تحریر :-محمد سلطان
پنجاب آرٹس کونسل کے ڈرامے پر اقدامات کا علم تو پہلے سے ہی کچھ تھا مگر کورونا کے بعد حال میں میر کارواں کو نا جانے کیا سوجھی کہ اپنے موجودہ بھیس کے بر عکس ثقافت پر آئینی بالادستی کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔
ایسا جادو چلا کہ سب ششدر۔کاٹھے انگریز انگلیاں منہ میں لیے نو آبادیاتی قانون کے ساتھ کھڑے نظر آۓ۔دن رات پنجاب آرٹس کونسل کو گالیاں دینے میں وہ قلمی فنکار بھی شامل تھے جنکا رات کو دال دلیا وہاں سے چلتا تھا۔
کمشنر لاہور نے جٹ نسل کا پہرا دیا تو وہی جعلی درخواستیں تھیٹرز مالکان نے کمشنر لاہور کے خلاف دیں جسکا شکار پنجاب آرٹس کونسل کی مشہور زمانہ ایک منظم گروپ پہلے ہی ہو چکا ہے مگر وہی نہ سچ کے آگے مدعی ٹھہرا نہ پیچھے ریاست نظر آئی ۔مصیبت کا ادراک ویسے بھی فوٹو سیشنز تک محدود رہ گیا ہے۔ پنجاب آرٹس کونسل کو اندر باہر سے تو کبھی نوکر شاہی تو کبھی سیاسی سیاہی کا سامنا ھمیشہ ہی رہا۔
حاکم عموماً خود کو عقل کُل سمجھ کر مبالغہ آرائی سے زبان کو تر رکھتا ہے۔ مگر ڈاکٹر بلال حیدر نے ٹھان لی تھی کہ “اب نہیں تو کب” پنجاب کی تمام آرٹس کونسلز کے افسران نے ناقابل یقین کام کر دکھایا وہی کام جس پر ڈٹ جانے اور اپنی ٹیم کے ساتھ دوران کورونا کھڑے ہونے کا خمیازہ رضوان شریف جیسا باکردار افسر سیاسی کاسترو کے ہاتھوں بھگت چکا تھا۔
بلال حیدر کی ٹیم میں بھی عمر رسیدہ بکاؤ کردار موجود تھے جن کو مبینہ طور پر ڈرامے میں فحش گوئی کی طرفدراری پر انتظامی افسران نے اپنی گاڑی میں بیٹھا بھی لیا لیکن عین وقت پر ذاتی تعلق پر جان چھڑوائی گئی بعد ازاں وہی کردار وہاں سے لمبے عرصے تک ایڈیشنل چارج پر رہنے پر تو واپس نہ بلایا گیا مگر یہاں اب کی بار بلالیا گیا۔
سرکاری نوکری کیلئے طبعی عمر کے بعد مبینہ طور پر بھرتی ہونے والا زاہد اقبال اس کردار کا نام ہے جس کی طرفداری ہر وہ انتظامی دفتر کرتا رہا جو علتوں کا شکار ذاتی حیثیت میں رہا۔ چیف سیکرٹری دفتر ہو یا سیکرٹری دفتر ایسے غیر قانونی اشتہار پر بھرتی ہونے والے زاہد کا کچھ نہ کرسکے جہاں اشتہار میں سرکاری نوکری کرنے کی عمر 61 سال کی عمر میں بھی قانون کے مطابق لکھی گئی ہو۔
کاغذات کی ہیرا پھیری سے چیف سیکرٹری دفتر سے ایک اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو بچت کی سند ایسے لے کر دی کہ بجاۓ اسکے کہ جعلسازی پر کوئی کارروائی ہوتی چیف سیکرٹری نے اپنے دفتر سے پہلے سے طے شدہ معاملے کی پڑتال کی تاکید دوبارہ کردی۔
ڈاکٹر بلال بجاۓ اسکا علاج کرتے ،انہوں نے بلی کو چھیچھڑوں کی نگہبانی کی ذمہ داری سونپ دی- اب زاہد اقبال صدر دفتر کا ڈپٹی ڈائریکٹر ایچ آر ایڈمن ہے۔اور ذرائع کے مطابق ڈاکٹر کو آجکل پھر خودپسندی کا عارضہ لاحق ہو گیا ہے اور اس کی وجہ کیوریٹر کا زیادہ استعمال بتایا جا رہا ہے۔ یوں تو وہ ایکس کیڈر کیوریٹر ایک مناسب ماہر آدمی ہے مگر دوران ملازمت ہمیشہ ہی وہ کئی ایسی نامناسب سرگرمیوں میں ملوث رہا جو بطور سرکاری ملازم دفتری حدود میں اسے زیب نہیں دیتیں۔
اس کے قریبی دوستوں کیمطابق اختیار نے ہمیشہ کیوریٹر عتیق کی اصل خصلت کو عیاں کیا خوشنودی کی طلب اور باقی مواقعوں کی بلا روک ٹوک رسد نے اسکے فن کے ساتھ اسکے ادارے کو بھی ذلیل کروایا۔چھت سے چھلانگ مارنے کی نوبت ہو یا ڈاکٹری کے داخلے کا جھانسہ یا پھر جبلت کے ہاتھوں مجبوری ، میں کسی کو مجبور خیال کرنا یا پھر دربدری کے بعد استعفی پیش کرکے تھکن کا نوحہ پڑھنا ،
عتیق ایک ایسا کردار ہے جو آپ کو ہر مسولینی کی بغل میں یا بادشاہ کے دربار میں نظر آئیگا بس موقع،اختیار اور بدقسمتی میں فاصلہ جبلت کی واردات تک کا ہے۔ یوں تو بلال حیدر دونوں مختلف اوقات میں لاۓ گئے کرداروں کو جان سکتا تھا مگر سائنس اور پبلک پالیسی سے باہر ایک دنیا ثقافت کی بھی ہوتی ہے جہاں زبان دل کی جگہ دھڑک نہیں سکتی ایسے ہی ثقافت کی دیوار پر ثقافتی راہزن زیادہ دیر بیٹھ نہیں سکتے۔
ڈاکٹر کو شاید نظر لگ گئی ہویا پھر اگلے عہدے کا دھڑکا۔اسکی کامیابی کے لئے اسکا اپنا آپ اور ڈرامے/تھیٹر میں غیر محسوس طریقے سے اپنے ادارے کی بالادستی ہی کافی ہیں۔ اسے کسی پیر یا ندیم کی ضرورت نہیں ۔ہر وقت جتے رہنے کی عادت صاحب اختیار ذی روح کو خوشامدی افراد کے نرغے میں چھوڑ کر عموماً تخلیقی سوچ کے افراد کو آپ سے دور کر دیتی ہے۔
درباری جاہ جلال نہ کسی سائنس کا خاصہ ہے نہ ثقافت کا- نوکری کی طبعی عمر سے زیادہ کی بھرتی چاہے وہ زاہد اقبال کی شکل میں ہو ہمیشہ ذاتی لالچ کے عنصر کو تقویت دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ کم و بیش ایک ہی عمر کے عتیق و زاہد ایک گروہ بنکر آرٹس کونسل کے نظریاتی شکار پر نکلے ہیں ان کی انسانی خوبیاں ایک طرف فی الحال ایک دوسرے کے لائلپوری حوالات یاترا کے احسانات کے بدلے کی تدبیر ہو یا فحش گوئی کی طرف داری میں فنکار کا استحصال اور ذاتی مقاصد کے لیے عمر رسیدگی کے ثمرات پر نئی صف بندی۔
تھیٹر کی بحالی کے محاذ پر نکلی بلال حیدر اوراسکی ٹیم کے لیے اپنے گھر اور فکری دریچوں پر نظر نہ رکھنے کی غلطی نئے المیے کوجنم دینے جا رہی ہے۔جہاں سیکرٹری دفتر کے بھدے کردار اور تھئیٹر معافیا چند قلمی شورے لیے ڈاکٹر کی کند ذہنی کا اشتہار باہر لگا رہے ہیں اور اس میں کوئی وزیر بھی اس ناکامی یا بدقسمتی کا کریڈٹ اپنے کھاتے نہیں ڈالے گا اور شاید کسی ڈاکٹر کے بھی کانوں پر جوں تک نہ رینگے کیونکہ جس ریاستی لیب میں وہ اپنے مفروضات پر بھیس بدل کر بطور ڈاکٹر ثقافتی تجربات کررہا ہے اسے گروہی استثناء حاصل ہے تاہم جاہ و جلال کے خوف سے آزاد عوام کو اور اس کی ٹیم کواسکی ناکامی کی منادی کا پورا آئینی حق حاصل ہے۔
بس مسئلہ یہ درپیش ہے کہ بلال باہر آکر نوکری کی طبعی عمر گزرنے پر معذرت کرتے ہوۓ اکیلے اپنی ٹیم کو بھدے،لالچی،جبلتی اضطراب کے اسیروں،قلمی شوروں،گماشتوں ،میروں کے آگے غیر محفوظ چھوڑ کر روانہ ہو جائے گا یا پھر علتوں کے مارے گروہ اور جعلی مرض کا بہانہ کرنے والوں کو ان کے اصل مقام پر بھیج کر عوام اور اپنی ٹیم سے بغل گیر ہو گا۔بلال حیدر فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے اپنی ڈور کسی کے ہاتھ میں نہ رکھیں۔
نوٹ: ادارے کا مضمون نگار کی رائے سے اتفاق کرنا ضروری نہیں۔