قائدین کی جدائی تحریک آزادی کیلئے ایک بڑا نقصان ،تاہم ان کی قربانیوں نے جدوجہد آزادی کو مزید تقویت بخشی.سید صلاح الدین احمد

177

مظفرآباد(سٹیٹ ویوز) شہید غازی نصیب الدین اور ان کے رفقاء کو تحریک آزادی جموں و کشمیر کی جدوجہد آزادی میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ انہوں نے جس عزم و ہمت، استقامت اور قربانی کے جذبے کیساتھ اس تحریک کی بنیادوں کو مضبوط کیا وہ تاریخ کا روشن باب ہے۔ قوم اپنے ان بہادر سپوتوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار امیر حزب المجاہدین اور متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین سید صلاح الدین احمد نے حزب کمانڈ کونسل کے ایک خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ غازی نصیب الدین ایک مدبر اور باہمت قائد تھے جنہوں نے انتہائی مشکل حالات میں بھی اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ وہ اپنے ساتھیوں انٹلیجنس چیف انجینئر فردوس کرمانی، فنانشل ایڈوائزر نارتھ ڈویژن منظور احمد خان اور ملٹری ایڈوائزر عبدالمجید وانی المعروف غازی الیاس کے ہمراہ مارچ 1997 میں سرینگر میں ایک اہم مشاورتی نشست کے دوران بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے۔ بعد ازاں انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنا کر ہمہامہ فوجی کیمپ سرینگر میں شہید کیا گیا۔ دو دن کے بعد ان کی مقدس لاشوں کو وادی کشمیر کے مختلف مقامات پر پھینک دیا گیا.

جس سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوجیوں کے غیر انسانی سلوک اور سفاکیت کی عکاسی ہوتی ہے۔سید صلاح الدین احمد نے کہا کہ ان قائدین کی جدائی تحریک آزادی کیلئے ایک بڑا نقصان تھاتاہم ان کی قربانیوں نے جدوجہد آزادی کو مزید تقویت بخشی۔ انہوں نے اپنی بصیرت، تنظیمی صلاحیتوں اور جرات کے ذریعے تحریک آزادی کو ایک منظم سمت دی اور ہر مشکل مرحلے میں اپنے ساتھیوں کی رہنمائی کی۔انہوں نے مزید کہا کہ ان عظیم شخصیات نے اپنے لہو سے جس جدوجہد کو جلا بخشی اس کی تکمیل تک جدوجہد جاری رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

قوم ان کے ایثار اور قربانی کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتی رہے گی۔اجلاس کے اختتام پرتحریک آزادی کشمیرمیں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کے درجات کی بلندی کیلئے خصوصی دعا کی گئی اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ تحریک آزادی جموں و کشمیر کے مقاصد کے حصول تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں