تحریر: راجہ خالد محمود خان
آزاد کشمیر کی سیاست ایک ایسے نازک موڑ پر آن کھڑی ہے جہاں اقتدار کا کھیل قومی مفاد، اصولوں، اور عوامی خدمت سے بہت آگے نکل چکا ہے۔ یہاں نظریات کے نام پر مفادات کی سوداگر منڈیاں سجتی ہیں، اور سیاست ایک مقدس مشن کے بجائے ذاتی کاروبار بن چکی ہے۔اقتدار کی جنگ اصول پس پشت ہر انتخاب کے بعد وہی مناظر دہرائے جاتے ہیں: وفاداریاں بدلتی ہیں، جماعتیں ٹوٹتی ہیں، اور ضمیر نیلام ہوتے ہیں۔ “لوٹا کریسی” اس خطے کے سیاسی منظرنامے کا مستقل عنوان بن چکی ہے۔ کل کے مخالف آج کے اتحادی بن جاتے ہیں، اور عوام کا مینڈیٹ اقتدار کے سودے میں گم ہو جاتا ہے۔خفیہ ہاتھوں کی مداخلت آزاد کشمیر کی سیاست کا سب سے تاریک پہلو وہ پوشیدہ قوتیں ہیں جو اقتدار کے توازن کو اپنی مرضی سے ترتیب دیتی ہیں۔ حکومتیں بنوانا اور گرانا، اسمبلی توڑنا، ارکان کو خریدنا، وفاداریاں تبدیل کروانا یہ سب ایک منظم کھیل کا حصہ ہیں جس میں عوامی اعتماد بار بار پامال ہوتا ہے۔
پاکستانی سیاسی جماعتوں کی دخل اندازی:اسلام آباد کی بڑی جماعتیں مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف سب نے اپنی باری پر آزاد کشمیر کو سیاسی تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کیا۔ ان جماعتوں کی مداخلت نے نہ صرف مقامی قیادت کی خودمختاری کو مجروح کیا بلکہ ریاستی وقار اور خود داری کو بھی زک پہنچائی۔ آج مظفرآباد کے فیصلے اسلام آباد کے اشاروں پر ہوتے ہیں، اور یہ صورتِ حال ریاست کی داخلی کمزوری کی علامت ہے۔نا اہل قیادت، کرپشن اور عوام مایوسی:اس لوٹا کریسی، نا اہل قیادت، اور بدعنوان نظام نے عوام کے اندر شدید مایوسی پیدا کر دی ہے۔ نوجوان روزگار کے متلاشی ہیں، تعلیم یافتہ طبقہ بے سمت ہے، اور معیشت جمود کا شکار ہے۔ ترقیاتی منصوبے صرف کاغذوں میں موجود ہیں، جبکہ دیہی علاقوں میں پسماندگی اور احساسِ محرومی بڑھتا جا رہا ہے۔
ریاست میں تعمیر و ترقی کا فقدان اس قدر شدید ہے کہ آج ہر شعبہ زندگی تعلیم، صحت، روزگار، معیشت مکمل طور پر ناکامی کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ عوام کا نظام پر اعتماد ختم ہو چکا ہے اور عدم تحفظ کا احساس ہر دل میں گھر کر چکا ہے۔ریاستی رٹ کا کمزور ہونا اور قیادت کا اخلاقی زوال:جب اقتدار کی دوڑ میں اصول قربان ہوں، جب قیادت خود اپنے وقار اور خودداری کا سودا کرے، تو ریاست کی رٹ لازماً کمزور پڑتی ہے۔ ادارے غیر مؤثر ہو جاتے ہیں، قانون صرف کمزور پر لاگو ہوتا ہے، اور کرسی بچانے کے لیے ہر سودے کو “سیاسی حکمتِ عملی” کا نام دیا جاتا ہے۔ یہی روش اس خطے کی بدحالی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔مستقبل کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں۔آزاد کشمیر کا المیہ یہ بھی ہے کہ یہاں مستقبل کے لیے کوئی سنجیدہ منصوبہ بندی موجود نہیں۔ تعلیم اور روزگار کے میدانوں میں کوئی واضح وژن نہیں، نوجوان نسل کو کوئی سمت نہیں دی جا رہی، اور بجائے اس کے کہ قیادت ریاست کی ترقی کے لیے روڈ میپ دے، وہ اقتدار کی بندر بانٹ میں مصروف ہے.
نجات کا راستہ خود احتسابی یہ صورتِ حال تب تک نہیں بدلے گی جب تک عوام اپنے ووٹ کی حرمت کو نہیں پہچانتے، اور ضمیر فروش سیاست دانوں کو ہمیشہ کے لیے مسترد نہیں کرتے۔ریاست کو بچانے کے لیے ایک نظریاتی، بااصول اور خوددار قیادت کی ضرورت ہے جو اسلام آباد کی مداخلت سے آزاد ہو، اور کشمیری عوام کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا حوصلہ رکھتی ہو۔جب تک قیادت کو کرسی سے زیادہ کردار عزیز نہیں ہوگا، تب تک آزاد کشمیر میں اقتدار کا یہ بھیانک کھیل جاری رہے گا، اور یہ خطہ اپنے ہی نام کی “آزادی” کے معنی تلاش کرتا رہے گا۔