تحریر:سہیل اقبال اعوان ایڈووکیٹ
آزاد کشمیر کے سیاسی ڈھانچے میں بہت سے تضادات ہیں جہاں آئینی عہدے اکثر برائے نام نظر آتے ہیں اور عوام کے بنیادی مسائل جوں کے توں رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ عوامی سطح پر اب اس عمل کو مایوسی کی عینک سے دیکھا جا رہا ہے البتہ جس طرح JAAC کی عوامی تحریک میں لوگوں نے متحد ہو کر اس نظام کی خامیوں کو اجاگر کیا ہے ریاست چلانے والوں کو اپنی اصلاح کرتے ہوئے نیک نیتی اور سنجیدگی سے تبدیلی کی طرف بڑھنا ہو گا تا کہ لوگوں کا غم و غصہ کم ہو اور ریاست پر انکا اعتماد بحال ہو۔ آزاد کشمیر میں صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا انتقال ایسے وقت میں ہوا جب چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ جنوری 2025 سے خالی چلا آ رہا تھا جسکی وجہ سے صدارتی انتخابات سوالیہ بن چکے تھے جس سے آئینی بحران کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا جو جسٹس (ریٹائرڈ) غلام مصطفی مغل کو چیف الیکشن کمشنر تعینات ہونے سے ٹل گیا ہے البتہ ماضی میں ن لیگی دور میں عدالتی بحران بھی گزرا ہے، ان بحرانوں سے عام شہری کتنے متاثر ہوتے ہیں اور ان کے بارے عوام کی کیا سوچ ہے یہ بھی اہم سوال ہے، البتہ ان کے خالی رہنے سے لوگ ریاستی خزانے کی بچت اور وسائل کے بےدریغ استعمال میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔
اس وقت آزاد کشمیر میں صدارتی انتخاب کا مرحلہ ہے جسکے لیے مختلف لوگ ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں ایک طرف ایوان میں اکثریتی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی صدر پاکستان آصف علی زرداری کی سربراہی میں امیدواروں پر غور کر رہی ہے اب صدر سیاسی ہو گا یا غیر سیاسی یہ ابھی ایک معمہ ہے جبکہ دوسری طرف آج دارالحکومت مظفرآباد میں موجودہ وزیراعظم کو ووٹ دے کر منتخب کرنے والوں نے سابق وزیراعظم انوارالحق جس پر انہوں نے سنگین الزامات لگا کر عدم اعتماد کیا تھا انہیں ساتھ بٹھا کر متحدہ اپوزیشن اتحاد نے پریس کانفرنس میں حکومت پر سنگین الزامات لگائے اور ایوان میں اپوزیشن کی قرارداد منظور ہونے کا طعنہ دے کر حکومت کو اسمبلی اجلاس سے بھاگنے اور عددی اکثریت سے محروم ہونے کے دعوے کے ساتھ اپنا مشترکہ صدارتی امیدوار کامیاب کروانے کا دعویٰ کیا تاہم ابھی اس پریس کانفرنس کی سیاہی خشک نہیں ہوئی تھی ن لیگ کے سیکرٹری اطلاعات اور پارٹی سیکرٹری جنرل نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے اپنی جماعت کے صدر شاہ غلام قادر کی پریس کانفرنس سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا یعنی دن کو انہوں نے حکومت کے خلاف عدم اعتماد کا اعلان کیا تو اب ان کی تنظیم نے انہی پر عدم اعتماد کر دیا جس سے مفادات کا یہ کھیل مزید دلچسپ ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
سیاستدانوں میں عہدوں کے حصول کی نورا کشتی شروع ہو چکی ہے اور یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عوامی تحریک میں سیاستدانوں کی مقبولیت کو سخت دھچکا لگا ہوا ہے اور ان کی سات دہائیوں کی لوٹ مار اقربا پروری، بدانتظامی، اختیارات کا ناجائز استعمال اور عوامی فلاح و بہبود کے بجائے ریاستی وسائل زاتی عیاشیوں پر خرچ کرنے کی وجہ سے لوگ اب نہ صرف ان عہدوں کو ریاستی خزانے کے لیے بوجھ سمجھتے ہیں بلکہ اس نظام سے بھی شدید نالاں ہیں جسے وہ چند لوگوں کی عیاشی کا کھیل سمجھتے ہیں البتہ حکومت کچھ مطالبات کی منظوری کو کافی قرار دے کر ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کا بیانیہ بنا رہی ہے جو ماضی قریب میں ناکام ہو چکا ہے۔ حکومت کہتی ہے تیس ارب کے ترقیاتی بجٹ والی ریاست آٹے پر تیئس ارب سبسڈی دے رہی ہے لیکن یہ نہیں بتاتی کے تیس ارب خرچ کرنے کے لیے سو ارب انتظامی بجٹ کے نام پر ہڑپ کر رہی ہے، سبسڈی کو احسان اور لوٹ مار کو حق سمجھا جا رہا ہے سرکاری نوکریوں سے لے کر سیاسی جماعتوں تک یہ اشرافیہ اپنے بچوں اور پوتوں کا حق سمجھتی ہو تو لوگ نظام سے کیسے نالاں نہ ہوں۔
یہاں عہدوں کی کارکردگی دیکھی جائے تو ان کے خالی عہدے خالی رہنے سے عام آدمی پر کوئی قیامت نہیں ٹوٹتی البتہ آئینی تقاضے پورے نہ ہونے سے جمہوریت کمزور ہوتی ہے جسکے ثمرات سے بھی لوگ محروم ہیں تاہم اگر یہ لوگ اپنی ذمہ داریاں خواہشات کے تعاقب کے بجائے آئین کی روح کے مطابق ادا کریں تو لوگوں کے ان کے ہونے پر بھی کوئی اعتراض نہ ہو، بظاہر یہ نظام آزاد ہے لیکن عملی طور پر محدود ہے جو عوامی امنگوں کو اپنی مفادات پر کاری ضرب سمجھتا ہے۔ مثال کے طور پر، JAAC کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں حکومت نوے فیصد مطالبات پورے کرنے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن وفاقی فنڈڈ پراجیکٹس میں تاخیر، اشرافیہ کی مراعات، میرٹ، مہاجرین نشستوں پر تعطل، ایکشن کمیٹی کو مزید احتجاج پر اکسانے کے مترادف ہے جہاں چیف الیکشن کمشن کی تعیناتی سے آئینی بحران ٹلنے کے باعث کچھ لوگوں کی تشویش میں کمی ہوئی ہے وہیں 25 فروری کو ایکشن کمیٹی کی دی گئی ڈیڈ لائن پوری ہونے پر عوام کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوتا دکھائی دیتا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا عوام کی بات سنی جاتی ہے یا مفادات کا کھیل جاری رہتا ہے۔