تحریر:نعیم الحسن نعیم
کسی بھی معاشرے کے استحکام اور ترقی میں نظامِ عدل کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ جس ملک میں عدل وانصاف کا نظام اچھے طریقے سے قائم کیا جاتا ہے وہاں لوگ تسلی اور اطمینان سے اپنی زندگی گزارتے رہتے ہیں جبکہ انصاف کی عدم فراہمی اورجرم وسزاکے کمزور نظام کی وجہ سے بہت سے لوگ ریاست اور اس سے متعلقہ اداروں سے بدگمان ہو جاتے ہیں۔انصاف کی عدم فراہمی کی وجہ سے معاشرہ مایوسی اور اضطراب کا شکار ہو جاتا ہے اور کئی مرتبہ انصاف کی عدم فراہمی کی وجہ سے معاشرے میں جرائم کی شرح میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔بہت سے لوگ جذبۂ انتقام اور احساسِ محرومی سے مغلوب ہو کر قانون کو پامال کرنے کے راستے پر چل نکلتے ہیں۔ملزم ایک 15 سالہ لڑکا تھا۔ ایک اسٹور سے چوری کرتا ہوا پکڑا گیا۔ پکڑے جانے پر گارڈ کی گرفت سے بھاگنے کی کوشش کی۔ مزاحمت کے دوران اسٹور کا ایک شیلف بھی ٹوٹا۔جج نے فرد ِ جرم سنی اور لڑکے سے پوچھا “تم نے واقعی کچھ چرایا تھا؟””بریڈ اور پنیر کا پیکٹ” لڑکے نے اعتراف کرلیا۔”کیوں؟””مجھے ضرورت تھی” لڑکے نے مختصر جواب دیا۔
“خرید لیتے پیسے نہیں تھے” گھر والوں سے لے لیتے. گھر پر صرف ماں ہے۔ بیمار اور بے روزگار۔ بریڈ اور پنیر اسی کے لئے چرائی تھی۔تم کچھ کام نہیں کرتے؟کرتا تھا ایک کار واش میں۔ ماں کی دیکھ بھال کے لئے ایک دن کی چھٹی کی تو نکال دیا گیا۔تم کسی سے مدد مانگ لیتے. صبح سے مانگ رہا تھا۔ کسی نے ہیلپ نہیں کی. جرح ختم ہوئی اور جج نے فیصلہ سنانا شروع کردیا۔چوری اور خصوصاً بریڈ کی چوری بہت ہولناک جرم ہے۔ اور اس جرم کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔ عدالت میں موجود ہر شخص، اس چوری کا مجرم ہے۔ میں یہاں موجود ہر فرد اور خود پر 10 ڈالر جرمانہ عائد کرتا ہوں۔ دس ڈالر ادا کئے بغیر کوئی شخص کورٹ سے باہر نہیں جاسکتا۔”یہ کہہ کر جج نے اپنی جیب سے 10 ڈالر نکال کر میز پر رکھ دیئے۔اس کے علاوہ میں اسٹور انتظامیہ پر 1000 ڈالر جرمانہ کرتا ہوں کہ اس نے ایک بھوکے بچے سے غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے، اسے پولیس کے حوالے کیا۔ اگر 24 گھنٹے میں جرمانہ جمع نہ کرایا گیا تو کورٹ اسٹور سیل کرنے کا حکم دے گی۔فیصلے کے آخری ریمارک یہ تھے: “اسٹور انتظامیہ اور حاضرین پر جرمانے کی رقم لڑکے کو ادا کرتے ہوئے، عدالت اس سے معافی طلب کرتی ہے۔”
فیصلہ سننے کے بعد حاضرین تو اشک بار تھے ہی، اس لڑکے کی تو گویا ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔ اور وہ بار بار جج کو دیکھ رہا تھا۔”کفر” کے معاشرے ایسے ہی نہیں پھل پھول رہے۔ اپنے شہریوں کو انصاف ہی نہیں عدل بھی فراہم کرتے ہیں.انصاف قوموں کی زندگی کو توانا رکھتا ہے.حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ کوئی معاشرہ کفر پر تو قائم رہ سکتا ہے لیکن ظلم پر نہیں.کوئی معاشرہ ظلم پر قائم نہیں رہ سکتا چنانچہ نا انصافی کی وجہ سے تو سِرے سے قوم ہی نہیں رہتی پھر قومی زندگی کی توانائی کا سوال کیا باقی رہ جاتا ہے؟ہمارے ملک میں نا انصافی کا دور دورہ ہے۔مجھے ڈر ہے کہ ہم بحیثیتِ قوم کہیں اپنا وجود کھو ہی نہ بیٹھیں۔ جب کسی قوم میں عدل و انصاف کا یہ حال ہو جائے کہ انصاف کا ترازو تعداد دیکھ کر نیچے گرا دیا جائے. تو پھر ماسوائے خوش فہمیوں کے اور کیا اُمید کی جاسکتی ہے کہ وہ قوم مزید زندہ رہے گی.آج ہمارے معاشرے میں ہونے والی ناانصافیوں پہ اتنا کہوں گا کہ.
حفاظت باغ کی جب باغ کے مالی نہیں کرتے
تو پھر موسم بہاروں کے بھی ہریالی نہیں کرتے.
معاشرے کفر میں تو زندہ رہ سکتے ہیں لیکن نا انصافی میں نہیں یقین اس بات کا اندازہ آج کی اس تحریر سے لگایا جاسکتا ہے.اجامو ایک غریب شخص کا اکلوتا بیٹا تھا 17 سال کی عمر میں قتل کا الزام لگا اور عمر قید کی سزا ہوئی.40 سال جیل میں کاٹنے کے بعد ایک دن اجامو کو عدالت نے یہ کہتے ہوئے بری کر دیا کہ یہ بیگناہ ہے.اجامو کمرہ عدالت میں جج کے سامنے بیٹھا تھا جج نے ان کے آگے ایک خالی صحفہ رکھا اور ان سے کہہ دیا کہ ان 40 سالوں کے بدلے اس کاغذ پر جتنی چاہیں رقم لکھ دیں ریاست آپ کو فوری ادا کرے گی.اجامو نے صرف ایک جملہ لکھا کہ “جج صاحب اس قانون پر نظر ثانی کیجئے” تاکہ کسی اور اجامو کی زندگی کے قیمتی 40 سال ضائع نہ ہوں.اس کے بعد وہ رو پڑے اسکے ساتھ کمرہ عدالت میں موجود حاضرین کی آنکھیں بھی اشکبار تھی.ہمیں یہ نظام بدلنے کی ضرورت ہے !کتنے ہی لوگ بے گناہ جیلوں میں پڑے رہتے ہیں ، اور کتنے گناہگار مجرم جرم کرتے ہیں اور رشوت دے کر چھوٹ جاتے ہیں، انہیں کوئی پوچھتا بھی نہیں ! یہ واقعہ یقینا ہمارے معاشرے میں انصاف فراہم کرنے والوں کے لیے ایک بہت بڑی مثال ہے.
پاکستان میں ہر روز ظلم و بربریت کی نئی نئی داستانیں رقم ہو رہی ہے۔ کبھی خبر سننے کو ملتی ہے کہ فلاں امیر زادے نے فلاں عورت کے ساتھ ریپ کر دیا فلاں وڈیرے نے فلاں غریب کو سرعام قتل کر دیا۔ اور یہ سارے واقعات چوری چھپے نہیں ہو رہے بلکہ سرعام ہزاروں گواہوں کے سامنے بلکہ ویڈیوز تک موجود ہوتی ہیں لیکن ان سب ثبوتوں اور گواہوں کے باوجود یہ درندے چند مہینوں بعد آزاد کیسے ہو جاتے ہے؟یقینًا ہمارے ذہن میں پہلا سوال عدلیہ کا آتا ہے لیکن اکیلی عدلیہ ان سب کی قصور وار نہیں ہے۔ سب سے بڑا قصور تو ہمارے غیر مکمل اور کالے قانون کا ہے۔ ہمارا ملکی آئین خود چوروں اور لٹیروں کو آزادی دیتا ہے پھر عدلیہ کیسے سزا دے؟؟ آپ سب کو بلوچستان والا واقعہ یاد ہوگا جس میں ایک پولیس والے کو بلوچستان کے وڈیرے نے ڈیوٹی کے دوران گاڑی سے کچل دیا اور اس کیس کا سب سے اہم ثبوت وہ ویڈیو تھی جس میں صاف نظر آرہا تھا لیکن اس وڈیرے نے اس شہید پولیس والے کی فیملی کو ڈرا دھمکا کر دیت کا نام دے کر کیس معاف کروا لیا اور پکا ثبوت ہونے کے باوجود باعزت بری ہوگیا۔
اسی طرح کشمالہ طارق کے بیٹے والا کیس بھی یاد ہوگا جس میں کئی گھروں کے چراغ بجھا کر ان کو ڈرا دھمکا کر دیت دے کر کیس معاف کروا لیا ۔ یاد رکھیں اسلام نے دیت والی حد صرف اس کیلیے رکھی جس سے غلطی ہو جائے یا جھگڑے میں قتل ہو جائے، اسلام ہرگز کسی ظالم یا بدمعاش کی دیت قبول نہیں کرتا بلکہ اسے کڑی سے کڑی سزا دیتا ہے۔لیکن ہمارے ملک میں سسٹم الٹا ہے یہاں پر ہر امیر اور بدمعاش کی دیت قبول کر لی جاتی ہے جو کہ ہمارے قانون میں شامل ہے۔ اب آپ خود بتائیں یہاں پر عدلیہ کیا کرے؟ جب قانون خود راستہ دے رہا ہو۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہمارے ججز بہت پارسا ہیں یقینًا بہت سے ججز کرپٹ بھی ہیں جو بڑی بڑی پارٹیوں سے پیسے لے کر فیصلہ کرتے ہیں لیکن وہ ججز بھی قانون کا استعمال کر کے ہی ظالموں کو رہا کرتے ہیں اس لیے آج تک کسی جج کو کوئی افف تک نہیں کر سکا کیونکہ سارا پراسس قانون کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر ہمیں ملک میں ظلم اور نا انصافی کو ختم کرنا ہے تو ہنگامی بنیادوں پر قانونی ریفارمز کرنا ہوں گی اور سخت شقیں شامل کرنی ہونگی تاکہ ہر ظالم اور چور کو کڑی سے کڑی سزا ہوسکے اور پھر کوئی جج چاہ کر بھی دونمبری نہیں کر سکے گا اگر کرے گا تو پکڑا جائے گا۔
انصاف کسی بھی معاشرے کیلیے سب سے اہم جز ہے۔ نبی کریمؐ نے گزشتہ اقوام کی تباہی کا یہی سبب بتایا کہ وہ لوگ غریب کو سزا دیتے تھے اور امیر کو چھوڑ دیے تھے جیسا آجکل ہمارے ملک میں ہورہا ہے۔دعا کیجئے کہ ریاست پاکستان میں بھی وہ دن آئے گا جب کسی ناحق کو برسوں جیل میں سلاخوں کے پیچھے نہ گزارنا پڑی اور عدل و انصاف کرنے والے اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایک دن خدا کی عدالت میں انہیں بھی پیش ہونا ہے اور ان کا حساب بہت بڑا ہوگا.آج ہمارے ہاں عدل و انصاف کی دھجیاں بکھیری جاتی ہیں اور ہر طرف ظلم و تعدی کا بازار گرم ہے۔ اگر ہم اپنی قوم کا استحکام اور بقا چاہتے ہیں تو ہمیں اسلامی نظام عدل پر عمل پیرا ہونا ہوگا۔ وگرنہ ذلت و رسوائی اور تباہی و بربادی ہمارا مقدر ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عدل و انصاف کی توفیق مرحمت فرمائے تاکہ ہمارا ملک مستحکم و ترقی یافتہ ہو اور ہر طرف امن و اطمینان کی فضا قائم ہو۔ آمین یارب العالمین.