آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر کے نامور بیوروکریٹ وآئینی ماہر فرحت علی میر کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد

55

اسلام آباد(بیورورپورٹ)آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر کے نامور بیوروکریٹ وآئینی ماہر فرحت علی میر کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کیا گیا. جس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ فرحت علی میر خطہ کشمیر کے قابل فخرسپوت ہیں، انہوں نے ریاستی ڈھانچے کی بہتری میں کردار ادا کرنے سمیت ریاست کو انتظامی، مالی اور آئینی طور پر با اختیار بنانے میں اہم کردار ادا کیا. آزادکشمیر کے ایکٹ74 میں تاریخ ساز ترمیم انکی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے.

تنازعہ جموں کشمیر کے حل اور بھارت میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے اور رائے شماری کے حق کے حصول کیلئے عالمی سطح پر قانونی جنگ لڑنے کیلئے تیاری کرنا ہو گی۔ایکٹ 74 میں تیرویں ترمیم کے بعد اب تحریک آزادی کشمیر پر کام کرنا حکومت آزادکشمیر کی ذمہ داری بھی بن چکا ہے. حکومت آزادکشمیر کمشنر رائے شماری تعینات کرے اور قومی و بین الاقوامی فورمز پر کشمیریوں کیلئے آواز بلند کرے۔ تقریب سے حریت رہنماء الطاف احمد بٹ، سابق ڈپٹی سپیکر شاہین کوثر ڈارتقریب کے میزبان و معروف کاروباری شخصیت شفیق احمد بٹ، کمشنر ایف بی آر عباس میر،ڈائیریکٹر جنرل وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات سردار طارق، سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل آف پاکستان راجہ خالد محمود، ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفرعباسی، تحریک آزادی کے رہنماء مسعود سرفراز، صدیق راٹھور، انعام مسعودی،سردار وقاص جاوید، راجہ ساجد رفیق، عمران علی چوہدری، خواجہ سجاد ایڈووکیٹ، ملک حسیب ایڈووکیٹ،سیکرٹری جنرل نیشنل پریس کلب اسلام آباد راجہ خلیل، سینئر صحافیوں غلام محی الدین ڈار، محمد اسلم میر، سید خالد گردیزی، شہزاد خان،سردار عبدالحمید، راجہ بشیر عثمانی،کاشف میر و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریٹائرڈ ایڈیشل چیف سیکرٹری و بانی چیئرمین سی بی آر فرحت علی میر نے کہا کہ جب ہم نے سول سروس کا آغاز کیا تو اس وقت کی قیادت نے ہمیں ملازمت سے زیادہ عوامی خدمت کرنے پر زور دیا، ریاست میں تعمیر و ترقی کی اہمیت اپنی جگہ لیکن ہمیں سکھایا گیا کہ ہم سب کا اصل ہدف مقبوضہ جموں کشمیر کی آزادی لینا ہے، ہم مشنری جذبے کو لیکر آگے بڑھے اور حکومت کی طرف سے جو بھی ذمہ داریاں دی گئیں ان پر پورا اترنے کی کوشش کی، فرحت علی میر نے کہا کہ دنیا میں ایک واحد ملک پاکستان اور اسکی عوام ہے جو گزشتہ 7 دہائیوں ے کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں.

پاکستان نے تین بڑی جنگیں کشمیریوں کی خاطر لڑی، اپنی تعمیر و ترقی پر کمپرومائز کیا لیکن کشمیریوں کا ساتھ نہیں چھوڑا، فرحت علی میر نے کہا کہ معاہدہ کراچی پر سردار ابراہیم خان کے دستخط بلکل اصلی ہیں، اس معاہدے کی وجہ سے ہی آج تک گلگت بلتستان ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ بھی کشمیر کی باقی ریاستوں کے ساتھ رائے شماری کے ذریعے ہونا باقی ہے، 1970 میں ہمارے سردار ابراہیم خان، کے ایچ خورشید، سردار عبدالقیوم خان و دیگر سیاسی قیادت کے سیاسی ویثرن کے تحت حکومت پاکستان نے اس خطے کو دفاع، خارجہ و کرنسی کو چھڑ کر باقی تمام اختیارات سونپ دیئے، یہ اختیارات محض چار سال بعد واپس لے لیے گئے، 56 ایسے موضوع تھے جن پر آزادکشمیر کی منتخب حکومت کو قانون سازی کا اختیار نہ تھا بلکہ ایکٹ 74 لایا گیا توآزادکشمیر اسمبلی کے مقابلے میں جموں کشمیر کونسل بنائی گئی جو اپنی مرضی سے قانون سازی بھی کرتی رہی اور اس خطے سے ٹیکس جمع کرتی جبکہ آزادکشمیر حکومت کے اہم عہدیدار اپنے حکومتی اخراجات پورے کرنے کیلئے کونسل کے چکر لگاتے تھے.

ہمارے ہی جمع کردہ ٹیکس کی رقم بروقت واپس نہیں دیئے جاتے تھے. حکومت بنکوں سے اوررڈرافٹ لینے پر مجبور ہوتی تھی. آزادکشمیر کے لوگوں کے ٹیکس کے اربوں روپے وفاقی وزیر امور کشمیر اپنے حلقوں میں خرچ کرتے تھے، کونسل جو قانون سازی کرتی اس کی کاپی تک آزادکشمیر حکومت کو نہ دیتی تھی. کونسل سے اختیارات واپس لینے کیلئے سردار سکندر حیات خان سے لیکر راجہ فاروق حیدر خان تک سب نے اپنے تئیں کاوشیں کی، ایکٹ 74 میں ترمیم اور آزادکشمیر حکومت کو باختیار بنانے کا اصل سہرہ سابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کو جاتا ہے، پھر ا س وقت کی آزادکشمیر حکومت اور اسکی قیادت راجہ فاروق حیدر اور دیگر سیاسی قیادت کا بھی اس اہم ترمیم میں انتہائی مثبت کردار رہا۔

تیرویں آئینی ترمیم کیلئے ڈرافٹ تیار کرنے اور وفاقی بیوروکریسی اور دیگر اہم سٹیک ہولڈرز سے اس پر مشاورت کرنے کی جو مجھے ذمہ داری دی گئی اس کو پورا کرنا میرا فر ض تھا، سول سروس میں ایسے مواقع بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتے ہیں کہ اس کردار اہم کردار نبھانا ہو جس سے ریاست اور ریاست کے لوگوں کی امیدیں جڑی ہوں۔ الحمداللہ تیرویں آئینی ترمیم کی وفاقی کیبنٹ سے منظوری مسلم لیگ ن حکومت کے آخری دن ہوئی، اس منظوری کے بعد آزادکشمیر اسمبلی نے اس آئینی ترمیم کو منظور کیا تو ریاست ہر لحاظ سے با اختیار ہو گئی.

موجودہ اورآنے والی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست کے اختیارات پر کمپرومائز نہ کریں۔ جموں کشمیرسالوییشن مومنٹ کے سربراہ الطاف احمد بٹ نے کہا کہ لاکھوں کشمیریوں نے بھارت سے آزدی کیلئے قربانیاں دیں اور اس وقت بھی آزادی کی جدوجہد میں مصروف ہیں، ہم پوری دنیا میں جا کر کشمیریوں کی آزادی کی آواز بلند کر رہے ہیں، یہ ہماری ذمہ داری ہے کیونکہ ہم نے مقبوضہ کشمیر سے ہجرت بھی اسی مقصد کیلئے کی تھی، بھارت نے عالمی سطح پر اپنا اثر رسوخ استعمال کیا ہے کہ وہ بھارت پر اپنے 76 سالہ قبضے اور اگست 2019 کے آئینی قبضے کو تسلیم کرا لے لیکن یہ کشمیریوں کی قربانیوں کا صلہ ہے کہ عالمی برادری نے اس قبضے کو آج تک تسلیم نہیں کیا، حکومت پاکستان، آزادکشمیر حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور تحریک آزادکشمیر کیلئے مزید موثر کردار ادا کرے۔

بیس کیمپ حکومت پوری دنیا میں موجود کشمیرکیلئے موثر کام کرنے والوں کی قانونی، مالی اور اخلاقی مدد کرے تو دنیا میں بھارت اقدامات کے خلاف مہم مزید تیز ہو سکتی ہے اور رائے شماری کرانے کیلئے بھارت پر دباو بھی بڑھے گا، الطاف بٹ نے کہا کہ بھارتی حکومت آزادکشمیر پر قبضے کیلئے موقع کی تلاش میں ہے، سیز فائز لائن پر سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں، ا صورتحال کا ہمیں نوٹس لینا ہو گا، بھارت یہ یاد رکھے کہ وہ 76 سال مظالم کر کے کشمیریوں کو نہ دبا سکا اور جھکا سکا اس لیے آزادکشمیر پر قبضے کا خواب چھوڑ دے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق ڈپٹی اتارنی جنرل آف پاکستان راجہ خالد محمود نے کہا کہ تیرویں آئینی ترمیم کی منظوری میں فرحت علی میر کا کردار مثالی تھا، وفاقی کیبنٹ مسودے کی منظوری کرنے والا تھا کہ ہائی کورٹ سے اس پر اسٹے حاصل کر لیا گیا تب ہم نے یہاں اپنی ذمہ داریاں ادا کیں اور اس اسٹے کو خارج کرایا، ترمیم کا مسودہ وفاقی کابینہ سے منظور کرانا ایک بڑا چیلنج تھا جس کو فرحت علی میر اور اس وقت کی سیاسی قیادت نے بخوبی پورا کیا، ریاست کی بہتری کیلئے ایسے افراد کا کردار مشعل راہ ہے، اب ہم نے ملکر جموں کشمیر کے مسئلے کے حل کیلئے کام کرنا ہے۔

کمشنر ایف بی آر عباس میر نے کہا کہ فرحت علی میر کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں قابل تائش ہیں، ایف بی آر میں رہتے ہوئے کئی معاملات میں ہم ان سے رہنمائی لیتے ہیں،یہ ان کی قابلیت کا ثبوت ہے کہ آج مختلف شعبہ جات کے ممتاز افراد ان کے اعزاز میں منعقد تقریب میں شریک ہی۔ تقریب کے میزبان شفیق احمد بٹ نے کہا کہ فرحت علی میر جیسے لوگ معاشرے کا اثاثہ ہیں، انکی خدمات کے اعتراف میں آ ج یہاں سب کو مدعو کیا گیا ہے اور آ ج کا اجتماع ثابت کرتا ہے کہ جو لوگ اپنی سروس یا انے پیشے میں نمایاں کام کرتے ہیں، سوسائیٹی انکی قدر کرتی ہے، ہم نے اب ملکر ریاست میں بے روزگاری کو کم کرنے پر بھی توجہ دینا ہے، جموں کشمیر کی آزادی کی تحریک کو بھی آگے بڑھانا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں