توسیع لینے کی کوششیں بے سود، چوہدری بشارت حسین سے اسمبلی سیکرٹریٹ کو نجات، چوہدری انوارالحق کی باقیات کا خاتمہ

93

اسلام آباد (خواجہ کاشف میر، سٹیٹ ویوز) آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ایک طویل اور متنازعہ باب کے اختتام کے بعد انتظامی ڈھانچے میں اہم تبدیلی سامنے آئی ہے جہاں آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کی تاریخ میں متنازعہ اور نا اہل ترین سیکرٹری اسمبلی رہنے والے چوہدری بشارت حسین کو مزید توسیع دلانے کی تمام کاوشیں ناکام ہونے کے بعد انکی ریٹائرمنٹ کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے جبکہ اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری نئے نوٹیفکیشن کے مطابق سینئر اور پیشہ ور بیوروکریٹ امجد لطیف عباسی 4 اپریل سے بطور سیکرٹری اسمبلی اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے، اس پیش رفت کو ایک نئے انتظامی دور کے آغاز اور چوہدری بشارت کے سیاہ دور کے اختتام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تاہم ماضی کے پندرہ برسوں پر محیط تنازعات اور الزامات ایک مرتبہ پھر زیر بحث آ گئے ہیں۔

ریکارڈ اور میڈیا رپورٹس کے مطابق 15 مارچ 2011 کو رات گئے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے ذریعے اس وقت کے سپیکر چوہدری انوارالحق نے اپنے برادر ان لاء چوہدری بشارت حسین کو سیکرٹری اسمبلی تعینات کیا جس پر فوری طور پر اقرباء پروری کرنے ، شفافیت اور میرٹ پامال کرنے کے حوالے سے سوالات اٹھے، 16 مارچ 2011 کو انہوں نے عہدے کا چارج سنبھالا تاہم اگلے ہی دن دفتر سے غیر حاضری کی رپورٹس سامنے آئیں، اسی تناظر میں قومی اخبار ڈان سے منسلک صحافی طارق نقاش کی خبر میں 17 مارچ 2011 کو اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ “Assembly secretary seen in office only once” جس نے ادارہ جاتی نظم و ضبط پر سنگین سوالات کھڑے کیے۔ بعد ازاں مئی 2011 میں اس تقرری کے خلاف عدالت سے بھی رجوع کیا گیا جہاں سٹیٹس کو برقرار رکھنے کے احکامات جاری ہوئے مگر تقرری برقرار رہی، ڈان اور دیگر ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں اس تقرری کو اقرباء پروری اور قواعد و ضوابط میں نرمی کا نتیجہ قرار دیا گیا جبکہ ناقدین نے اسے سول سروس سٹرکچر اور سینیارٹی کی خلاف ورزی بھی قرار دیا۔

اپنے طویل دورِ ملازمت کے دوران چوہدری بشارت حسین پر مختلف نوعیت کے الزامات سامنے آتے رہے جن میں ٹی اے ڈی اے کی مد میں ہر ماہ جعلی رسیدوں کے ذریعے اضافی رقوم کا حصول، سرکاری گاڑیوں کا غیر مجاز استعمال، قریبی رشتہ داروں کی غیر قانونی بھرتیاں، گھوسٹ ملازمین کے ذریعے مالی فوائد حاصل کرنے اور بیرون ملک سرکاری دوروں کے اخراجات میں بے ضابطگیوں جیسے سنگین دعوے شامل ہیں۔

اگرچہ ان الزامات کی باضابطہ عدالتی تصدیق سامنے نہیں آئی تاہم مختلف عوامی و قانونی حلقوں کی جانب سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ گزشتہ پندرہ سالہ دور کا جامع جوڈیشل آڈٹ کیا جائے، مبصرین کے مطابق اس پوری صورتحال میں چوہدری انوارالحق کا کردار بھی مسلسل تنقید کی زد میں رہا جن پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اس تقرری کو ممکن بنایا اور بعد ازاں مختلف ادوار میں ادارہ جاتی تحفظ فراہم کیا۔

دوسری جانب نئے سیکرٹری اسمبلی امجد لطیف عباسی کی تعیناتی کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ ادارے میں میرٹ، شفافیت اور پیشہ ورانہ طرز حکمرانی کو فروغ دیں گے، تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تبدیلی نہ صرف ایک متنازعہ دور کے خاتمے کی علامت ہے بلکہ اس امر کی بھی متقاضی ہے کہ ماضی کے تمام مالی و انتظامی معاملات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں تاکہ ادارے کی ساکھ بحال ہو اور مستقبل میں ایسے تنازعات سے بچا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں