آزاد کشمیرمیں معاشی ترقی کاخواب

59

تحریر:مظہراقبال مظہر
آزاد کشمیر، دلکش مناظر اور بھرپور ثقافتی ورثے کا حامل خطہ، طویل عرصہ سے معاشی چیلنجوں سے نبرد آزما رہا ہے۔ خاص طور پر اپنے رہائشیوں کے لیے آمدنی کے وسیع مواقع فراہم کرنے میں اس خطے کو آج بھی بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے۔ قدرتی حسن اور قدرت کے ہی ودیعت کردہ وسائل کے باوجود آزاد کشمیر کے لوگوں کے لیے آمدنی پیدا کرنے کے محدود مواقع میں کئی عوامل کارفرما ہیں۔ایک مضبوط بنیادی ترقیاتی ڈھانچے کی غیر موجودگی میں یہاں ترقی کے حوالے سے بے شمار مسائل سالہا سال سے موجود ہیں۔ دُور دراز اور ناقابل رسائی علاقوں میں کام کاج اور کاروبار کے لیے نوجوانوں کو کٹھن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ جس سے اقتصادی ترقی اور آمدنی پیدا کرنے کے مواقع محدود ہوجاتے ہیں۔ نقل و حمل اور مواصلات کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا ممکنہ طور پر اقتصادی سرگرمیوں کے لیے نئی راہیں کھول سکتا ہے۔آزاد کشمیر نے بنیادی طور پر زراعت اور ملازمتوں پر انحصار کیا ہے جبکہ یہاں دیگر صنعتوں میں تنوع کا فقدان ہے۔ محدود صنعتی ترقی کا مطلب مقامی آبادی کے لیے کم روزگار کے مواقع اور آمدنی کے ذرائع ہیں۔ سیاحت، ٹیکنالوجی اور خدمات جیسی متنوع صنعتوں کی ترقی کی حوصلہ افزائی سے معاشی بنیاد وسیع ہو سکتی ہے اور مزید ملازمتیں پیدا ہو سکتی ہیں۔

اعلٰی معیار کے تعلیمی اداروں اور پیشہ ورانہ تربیت کے مراکز کی کمی کے نتیجے میں مختلف صنعتوں کے لیے درکار مہارتوں میں یہاں اضافہ نہیں ہو پایا ہے۔ آمدنی پیدا کرنے کے مواقع کو بڑھانے کے لیے، تعلیم اور تربیتی پروگراموں میں ہدفی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے جو جاب مارکیٹ کے بدلتے ہوئے مطالبات کے مطابق ہوں۔خطے کی سیاسی صورت حال بھی کسی حد تک معاشی عدم استحکام، ممکنہ سرمایہ کاروں کو روکنے اور اقتصادی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا باعث بنتی رہی ہے ۔ سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے ایک مستحکم سیاسی ماحول بہت ضروری ہے۔یہاں سیاسی استحکام کو یقینی بنانے کی اشد ضرورت ہے ۔دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی انسانی سماج ترقی کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے وہاں سیاسی استحکام اس کی اساس کے طور پر ابھر کر سامنے آتاہے۔
مالیاتی اداروں کی ادارہ جاتی مضبوطی اور عوام تک آسان رسائی بھی معاشی ترقی کے لیے ایک بنیادی عنصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قرضوں کی سہولیات سمیت مالی وسائل تک رسائی کی کمی آزاد کشمیر میں کاروباری سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ نئے رجحانات کے حامل مالیاتی اداروں کا قیام یا موجودہ اداروں کو بہتر بنانا افراد کو کاروبار شروع کرنے اور آمدنی پیدا کرنے والی سرگرمیاں شروع کرنے میں مدد دے سکتاہے۔

معاشی ترقی کا خواب جاگتی آنکھوں سے دیکھنے کے لیے حکومتی تعاون بہت ضروری ہے۔ اس کے لیے آزاد کشمیر میں ٹارگٹڈ پالیسیوں اور ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو انٹرپرینیورشپ، روزگار کی ترویج اور پائیدار ترقی کو فروغ دے سکیں۔ حکومت کے فعال اقدامات معاشی منظر نامے میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔ آزاد کشمیر کو اپنے لوگوں کے لیے آمدنی پیدا کرنے کے خاطر خواہ مواقع فراہم کرنے میں جن چیلنجز کا سامنا ہے، ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک جامع اور مربوط پروگرام کے تحت نجی سرمایہ کاروں اور حکومتی اداروں کے مابین باہمی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔طویل عرصہ سے یہاں ملازمتوں کے اوپر اٹھنے والے اخراجات ترقیاتی اور غیر ترقیاتی اخراجات کےدرمیان عدم توازن کا باعث بن چکے ہیں۔ سیاسی مجبوریوں اور ضرورتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے فرسودہ اور غیرپیداواری شعبوں کی ملازمتوں کو سرکاری خزانے پر بوجھ بنا کررکھنے سے ترقی معکوس کا عمل جاری رہنے کا امکان ہے۔ جب تک یہاں بنیادی ڈھانچے، تعلیم اور متنوع صنعتوں میں اسٹریٹجک سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ سیاسی استحکام اور موثر حکومتی پالیسیوں کے درمیان توازن نہیں قائم ہوتا آزاد کشمیر معاشی ترقی اور خوشحالی کی نئی راہوں پر گامزن ہونے سے محروم ہی رہے گا۔

اگلی دہائی میں آزاد کشمیر کی ترقی کے لیے ایک جامع اور پائیدار نقطہ نظر پر سختی سے عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔آزادکشمیر کے حکمرانوں کووفاقی حکومت کی طرف دیکھنے کے بجائے ایک ایسا معاشی پلان ترتیب دینا ہو گا جو معاشی، سماجی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے مختلف پہلوؤں کو حل کرسکے معاشی رابطوں کو بڑھانے کے لیے یورپ کے اکثر ممالک بہترین انفراسٹریکچر کی وجہ سے نقل وحمل پر اٹھنے والے اخراجات کم کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ آزادکشمیر کے عوام آج بھی معیاری سڑکوں اور ریلوے جیسے نظام سے محروم ہیں۔ یہاں گھریلو ضروتوں کے لیے آج بھی قدرتی گیس اور توانائی کے دوسرے ذرائع کا حصول ایک خواب لگتا ہے۔ مقامی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے اور ممکنہ طور پر اضافی توانائی برآمد کرنے کے لیے قابل تجدید توانائی کے ذرائع، جیسے ہائیڈرو پاور میں سرمایہ کاری بھی ضروری ہے۔ مواصلاتی رابطے کو بہتر بنانے اور ڈیجیٹل سہولیات کو آسان بنانے کے لیے ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ یہاں سیاحوں کے لیے موزوں انفراسٹرکچر تیار کر کے اور ثقافتی ورثے کی نمائش کر کے سیاحت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

اسی طرح معیشت کو متنوع بنانے اور اعلیٰ ہنر مند ملازمت کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ٹیکنالوجی سے چلنے والی صنعتوں اور خدمات کے شعبوں کی ترقی کی حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے۔ ہنر مندی کے فرق کو پر کرنے کے لیے پیشہ ورانہ تربیتی مراکز قائم کیے جاسکتے ہیں۔ تاکہ ابھرتی ہوئی صنعتوں کی ضروریات کے مطابق انسانی سرمایہ میسر آسکے۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں کو مضبوط بنایا جائے تو ایک ہنر مند افرادی قوت پیدا کی جا سکتی ہے جو متنوع شعبوں میں حصہ ڈالنے کے قابل ہوگی۔ مقامی کسانوں کی پیداواری صلاحیت اور آمدنی بڑھانے کے لیے جدید زرعی تکنیک اور ٹیکنالوجیز متعارف کی جاسکتی ہیں۔ چین ، یورپ اور دیگر ممالک سے برآمدات کے بجائے فوڈ پروسیسنگ کی صنعتوں کو سپورٹ کرتے ہوئے زراعت میں ویلیو ایڈیشن کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ اس طرح اضافی آمدنی کے ذرائع پیدا ہونگے۔
قدرتی ماحول کے تحفظ اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے اقدامات کو نافذ کیا جانا چاہیے۔ اور ماحولیاتی اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے صاف اور پائیدار توانائی کے ذرائع کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں لوکل کمیونٹیز کو بااختیار بنانے اور انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنے کے لیے باقاعدہ قانون سازی کی گئی ہے۔ اس ضمن میں آزاد کشمیر میں بھی مقامی گورننس کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں