آزادی کی ایک روح فرسا داستان

131

تحریر: عبدالغفار صابر ایڈووکیٹ
مجھے وہ گمنام مجاہدہ زیب النساء جو ہمت و استقلال کی پیکر تھی یاد آ رہی ہے جس نے آزادی کے اعلان کے ساتھ ہی اپنے پورے خاندان کو سکھ اور ہندو بلوائیوں کے نیزوں پر اچھلتے دیکھا اور خود بھی آگ اور خون کا دریا عبور کر کے زخمی حالت میں اوڑی(پونچھ) سے مہاجرین کے قافلے کے ساتھ راولپنڈی ازاں بعد مظفرآباد اور پھر باغ ہجرت کی اور تا دم مرگ ہمارے گھر کی فرد کی حیثیت اختیار کئے رکھی بالآخر وہ آزادی کی ایک خون ریز داستان دل میں لئے 25 مارچ 2019 کو اپنے شہید آباؤ اجداد سے ملنے باغ عدن جا پہنچی، اپنے دکھ، درد کریدتے ہوئے رو پڑی کہنے لگی موت میرے جیون میں غم ہی غم بھر کر اپنے حصار میں زندگی کی جانب لے گئی، آزادی کے اعلان کے ساتھ ہی آزاد گھڑی قیامت کی گھڑی بن گئی۔

ہمارے گاؤں پر ہندوؤں اور سکھ بلوائیوں نے حملہ کر دیا ہر طرف جلاؤ گھیراؤ کے ساتھ بچے، بوڑھے اور جوان موت کی وادی میں دھکیلے جا رہے تھے۔۔ ہم جان توڑ کر لڑے لیکن ہم نہتے اور ان کے پاس اسلحہ تھا میری والدہ بہن بھائی سب میری آنکھوں کے سامنے شہید ہو گئے، جبکہ میں زخمی حالت میں ناجانے کیسے گرتی پڑتی نکل گئی۔
دل نہیں تجھ کو دکھاتا ورنہ داغوں کی بہار
اس چراغاں کا کروں کیا کارِ فرماں جل گیا

کوئی نشان منزل نہ تھا رات ایک جگہ چھپ کے گزاری پو پھٹتے ہی عجب منظر آنکھوں کے سامنے تھا کٹی لاشوں کے درمیان ایک شیر خوار بچہ پڑا ہوا تھا میں اسے دیکھ ہی رہی تھی کہ ایک پھڑپھڑاہٹ نے مجھے خوفزدہ کر دیا اوپر دیکھا تو درخت پر ایک بڑا گدھ بیٹھا بچے کی موت کا انتظار کر رہا تھا وہ ہم انسانوں سے بہتر نکلا جس نے چلتی سانسوں کا احترام تو کیا، میں نے اس بچے کو اٹھایا سینے سے لگایا اور اگے چل پڑی، قافلے بھوک ننگ سے بے نیاز پاکستان کی جانب رواں دواں تھے میں بھی ایک قافلے میں شامل ہو گئی چونکہ میں خود سات آٹھ سال کی تھی اسلئے بچہ ایک دوسری عورت کے حوالے کر دیا ننگے پاؤں کی طویل پیدل مسافت کے بعد آخر کار قافلہ راولپنڈی پہنچ گیا، جہاں مجھے ہسپتال داخل کر دیا گیا دو ماہ بعد میں تندرست تو ہو گئی مگر معذوری مقدر بن چکی تھی میں دوبارہ مہاجر کیمپ آگئی لیکن مہاجر کیمپوں میں تلاش بسار کے باوجود مجھے کوئی اپنے خاندان یا گاؤں کا فرد نظر نہ آیا غالباً وہ سب کے سب شہید ہو چکے تھے۔

اسطرح جب پاکستان بنا تو اس میں لاکھوں بے گناہوں کا خون بھی شامل ہو گیا ہزاروں بچے یتیم ہو گئے بے شمار عورتیں بیوہ ہو گئیں ہزاروں مائیں اپنے بیٹوں کے غم میں بے نور ہو گئیں، بے شمار بہنوں نے اپنے بھائیوں کو اپنے سامنے شہید ہوتے دیکھا، پاکستان بہت سی قربانیوں اور دکھ جھیلنے کے بعد حاصل ہوا قوم کو اس کی بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑی ہے، لیکن ہمیں اس کی قدر نہیں ہے۔ یہاں اندھیرے سویروں سے الجھ گئے ہیں،پاکستان کی قدر زیب النساء جیسے لوگوں کو ہے کہ جنہوں نے آزادی کی راہوں میں سروں کے چراغ جلائے ہیں۔ایسی ہی قربانیوں سے نیا گلشن اور نئی زندگیاں جنم لیتی ہیں جس کا نام آذادی ہے،اور آج ہم اس کا جشن منا رہے ہیں.

پونچھ ڈویژن میں جشن آزادی جوش وخروش سے منایا گیا، اس ضمن میں سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس صاحب صدر استحکام پارٹی نےصابر شہید سٹیڈیم راولاکوٹ میں رنگا رنگ تقریبات کا انعقاد کرنے کے ساتھ ساتھ ایک بڑے جلسے کا انعقاد بھی کیا جس میں ہزاروں کے جم غفیر نے زور شور سے شرکت کی اور سردار تنویر الیاس کی بے لوث قیادت پر ہاتھ کھڑے کر کے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا گراؤنڈ میں آتش بازی کا خوبصورت نظارہ دیکھنے کو ملا سردار صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایسی تقریبات قوموں کی زندگی میں خاص اہمیّت رکھتی ہیں اس سے نہ صرف جوش جزبہ پیدا ہوتا ہے بلکہ شہدا کی قربانیوں کی یاد بھی تازہ ہو کر رہ جاتی ہے.

قوموں کی ترقی کی دوڑ میں ایسے مواقع اور تقریبات ایک ہلکا سا ٹھہراؤ لاتی ہیں جہاں قومیں ایک لمحہ کے لئے رک کر ماضی کی جدو جہد کا جائزہ اور آئندہ ملک کی سلامتی اور استحکام کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کا عہد کرتی ہیں ہمیں ایسے موقعوں پر تاریخ کو یاد رکھنا چاہیے اور اسلاف کا متعین کردہ راستہ (کشمیر بنے گا پاکستان) یا جس کی موجودہ تصوراتی صورت “ہم ہیں پاکستان” پر چلنے کا عزم کرتے ہوئے پاکستان کے جھنڈے کو ریاستی خطہ سے سرنگوں نہ ہونے دینے کا بھی عہد کرنا چاہیے تا کہ دشمن کے ناپاک عزائم غبار ہو کر رہ جائیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں