قضیہ کشمیر حقِ ملکیت و حقِ حکمرانی کی روشنی میں ایک جامع حل

95

تحریر و تحقیق :راجہ محمود خان چئیر مین ٹیلنٹ پروموٹر گروپ پاکستان/ کشمیر
کشمیر کا مسئلہ محض ایک جغرافیائی تنازع نہیں، بلکہ تاریخ، تہذیب، مذہب، اخلاق اور قانون کے پیچیدہ دھاگوں سے بُنا ہوا ایک ایسا قضیہ ہے جو پون صدی سے زیادہ عرصے سے انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے۔ آج جب “حقِ ملکیت اور حقِ حکمرانی” کی اصطلاحات سیاسی و عوامی بیانیے میں بار بار سنائی دیتی ہیں، تو ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تصورات کو جذباتی نعروں سے نکال کر علمی، تاریخی اور اخلاقی بنیادوں پر سمجھا جائے۔

حقِ ملکیت اور حقِ حکمرانی: ایک بنیادی اصول
سادہ الفاظ میں، حقِ ملکیت کا مطلب یہ ہے کہ جس شے، زمین یا وسیلے پر کسی کا حق ہو، اس پر فیصلہ سازی اور تصرف کا اختیار بھی اسی کے پاس ہونا چاہیے۔ یہی اصول آگے چل کر حقِ حکمرانی کی شکل اختیار کرتا ہے۔ عالمی قوانین، انسانی حقوق کے چارٹرز اور سیاسی فلسفے (مثلاً جان لاک کا نظریہ ملکیت) اسی اصول کو بنیاد بناتے ہیں کہ ملکیت اور اختیار لازم و ملزوم ہیں۔

تاریخی پس منظر: کشمیر کی تہذیبی تشکیل
کشمیر کی تاریخ ہزاروں برس پر محیط ہے۔ راج ترنگنی جیسی مستند تواریخ اس خطے کی قدامت کی گواہی دیتی ہیں۔
ہندو مت: وادی کشمیر صدیوں تک شیو مت (Kashmir Shaivism) کا مرکز رہی۔ Martand Sun Temple جیسے آثار اس کی عظمت کے شاہد ہیں۔
بدھ مت: شہنشاہ اشوک اعظم کے دور میں کشمیر بدھ مت کا اہم مرکز بنا، جہاں سے یہ مذہب وسطی ایشیا اور چین تک پھیلا۔
سکھ ازم: بعد ازاں گرو نانک کے پیغام اور پھر مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں سکھ اثرات بھی کشمیر تک پہنچے۔
یہ تمام مذاہب اسلام سے قبل اس خطے میں موجود تھے، اور ان کے ماننے والے اس دھرتی کے اصل باشندے تھے۔

اسلام کی آمد اور تبدیلی
برصغیر میں اسلام کا آغاز تجارتی و صوفیانہ روابط سے ہوا اور بعد ازاں سیاسی فتوحات کے ذریعے پھیلا۔ کشمیر میں اسلام کا مضبوط ظہور 14ویں صدی میں ہوا، جب سلطان صدرالدین (رِنچن) اور پھر شاہ میر سلطنت قائم ہوئی۔ صوفی بزرگوں، خصوصاً شاہِ ہمدان نے اسلام کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔اہم نکتہ یہ ہے کہ کشمیر کے مسلمان باہر سے نہیں آئے بلکہ مقامی آبادی نے وقت کے ساتھ مذہب تبدیل کیا، یوں نسلی و تہذیبی طور پر وہ اسی دھرتی کے وارث رہے۔

1947ء: ایک المیہ اور اخلاقی سوال تقسیمِ برصغیر (تقسیم ہند 1947) کے دوران جو خونریزی ہوئی، وہ انسانی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ مختلف علاقوں میں مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں سب نے ایک دوسرے پر مظالم کیے۔ کشمیر اور اس کے گردونواح میں بھی ہجرت، قتل و غارت اور جائیدادوں پر قبضے جیسے واقعات رونما ہوئے۔یہاں ایک اہم اخلاقی سوال جنم لیتا ہے:اگر حقِ ملکیت ایک اصول ہے، تو کیا ان لوگوں کا حق واپس نہیں ہونا چاہیے .

جنہیں زبردستی بے دخل کیا گیا؟بھارت کا کردار اور مسئلے کی پیچیدگی ہجرت کرنے والے افراد کو بھارت نے پناہ دی اور انہیں مختلف شعبوں میں شامل کیا۔ بعد ازاں کشمیر کی آئینی حیثیت میں تبدیلیاں (خصوصاً 2019 کے اقدامات) نے اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ اب یہ مسئلہ صرف دو ریاستوں کا نہیں بلکہ مختلف قومیتی، مذہبی اور انسانی حقوق کے پہلوؤں کا مجموعہ بن چکا ہے۔ایک متوازن حل: چار فریق، ایک حق اگر کشمیر کی تاریخ کو غیر جانبداری سے دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ:مسلمان،ہندو،سکھ،بدھ یہ چاروں اس خطے کے اصل وارث ہیں۔

لہٰذا کسی ایک فریق کی اجارہ داری نہ تاریخی طور پر درست ہے اور نہ ہی اخلاقی یا قانونی طور پر۔مجوزہ حل اخلاقی و قانونی بنیادوں پربے دخل شدہ خاندانوں کی جائیدادوں کی واپسی یا مناسب معاوضہ۔مہاجرین کی باعزت واپسی اور آبادکاری۔عبادت گاہوں کی بحالی۔

سرکاری سطح پر اعترافِ غلطی اور مفاہمت کا عمل
ملازمتوں اور کاروبار میں نمائندگی اور کوٹہ۔“متروکہ املاک” کی شفاف چھان بین اور اصل وارثین کو حوالگی۔یہ اقدامات نہ صرف انصاف کو بحال کریں گے بلکہ دلوں میں موجود خلیج کو بھی کم کریں گے۔نتیجہ: دلوں کی فتح، زمین کی نہیں کشمیر کا مسئلہ طاقت یا محض سیاسی نعروں سے حل نہیں ہو سکتا۔ اس کا پائیدار حل صرف اسی صورت ممکن ہے جب:ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کیا جائے
تمام فریقوں کو برابر کا حق دیا جائے۔اخلاق، انصاف اور برداشت کو بنیاد بنایا جائے.جب دلوں میں نرمی، وسعت اور اخلاص پیدا ہوگا تو فاصلے خود بخود مٹ جائیں گے۔ تب ایک مشترکہ اور متفقہ فیصلہ ممکن ہوگا جو حقیقی آزادی اور امن کی بنیاد بنے گا۔آخرکار، یہی اصول دنیا کے ہر مہذب قانون اور آئین کا نچوڑ ہے:“جس کی ملکیت، اسی کی حکمرانی”اور کشمیر کے تناظر میں اس کا مطلب ہے:مشترکہ ملکیت، مشترکہ حکمرانی، اور مشترکہ مستقبل۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں