آج کی بات

131

تحریر:نعیم الحسن نعیم
عدلیہ کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ اگر عدالتی نظام مضبوط نہ ہو تو معاشرہ بدعنوانی، ناانصافی اور عدم استحکام کا شکار ہوجاتا ہے.پاکستان کا عدالتی نظام آج ایک شدید بحران کا شکار ہے یہ نظام امیر اور طاقتور طبقے کو تو فائدہ دیتا ہے، مگر عام شہری خصوصاً غریب طبقہ انصاف کے حصول کے لیے سالوں عدالتوں کے چکر لگاتا رہتا ہے۔ انصاف میں تاخیر گویا انصاف سے انکار کے مترادف ہے اور پاکستان میں یہی صورتحال عام ہےعالمی انصاف کے انڈیکس میں پاکستان کا نمبر 130 ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمارا نظامِ عدل کتنا ناکارہ ہوچکا ہےایک عام مقدمہ کئی سالوں تک چلتا رہتا ہے بعض اوقات تو ایک نسل مقدمہ شروع کرتی ہے اور اگلی نسل بھی انصاف کے انتظار میں رہتی ہے.

آج ہمیں ایسے عدالتی نظام کی ضرورت ہے جس پر انگلیاں نہ اٹھیں۔،ایسے ججز کی ضرورت ہے جن کے فیصلے سیاسی نہیں قانونی یوں ایسی بارز کی ضرورت ہے جو وکلا کے اپنے مسائل حل کرانے پرآخری حد تک جاسکیں ۔ایسی عدلیہ کی ضرورت ہے جس میں لوگوں کو انصاف ہوتا ہوا دکھائی دے۔ جہاں قانون سب کیلیے یکساں ہو۔ کچھ عرصے سے انصاف دینے والوں نے انصاف کا برا حال کر رکھا ہے ۔ عدالت عظمیٰ ملک کا سب سے بڑا عدالتی فورم اورقوم کی آخری امید ہے۔ اس کے بعد خدا کی عدالت رہ جاتی ہے جس کو یہاں انصاف نہیں ملتا وہ انصاف کیلئے خدا کی عدالت سے رجوع کرتا ہے اب یہاں کے سارے مقدمات وہاں پہنچ رہے ہیں۔وہ عدالت کیس سنے گی نہیں کیونکہ وہ ذات سب کچھ پہلے سے دیکھ رہی ہے۔

صرف وہ عدالت اپنا فیصلہ سنانے گی اور اس پر فوری عمل ہو گا ۔ ہمارے ججز صاحبان قانون کے ساتھ سب کچھ جانتے ہیں مگر یہ شاید رب کی عدالت کو نہیں جانتے اگر اس عدالت کو جانتے ہوتے تو پھر یہ فیصلے قانونی کرتے اگر نہیں کرنے کے قابل تھے یا کوئی مجبوری تھی تو گھر چلے جاتے کچھ اور کر لیتے۔ انہیں اور ہمیں بھی اس سزا و جزا کے عمل سے ایسے ہی گزرنا ہو گا جیسے ایک ادمی گزرے گا۔ پھر لگ پتہ جائے گا کہ جج وکیل کیا ہوتا ہے؟ قدرت ان سب کا حساب لے گی اور بے حساب لے گی۔ ابھی تک ہمارے پاس چند ایسے غیر مسلم ججز ماضی میں رہ چکے ہیں جن پر کبھی انگلیاں نہیں اٹھیں ۔باقی تو برا ہی حال ہے۔ آج بھی انگریزی دور کے جسٹس کھڑک سنگھ کو یاد کیا جاتا ہے جو کھڑک سنگھ کو نہیں جانتے انہیں اس کا تعارف کروائے دیتے ہیں.

کھڑک سنگھ جس کے کھڑکنے سے کھڑکتی ھیں کھڑکیاں اور کھڑکیوں کے کھڑکنے سے کھڑکھتے ھیں کھڑک سنگھ ۔تاریخ کا ان پڑھ جج جسٹس بابا کھڑک سنگھ ۔
بابا کھڑک سنگھ پٹیالہ کے مہاراجہ کے ماموں تھے۔ ایک لمبی چوڑی جاگیر کے مالک تھے۔جاگیرداری کی یکسانیت سے اکتا کر ایک دن بھانجے سے کہا، ” تیرے شہر میں سیشن جج کی کرسی خالی ہے۔(اس دور میں سیشن جج کی کرسی کا آرڈر انگریز وائسرائے جاری کرتے تھے)تُو لاٹ صاحب کے نام چھٹی لکھ دے اور مَیں سیشن ججی کا پروانہ لے آتا ہوں”مہاراجہ سے چھٹی لکھوا کے مہر لگوا کر ماموں لاٹ صاحب کے سامنے حاضر ہوگئے۔
وائسرائے نے پوچھا: نام
بولے “کھڑک سنگھ”
تعلیم ؟
بولے : کیوں سرکار ؟
مَیں کوئی اسکول میں بچے پڑھانے کا آرڈر لے آیا ہوں؟
وائسرائے ہنستے ہوئے بولے:

سردار جی! قانون کی تعلیم کا پوچھا ہے، آخر آپ نے اچھے بروں کے درمیان تمیز کرنی ہے، اچھوں کو چھوڑنا ہے، بُروں کو سزا دینی ہے۔کھڑک سنگھ مونچھوں کو تاؤ دے کر بولے، سرکار اتنی سی بات کے لئے گدھا وزن کی کتابوں کی کیا ضرورت ہے؟ یہ کام میں برسوں سے پنچائت میں کرتا آیا ہوں اور ایک نظر میں اچھے بُرے کی تمیز کر لیتا ہوں۔وائسرائے نے یہ سوچ کر کہ اب کون مہاراجہ اور مہاراجہ کے ماموں سے الجھے، جس نے سفارش کی ہے وہی اسے بھگتے۔ درخواست لی اور حکم نامہ جاری کر دیا۔ اب کھڑک سنگھ جسٹس کھڑک سنگھ بن کر پٹیالہ تشریف لے آئے۔خدا کی قدرت پہلا مقدمہ ہی جسٹس کھڑک سنگھ کی عدالت میں قتل کا آگیا۔

ایک طرف چار قاتل کٹہرے میں کھڑے تھے، دوسری طرف ایک روتی دھوتی عورت سر کا ڈوپٹہ گلے میں لٹکائے کھڑی آنسوں پونچھ رہی ہے۔جسٹس کھڑک سنگھ نے کرسی پر بیٹھنے سے پہلے دونوں طرف کھڑے لوگوں کو اچھی طرح دیکھ لیا۔اتنے میں پولیس آفیسر آگے بڑھا، جسٹس کھڑک سنگھ کے سامنے کچھ کاغذات رکھے اور کہنے لگا،مائی لارڈ ! یہ عورت کرانتی کور ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ان چاروں نے مل کر اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے خاوند کا خون کیا ہے۔کیوں مائی؟ جسٹس کھڑک سنگھ نے پولیس آفیسر کی بات پوری بھی نہیں سنی اور عورت سے پوچھنے لگے کیسے مارا تھا ؟عورت بولی، سرکار جو دائیں طرف کھڑا ہے اس کے ہاتھ میں برچھا تھا، درمیان والا کئی لے کر آیا تھا اور باقی دونوں کے ہاتھوں میں لاٹھیاں تھیں۔ یہ چاروں کماد کے اولے سے اچانک نکلے اور مارا ماری شروع کر دی اور ان ظالموں نے میرے سر کے تاج کو جان سے مار دیا۔

جسٹس کھڑک سنگھ نے مونچھوں کو تاؤ دے کر غصے سے چاروں ملزموں کو دیکھا اور کہا کیوں بھئی تم نے بندہ مار دیا؟نہ جی نہ میرے ہاتھ میں بیلچہ تھا کئی نہیں،
ایک ملزم نے کہا۔دوسرا ملزم بولا: جناب میرے پاس برچھا نہیں تھا، ایک سوٹی کے آگے درانتی بندھی تھی، بیری کے درخت سے ٹہنیاں کاٹنے والی۔جسٹس کھڑک سنگھ بولے چلو، جو کچھ بھی تمہارے ہاتھ میں تھا وہ تو مر گیا نا !پر جناب ہمارا مقصد تو نہ اسے مارنا تھا، نہ زخمی کرنا تھا، تیسرا ملزم بولا۔جسٹس کھڑک سنگھ نے کاغذوں کا پلندہ اپنے آگے کیا اور فیصلہ لکھنے ہی لگے تھے کہ ایک دم سے عدالت کی کرسی سے کالے کوٹ والا آدمی اٹھ کر تیزی سے سامنے آیا اور بولا، مائی لارڈ آپ پوری تفصیل تو سنیں۔ میرے یہ مؤکل تو صرف اسے سمجھانے کے لئے اس کی زمین پہ گئے تھے۔

ویسے وہ زمین بھی ابھی مرنے والے کے نام منتقل بھی نہیں ہوئی اس کے مرے باپ سے، ان کے ہاتھوں میں تو صرف ڈنڈے تھے، ڈنڈے بھی کہاں، وہ تو کماد کے فصل سے توڑے ہوے گنے تھے۔ایک منٹ ۔جسٹس کھڑک سنگھ نے کالے کوٹ والے کو روکا اور پولیس آفیسر کو بلا کر پوچھا یہ کالے کوٹ والا کون ہے ؟سرکار یہ وکیل ہے، ملزمان کا وکیل صفائی، پولیس آفیسر نے بتایا۔یعنی یہ بھی انہی کا بندہ ہوا نا جو انکی طرف سے بات کرتا ہے، کھڑک سنگھ نے وکیل کو حکم دیا کہ ادھر کھڑے ہو جاؤ قاتلوں کے ساتھ۔اتنی بات کی اور کاغذوں کے پلندے پر ایک سطری فیصلہ لکھ کر دستخط کر دیے۔جسٹس کھڑک سنگھ نے فیصلہ لکھا تھا کہ چار قاتل اور پانچواں ان کا وکیل، پانچوں کو پھانسی پر لٹکا دیا جائے۔

پٹیالہ میں تھرتھلی مچ گئی، اوے بچو، کھڑک سنگھ آگیا ہے جو قاتل کے ساتھ وکیل کو بھی پھانسی دیتا ہے۔کہتے ہیں کہ جب تک کھڑک سنگھ سیشن جج رہے، پٹیالہ ریاست میں قتل کی بہت کم واردتیں ہوئیں ۔قاتلوں کیساتھ ساتھ اگر ان کے وکیلوں کو سزائے موت ملنے لگے تو جرائم کی شرح صفر ہونے میں دیر نہیں لگنی.اس واقعہ میں دور حاضر کے پڑھے لکھے ججوں کیلئے ایک گہرا سبق ہے کہ اگر انصاف فوری اور مجرموں کے ساتھ ان کے بھاری فیسیں لینے والے وکیلوں کو اور ججز کی پشت پنا کرنے والوں کو بھی سزا ملنے لگے تو ملک میں جرائم کی شرح صفر ہو سکتی ہے۔ کھڑک سنگھ کے دور میں وکلا کی بار کونسلیں بار ایسوسی ایشنز نہیں تھیں ورنہ ہڑتال کی کال دے دیتے۔اس موقع پر وکلا اپنی لیڈری چمکاتے۔ پیسے بناتے۔

اس لیے کھڑے سنگھ کامیاب رہے کہ اس وقت یہ چوچلے نہ تھے یہ دیواریں نہ تھیں ۔ بنچ اور بار اگر اپنے فیصلے خود کرتے تو اج انصاف کا حشر یہ نہ ہوتا۔ اس وقت مجھے ایک مرغے اور اس کے مالک کی بات یاد آ رہی ہے اس سے امید ہے سبق سیکھیں گے۔ایک شخص نے ایک مرغا پالا تھا۔ ایک بار اس نے مرغا ذبحہ کرنا چاہا۔مالک نے مرغے کو ذبحہ کرنے کا کوئی بہانا سوچا اور مرغے سے کہا کہ کل سے تم نے اذان نہیں دینی ورنہ ذبحہ کردوں گا۔ مرغے نے کہا ٹھیک ہے آقا جو آپ کی مرضی!صبح جونہی مرغ کی اذان کا وقت ہوا تو مالک نے دیکھا کہ مرغے نے اذان تو نہیں دی لیکن حسبِ عادت اپنے پروں کو زور زور سے پھڑپھڑایا۔مالک نے اگلا فرمان جاری کیا کہ کل سے تم نے پر بھی نہیں مارنے ورنہ ذبحہ کردوں گا۔اگلے دن صبح اذان کے وقت مرغے نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پر تو نہیں ہلائے لیکن عادت سے مجبوری کے تحت گردن کو لمبا کرکے اوپر اٹھایا۔

مالک نے اگلا حکم دیا کہ کل سے گردن بھی نہیں ہلنی چاہیے، اگلے دن اذان کے وقت مرغا بالکل مرغی بن کر خاموش بیٹھا رہا۔مالک نے سوچا یہ تو بات نہیں بنی۔ اب کی بار مالک نے بھی ایک ایسی بات سوچی جو واقعی مرغے بے چارے کی بس کی بات نہیں تھی !مالک نے کہا کہ کل سے تم نے صبح انڈا دینا ہے ورنہ ذبحہ کردوں گا۔اب مرغے کو اپنی موت صاف نظر آنے لگی اور وہ بہت زار و قطار رویا۔ مالک نے پوچھا کیا بات ہے؟موت کے ڈر سے رو رہے ہو؟ مرغے کا جواب بڑا باکمال اور بامعنی تھا۔کہنے لگا: نہیں،میں اس بات پر رو رہا ہوں کہ انڈے سے بہتر تھا کہ اذان پر مرجاتا پہلا غیر قانونی حکم مانو گے تو پھر آرڈر آتے جائیں گے تعمیل ہوتی جائے گی”چمڑی اترتی جائے گی”اس لیے اپنے اندر ہمت پیدا کریں حق کو حق کہنے کی ۔جس طرح کے فیصلے عدلیہ دے رہی ہے اور شہریوں پر مہنگائی کے بم برس رہیں ہیں،یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ہم ججز کو ایسے فیصلے کرنے سے روک نہیں سکتے کیوں کہ بنچ کے فیصلے بار کی تقریریں کمزور ہیں۔سیاسی جماعتوں کے خلاف فیصلے قانونی نہیں سیاسی کرتے ہیں۔ کاش ہم مرغے سے سبق سیکھیں اور کھڑک سنگھ جیسے جج کو عدلیہ میں لائیں تو پھر ہی حالات بدل سکیں گے ورنہ نہیں !!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں