشمیر کی جنگ بندی لکیر دیوار برلن سے بھی زیادہ سخت ہے۔ جرمن قوم 30 سال تک متحد ہونے کا خواب دیکھتی رہی بالآخر اس کی تعبیر 30 سال بعد 1989ء میں ملی جب دیوار برلن توڑنے کا اعلان ہوا۔ مشرقی اور مغربی جرمنی متحد ہو گئے۔ جرمنوں نے بھی جدائی کے دکھ دیکھے۔ دیوار برلن 161 کلو مٹرآ لمبی اور نوفٹ بلند کنکریٹ کی دیوار تھی۔ اس کے اوپر تین فٹ خاردار تاریں لگی ہوئی تھیں۔ دیوار کے ساتھ ہی فوجی پوسٹیں بنی ہوئی تھیں۔ جہاں مشین گنیں لگی ہوئی تھیں۔ دیوار کے ارد گرد بارودی سرنگیں لگی ہوئی تھیں۔ اس دیوار سے صرف شہر مضافات اور گلیاں ہی تقسیم نہیں ہوئے بلکہ خاندان رشتہ دار کشمیریوں کی طرح تقسیم ہو گئے تھے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر اور دنیاکے تقریباً تمام ممالک کے آئین میں آزادی نقل حمل کی ضمانت ملتی ہے۔

ایک قوم خاندان عزیز و اقارب کی تقسیم اگرچہ غیر فطری اور غیر قانونی ہے اور غیراخلاقی ہے۔ لکین ماورائے اخلاق اور فطرت کارنامے توثیق پا رہے ہیں۔ طاقت کے نشہ میں بدمست ممالک کسی اخلاقی قصور کے پابند نہیں ہیں۔ ان کے سامنے مغلوب اور غلام قومیں کیڑے مکوڑے ہیں۔ ان کے کوئی حقوق نہیں ہیں ۔ کیونکہ ایسا ہم نے کشمیر فلسطین اور کچھ دیگر خطوں میں دیکھا ہے۔ جرمن قوم نے دیوار برلن کو گرانے میں جدوجہد کی تقریباً 200 افراد دیوار گراتے ہوئے مر گئے تھے۔ سویت یونین کو افغانستان میں شکست ہو رہی تھی۔ اس خطے میں سویت نواز پولینڈ ہنگری کی حکومتں بھی زوال پزیر ہو رہی تھیں۔ یعنی جد جہد کے ساتھ سیاسی حالات نے جرمنوں کا ساتھ دیا۔ اس لئے 30 سال بعد ہی سہی لیکن ان کا خواب پورا ہو گیا۔ جرمنی پھر سے متحد ہو گیا۔ اس کے خاندان دوبارہ مل گئے جدائیاں ختم ہو گئیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خواب کبھی سچ ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ بات سب کے لیے حوصلہ افزاء ہے۔ جرمنی کے لوگ ہر سال متحد ہونے کا جشن مناتے ہیں۔شہروں میں چراغاں ہوتا ہے۔ تقریبات ہوتی ہیں۔ جرمنی کے مشرقی حصہ پر سویت یونین قابض تھا۔ اب مقبوضہ کشمیر کو بھی بھارت نے دو حصوں میں تقسیم کر لیا ہے۔ اس پر قبضہ جائز جتلانے کے لئے عوام کی روایات ثقافت، تہذیب و تمدن معاشی اور سماجی تشخص کو روند ڈالا ہے مگر کب تک دلی والے اس پر قابض رہیں گے۔ کشمیرکی سیز فائر لائن بھی جنوبی ایشیاء کی دیوار برلن ہے اس دیوار نے 78 سال سے ڈیڑھ کروڑ عوام کو ایک دوسرے سے جدا کر رکھا ہے۔

دیوار برلن 12فٹ اونچی تھی۔ لیکن کشمیر کی دیوار برلن فلک بوس بن چکی ہے۔ پرویز مشرف کے دور حکومت میں بھارت نے یہ دیوار پختہ بنا دی اس پر کنکریٹ بنکر تعمیر کئے گئے۔ آہنی دیوار لگا کر فخر کر رہا ہے تاکہ کوئی اس کو پار نہ کر سکے۔ اس دیوار کی وجہ سے ہزاروں لوگ شہیدہو چکے ہیں کشمیری ہی نہیں بلکہ پاکستان اور بھارت کے فوجی اس دیوار کی وجہ سے جان قربان کر چکے ہیں۔ سیاہ چین گلیشر کا تنازعہ اس کی دین ہے۔ اس کے باوجود حالات موافق نہیں ہوئے۔ کشمیر یوں کا خون اس کی وجہ سے رائگاں جا رہا ہے۔ کشمیریوں کا خواب بھی یہ ہے وہ بھی آزادی اور پورے کشمیر کا اتحاد چاہتے ہیں 78 سال سے یہ خواب دیکھ رہے ہیں۔ یہ خواب دیکھتے ہوئے اس وقت تیسری نسل جد و جہد میں ہے۔ انشاء اللہ ان کا یہ خواب ضرور پورا ہوگا۔ جرمن چانسلر کو کون بتائے کہ جنوبی ایشیاء میں ایک قوم اپنی دیوار برلن کو توڑنے کے لئے بے قرار ہے۔ کشمیر کی موجودہ تحریک آزادی دیوار برلن کو گرانے کے لئے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ کشمیر یوں کے اس خواب کو حقیقی بننے میں ہندوستان رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ جنوبی ایشیاء بھی یہ دیوار برلن ٹوٹے گی بے شک ہندوستان اس دیوار کو کتنا ہی پختہ کرے۔ کشمیری اس دیوار کو توڑنے کے لئے نہ صرف ہزاروں جانوں کی قربانی دے چکے ہیں بلکہ ہزاروں عزتوں کی قربانی بھی دے چکے ہیں۔ نہ جانے ہماری آزمائش کب پوری ہوگی۔ نہ جانے کشمیر کی دیوار برلن کب گرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں