تحریر:خواجہ قاریعہ تمکین حفیظ
آزاد ریاست جموں و کشمیر پُر کیف وادیوں ،مسکراتی جھیلوں،خوبصورت ندی نالوں اور اونچے پہاڑوں کی سر زمین ہے وادیِ کشمیر کو دنیا کی جنت اور اولیاء کرام کا مسکن ہونے کا شرف بھی حاصل ہے قدرت نے وادیِ کشمیر کو حسین و جمیل پھولوں ،سبزہ زاروں جڑی بوٹیوں، لاکھوں کروڑوں نعمتوں اور بے پناہ خزانوں سے نواز رکھا ہے۔یہ سر زمین اپنی خوبصورتی اور زرخیزی کے اعتبار سے لبنان کی ہم پلہ ریاست ہے۔۔۔۔ریاست کشمیر جو ہمیشہ امن کا گہوارہ رہی ۔۔۔ گزشتہ چند سالوں سے یہ ریاست کشمیر ایک ایسی کیفیت سے گزر رہا ہے جہاں تقریباً ہر طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ سڑکوں پر نظر آ رہے ہیں کہیں اساتذہ اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہے ہیں، کہیں طلبہ اپنے حق کی خاطر یونیورسٹیز میں سراپا احتجاج ہیں ،کہیں بلدیاتی ملازمین اپنے واجبات کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں ،کہیں ڈسپلن فورس پولیس اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرنے پہ مجبور ہو گئ اور کہیں صحت کے شعبے سے وابستہ افراد اپنے بنیادی مطالبات کے لیے سراپا احتجاج ہیں دیکھا جاۓ تو یہ کوئی معمولی صورتحال نہیں ہے یہ ایک ایسے نظام کی عکاسی ہے جس میں مسائل وقتی درپیش نہیں بلکہ بنیادی نوعیت کے ہو چکے ہیں۔
ایک ہفتہ سے پورے آزاد کشمیر میں ہیلتھ ایمپلائز نے ریاست گیر احتجاج شروع کر رکھا ہے جس نے صورتحال کو مزید سنجیدہ بنا دیا ہے آۓ روز کشمیری عوام سڑکوں پہ احتجاج کے لیے کیوں نظر آتی ہے ۔مختلف اضلاع میں ملازمین کو سڑکوں پر اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کرتے دیکھ کر واضح ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ کسی ایک ضلع تک محدود نہیں ہے یہ پورے آذاد کشمیر کے ہیلتھ اییمپلائز کا مشترکہ درد بن چکا ہے یہ ریاست گیر احتجاج دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست کے مسائل اب حد سے بڑھ چکے ہیں اور ملازمین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہےاگر اس پورے منظرنامے کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو ایک بات واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ یہ احتجاجات کسی ایک فیصلے یا ایک دن کی ناانصافی کا معاملہ نہیں یہ برسوں پر محیط پالیسیوں، وعدہ خلافیوں اور عدم توجہی کا نتیجہ ہیں۔جب حکومتی سطح پر کیے گئے وعدے بار بار پورے نہ ہوں، منظور شدہ مطالبات فائلوں میں دب کر رہ جائیں اور جب ملازمین کو یہ محسوس ہو کہ ان کی آواز سننے والا کوئی نہیں تو پھر عوان کے پاس احتجاج ہی واحد راستہ رہ جاتا ہے۔
معاشی دباؤ بھی اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ ہے مہنگائی میں مسلسل اضافہ، تنخواہوں اور مراعات میں عدم توازن اور سروس سٹرکچر کی خامیاں ملازمین کو ذہنی اور مالی دباؤ کا شکار بنا رہی ہیں۔۔۔۔ ایک عام سرکاری ملازم جو اپنی محدود آمدن میں گھر کا نظام چلاتا ہے وہ اپنے بنیادی اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہو جائے تو اس کے اندر بے بسی پیدا ہونا فطری امر ہے یہی بے بسی رفتہ رفتہ احتجاج کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔دوسری طرف ادارہ جاتی کمزوری بھی اس بحران کی جڑ میں موجود ہے جب ادارے مضبوط نہ ہوں، فیصلہ سازی میں تاخیر ہو اور احتساب کا نظام مؤثر نہ ہو تو مسائل حل ہونے کے بجائے بڑھتے جاتے ہیں اصل وجہ مختلف شعبوں کے لوگ خود کو غیر محفوظ اور نظر انداز محسوس کرتے ہیں بالآخر عوام سڑکوں کا رخ کرتی ہے ان تمام حالات میں صحت کے شعبے کا احتجاج ایک خاص توجہ اختیار کر چکا ہے چونکہ اس کا براہِ راست تعلق عوام کی زندگیوں سے ہے۔
ہیلتھ ایمپلائز کی جانب سے کیے جانے والے مظاہرے دراصل اس بات کا اظہار ہیں کہ وہ اب مزید خاموش رہنے کو تیار نہیں لیکن اس احتجاج کا سب سے دردناک اور چونکا دینے والا پہلو وہ لمحہ تھا جب خواتین ملازمین نے اپنے دوپٹے جلا دیے جو انکی عزت تھی دیکھا جاۓ تو ہماری معاشرتی اقدار میں دوپٹہ صرف ایک کپڑے کا ٹکڑا نہیں ہے بلکہ یہ عزت اور شناخت کی علامت سمجھا ہے اور پھر جب ایک خاتون اس علامت کو خود اپنے ہاتھوں سے نذرِ آتش کرتی ہے تو یہ ایک احتجاج نہیں رہتا یہ ایک شدید مایوسی اور بے بسی کا اظہار ہوتا ہے۔دوپٹہ جلا کر احتجاج کرنا ایسا پیغام ہے جو الفاظ سے زیادہ اثر رکھتا ہے ایک وہ خاموش چیخ ہے جو نظام کے ایوانوں تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہے لیکن اتنا کچھ ہو جانے کے باوجود موجودہ حکومت حرکت میں کیوں نہ آئی یہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔
بحثیت کالم نگار میں یہ سوال کرنے کا حق ضرور رکھتی ہوں کہ آخر حالات اس نہج تک کیوں پہنچے کہ خواتین کو اس حد تک جانا پڑا؟ کیا ان کی آواز اس سے پہلے نہیں سنی جا سکتی تھی؟ کیا ان کے مطالبات اتنے غیر اہم تھے کہ انہیں مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا؟ اگر ایک معاشرہ اپنی خواتین کو اس حد تک مجبور کر دے کہ وہ اپنی عزت کی علامت کو بھی احتجاج کی نذر کر دیں تو عورت کی معاشرے میں کیا عزت باقی رہتی ہے میں سمجھتی ہوں کہ یہ ایک محکمے کی ناکامی نہیں بلکہ اجتماعی طور پر پورے نظام کی ناکامی ہے جو خواتین اس حد تک پہنچی کہ وہ اپنے دوپٹے جلانے پہ مجبور ہو گئیں۔آئے روز ہیلتھ ایمپلائز کے ملازمین کا سڑکوں پر نکلنا ایک اور اہم سوال کو جنم دیتا ہے کیا واقعی ان احتجاجوں سے ریاست پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا؟ یا پھر یہ اثرات نظر انداز کیے جا رہے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ مسلسل احتجاج کسی بھی ریاست کے لیے ایک وارننگ ہوتا ہے یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نظام میں کہیں نہ کہیں سنجیدہ خرابی موجود ہے۔ایسے حالات میں ریاستی نظام پر دباؤ پڑھنا، عوام کا اعتماد کمزور ہونا اور اداروں کی ساکھ متاثر ہونے کی عکاسی کرتی ہے.
اس کے علاوہ ان احتجاجوں کے براہِ راست اثرات بھی سامنے آتے ہیں ہسپتالوں کی کارکردگی متاثر ہونی، مریضوں کو مشکلات کا سامنا اور ایمرجنسی حالات میں بھی رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں جب عوام کو بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات پیش آئیں تو ان کا غم و غصہ بھی بنتا ہے۔یہ کہنا بھی چاہوں گی کہ ریاست پر کوئی فرق نہیں پڑ رہا فرق ضرور پڑ رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس فرق کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے یا نہیں اگر ان احتجاجوں کو وقتی شور سمجھ کر نظر انداز کیا گیا تو یہ ایک بڑی غلطی ہوگی کیونکہ یہی آوازیں وقت کے ساتھ ایک بڑے بحران میں تبدیل ہو سکتی ہیں اس کے باوجود اگر ان ملازمین کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جائے تو یہ صورتحال مزید تشویشناک ہو جاتی ہے.یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ احتجاج کسی بھی مہذب معاشرے میں ایک جائز حق ہے لیکن اس کا مقصد ہمیشہ اصلاح اور بہتری ہونی ضروری ہے اگر حالات کو بروقت سنبھالا نہ گیا تو یہ احتجاج ایک بڑے بحران کا شکار ہو سکتا ہے جس کے اثرات سرکاری نظام اور سماجی ڈھانچے پر بھی پڑیں گے۔حکومت کے لیے ضروری ہے عوامی مسائل کو بیانات یا وقتی یقین دہانیاں ہی کافی نہیں رہنی چاہیے یہاں ضرورت اس بات کی ہے کہ عملی اقدامات کیے جائیں ملازمین کے مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور حکومت ایک ایسا نظام تشکیل دے جس میں ہر فرد خود کو محفوظ اور باعزت محسوس کرے۔
آخر میں یہ کہنا نہیں بھولوں گی کہ سڑکوں پر نکلنے والی کشمیری عوام دراصل کسی تصادم کے خواہاں نہیں ہیں یہ اپنے جائز حقوق کے طالب ہیں۔ ان کی آواز کو دبانے کے بجائے سننا اور سمجھنا ہی مسئلے کا بہترین حل ہے اگر آج بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو کل یہ آوازیں مزید بلند ہوں گی جس کی وجہ سے ریاست پہ منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔امید ہے موجودہ حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ ہیلتہ ایمپلائز کے جائز مطالبات کو سن کر انکو انکے حق سے نوازے انھیں مزید ذہنی دباؤ کا شکار ہونے سے بچایا جاۓ .
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر رہے