آرمی چیف پاکستان گرین انیشیٹو پروگرام کے لئے پرعزم

81

تحریر: عبدالباسط علوی

زراعت کا شعبہ انسانی تہذیب میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور دنیا بھر میں بے شمار صنعتوں کو روزی، معاشی استحکام اور بنیاد فراہم کرتا ہے۔ زمانہ قدیم سے لے کر آج تک زراعت نے معاشروں کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ جیسے جیسے عالمی آبادی بڑھتی جارہی ہے زراعت کی اہمیت مزید واضح ہوتی جارہی ہے، جو خوراک کی حفاظت، ماحولیاتی پائیداری اور اقتصادی خوشحالی سے نمٹنے میں اس کے اہم کردار کو اجاگر کرتی ہے۔زراعت کے شعبے کی سب سے اہم اور سب سے واضح اہمیت خوراک پیدا کرنے اور بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں ہے۔ ایک اچھی طرح سے کام کرنے والے زرعی نظام کے بغیر دنیا بھر میں اربوں لوگوں کو بھوک اور غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ شعبہ فصلوں اور مویشیوں کی وسیع اقسام پیدا کرتا ہے جو ہماری روزمرہ کی خوراک کی بنیاد ہے اور ساتھ ہی یہ انسانی بقا اور نشوونما کے لیے ضروری غذائی اجزاء اور توانائی فراہم کرتا ہے۔

زراعت عالمی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ اربوں لوگوں کے لیے روزگار کا ایک بڑا ذریعہ ہے خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں جہاں یہ دیہی آبادی کے لیے بنیادی ذریعہ معاش ہے۔ اس شعبے کی سرگرمیاں کاشتکاری سے لے کر پروسیسنگ، تقسیم اور مارکیٹنگ تک پھیلی ہوئی ہیں جو پوری سپلائی چین میں روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہیں۔ مزید برآں زراعت بین الاقوامی تجارت کا ایک اہم جزو ہے۔ بہت سے ممالک اپنی معیشتوں کی استعداد کو بڑھانے اور بین الاقوامی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے زرعی برآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔ زرعی شعبہ غیر ملکی زرمبادلہ کمانے میں حصہ ڈالتا ہے جس سے ممالک کو ایسی اشیاء اور خدمات درآمد کرنے کا موقع ملتا ہے جو وہ مقامی طور پر پیدا نہیں کر سکتے۔بہت سے ترقی پذیر ممالک میں دیہی علاقے اپنی معاشی ترقی کے لیے زراعت پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

زرعی بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرکے حکومتیں دیہی آبادیوں کو بااختیار بنا سکتی ہیں، ان کے معیار زندگی کو بہتر بنا سکتی ہیں اور اقتصادی ترقی کے راستے فراہم کر سکتی ہیں۔ جدید زرعی تکنیکوں تک رسائی، قرضے کی سہولیات، اور منڈی کے رابطوں سے کسانوں کو ترقی مل سکتی ہے اور دیہی علاقوں میں غربت کے خاتمے میں مدد مل سکتی ہے۔ زراعت کا اندرونی طور پر ماحول سے تعلق ہے اور پائیدار کاشتکاری کے طریقے مستقبل کی نسلوں کے لیے قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے اہم ہیں۔ پائیدار زراعت پانی کے موثر انتظام، مٹی کے تحفظ، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور نقصان دہ کیمیکلز پر انحصار کم کرنے پر مرکوز ہے۔ ان طریقوں کو اپنا کر کسان اپنے ماحولیاتی اثرات کو کم سے کم کر سکتے ہیں اور ماحولیاتی نظام کی طویل مدتی بہتری کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

مزید یہ کہ زراعت موسمیاتی تبدیلیوں کو کم کرنے میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہے۔ ایگرو فارسٹری اور تحفظ زراعت جیسی کاوشیں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو الگ کرتی ہیں، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو دور کرنے اور گلوبل وارمنگ کا مقابلہ کرنے میں مدد کرتی ہیں۔ زراعت کا شعبہ بنیادی پیداوار اور مختلف منسلک صنعتوں کے درمیان ایک اہم ربط کے طور پر کام کرتا ہے۔ فارموں پر تیار ہونے والا خام مال فوڈ پروسیسنگ، ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل اور دیگر مختلف صنعتی شعبوں کی ضرورت بنتا ہے۔ مضبوط زرعی پیداواری صلاحیت اور سپلائی چین ان صنعتوں کو تقویت دیتے ہیں اور معاشی ترقی میں حصہ ڈالتے ہیں۔ زراعت نے روایتی کاشتکاری کے طریقوں سے جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے تک ایک طویل فاصلہ طے کیا ہے۔ زرعی طریقوں، درست کھیتی، جینیاتی انجینئرنگ، اور ڈیجیٹل زراعت میں پیشرفت نے پیداواری صلاحیت اور کارکردگی میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

بڑھتی ہوئی عالمی آبادی کے پیش نظر غذائی تحفظ کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے زراعت میں جدت ضروری ہے۔ زراعت کا شعبہ ہمارے معاشروں میں ایک ناگزیر مقام رکھتا ہے جس کی اہمیت فقط فصلوں کی کاشت اور جانوروں کو پالنے سے کہیں زیادہ شامل ہے۔ یہ ایک متحرک قوت ہے جو دنیا کی پرورش کرتی ہے، معاشی ترقی کو آگے بڑھاتی ہے اور اربوں لوگوں کی روزی روٹی کو سہارا دیتی ہے۔ ذرعی شعبے کی بدولت ہم ماحول کی حفاظت کرتے ہوئے بڑھتی ہوئی آبادی کا پیٹ بھرنے جیسے چیلنجوں کا مقابلہ کر رہے ہیں- آنے والے دور میں پائیدار زرعی طریقے اور اختراعات سب سے اہم ہوں گی۔زرعی شعبے کی اہمیت کو تسلیم کرکے اور اس میں سرمایہ کاری کرکے ہم زیادہ محفوظ، پائیدار، اور خوشحال مستقبل کی راہ ہموار کرسکتے ہیں۔

پاکستان کے آرمی چیف پاکستان کے تمام قومی مسائل میں گہری دلچسپی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے ملک کے اقتصادی اور دفاعی مسائل کے حل کے لیے بھی گہری وابستگی ظاہر کی۔ حال ہی میں، جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس (یو ایس) سینٹکام نے جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی کی صورتحال اور دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں نے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کی خواہش کا اعادہ کیا۔ معزز مہمان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی کامیابیوں اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کو سراہا۔

قارئین، پاکستان گرین انیشیٹو پروگرام حال ہی میں شروع کیا گیا ہے۔ پروگرام کے مطابق زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے 40 لاکھ سے زائد قابل کاشت بنجر زمین کاشت کی جائے گی، 11 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے خوردنی تیل اور غذائی اشیاء کی درآمد میں کمی کی جائے گی اور اس طرح ملک کی خوراک کو محفوظ بنایا جائے گا۔ اس اقدام کے تحت پیداواری لاگت کو کم کرنے اور مقامی کسانوں کو اچھے زرعی طریقوں کو اپنانے کی ترغیب دینے کے لیے سمارٹ زرعی طریقوں اور جدید ترین مشینری کو متعارف کرایا جائے گا۔ حکومت اس اسکیم کے تحت تقریباً 50 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی امید رکھتی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اگلے ہی روز کہا ہے کہ چین، سعودی عرب، قطر وغیرہ جیسے دوست ممالک پاکستان کو مزید قرضے دینے سے گریزاں ہیں لیکن سیاسی استحکام کی صورت میں یہاں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں تاکہ وہ کاروبار قائم کر سکیں، منافع کما سکیں اور اس عمل کے دوران مقامی آبادی کو خوشحال بنایا جا سکے۔

آرمی چیف نے بھی ملک میں زرعی انقلاب لانے کے لیے بھرپور عزم کا اظہار کیا ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف (COAS) جنرل عاصم منیر نے عوام اور حکومت کو اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے تحت ‘گرین پاکستان انیشی ایٹو’ کے آغاز سمیت تمام اقدامات کے لیے فوج کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔زراعت اور خوراک کے تحفظ کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے جنرل عاصم منیر نے پاکستانی قوم کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے اس ضرورت پر زور دیا کہ عوام مل کر ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ یہ سیمینار افتتاح شدہ لینڈ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم – سینٹر آف ایکسی لینس (LIMS-COE) کا سیکوئل تھا۔ ’گرین پاکستان انیشییٹو‘ کا مقصد غذائی تحفظ کو بڑھانا، برآمدات کو بڑھانا اور زراعت سے متعلقہ درآمدات کو کم کرنا ہے۔ آرمی چیف نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب یہاں پاکستان کو سرسبز و شاداب بنانے کے لیے جمع ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بہت نوازا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہم ایک باصلاحیت قوم ہیں، ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم مل کر اس کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔

اس مرحلے کو مکمل کرنے کے لیے پوری لگن اور دل و جان کے ساتھ ہم بطور ادارہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں۔ پاکستان کو ترقی کرنا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اسے ترقی سے نہیں روک سکتی۔ آرمی چیف نے قوم سے کہا کہ وہ مایوس نہ ہوں۔ انہوں نے قرآن پاک کی ایک آیت کا حوالہ بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان جب کسی مشکل کا سامنا کرتے ہیں تو صبر کا دامن تھامے رکھتے ہیں اور جب انہیں نعمتیں ملیں تو شکر ادا کرتے ہیں۔ جناح کنونشن سنٹر میں زراعت اور خوراک کے تحفظ کے بارے میں ہونے والے قومی سیمینار میں برطانیہ، اٹلی، سپین، چین، بحرین، قطر، سعودی عرب، ترکی اور دیگر ممالک کے غیر ملکی معززین، ممکنہ سرمایہ کاروں اور ماہرین نے بھی شرکت کی۔

پھر حال ہی میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کو بحران سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ خانیوال ماڈل ایگریکلچر فارم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ مسلح افواج کو اپنی قوم کی خدمت کرنے پر فخر ہے۔ خانیوال فارم جس کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا 2,250 ایکڑ پر مشتمل ہے۔ آرمی چیف نے کہا کہ فوج عوام سے ہے اور عوام فوج سے اور فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کو موجودہ بحران سے نکالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قابل فخر اور باصلاحیت قوم ہیں اور اپنی انتھک کوششوں سے بھیک کا کشکول پھینک دیں گے۔ ملک کے قدرتی وسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے پاکستان کو تمام نعمتوں سے نوازا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اسے ترقی سے نہیں روک سکتی۔

آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان زرعی انقلاب کی منزل ضرور حاصل کرے گا اور خانیوال جیسے ماڈل فارمز کا افتتاح پورے ملک میں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست ماں کی مانند ہوتی ہے، عوام اور ریاست کا رشتہ محبت اور احترام کا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی اور معیشت ساتھ ساتھ چلتی ہے کیونکہ سلامتی کے بغیر معیشت اور معیشت کے بغیر سلامتی ناقابل تصور ہے۔ آرمی چیف نے علامہ اقبال کا یہ شعر پڑھ کر ملک و ملت کے ہر فرد کی ملکی ترقی میں اہمیت پر زور دیا؛
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر، ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا
آرمی چیف نے یہ بھی کہا کہ چھوٹے کسانوں کو گرین انیشیٹو پروگرام سے فائدہ پہنچے گا، جس کا دائرہ پورے پاکستان میں پھیلایا جائے گا۔

قارئین، ہماری فوج اور اس کے سربراہ کو اس عظیم مقصد کے لیے پیش ہیش دیکھ کر خوشی ہوتی ہے جو بالآخر ملک کی ترقی اور خوشحالی کا باعث بنے گا۔ قوم کو یقین ہے کہ وہ دن زیادہ دور نہیں جب ان مخلصانہ کوششوں کے نتیجے میں ملک زرعی خودکفالت کے مقاصد اور اہداف حاصل کر لے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں