مظفرآباد(سٹیٹ ویوز)آزاد کشمیر میں پیداواری سیکٹر کے لیے مختص بجٹ کرپشن کی نظر.محکمہ لائیو سٹاک میں بڑے پیمانے پر کرپشن۔گزشتہ پانچ سالوں سے لوگوں کو مرغیاں فراہمی کا منصوبہ صرف فائلوں کی حد تک محدود۔ مانک پیاں سرکاری پولٹری فارم کے پیداواری یااعدادوشمار کی تصدیق سے کرپشن بے نقاب۔ فرضی لوگوں کا ڈیٹا مرتب کر کے فائل ورک پورا کیا گیا جبکہ حقیقت میں کسی بھی شخص کو مرغیاں فراہم نہیں کی گیں۔ محکمہ لائیو سٹاک اینڈ پولٹری ڈویلپمنٹ کے 70فیصد آفیسران کے اپنی پرائیویٹمظفرآباد(سٹیٹ ویوز)آزاد کشمیر میں پیداواری سیکٹر کے لیے مختص بجٹ کرپشن کی نظر۔
محکمہ لائیو سٹاک میں بڑے پیمانے پر کرپشن۔گزشتہ پانچ سالوں سے لوگوں کو مرغیاں فراہمی کا منصوبہ صرف فائلوں کی حد تک محدود۔ مانک پیاں سرکاری پولٹری فارم کے پیداواری یااعدادوشمار کی تصدیق سے کرپشن بے نقاب۔ فرضی لوگوں کا ڈیٹا مرتب کر کے فائل ورک پورا کیا گیا جبکہ حقیقت میں کسی بھی شخص کو مرغیاں فراہم نہیں کی گیں۔ محکمہ لائیو سٹاک اینڈ پولٹری ڈویلپمنٹ کے 70فیصد آفیسران کے اپنی پرائیویٹ ویٹرنری سٹورز اور پرائیویٹ پولٹری فارمز موجود ہیں۔ جبکہ اپنی فارمز نہیں ہیں انکا پرائیویٹ فارم کے مالکان سے کنٹریکٹ ہے۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ لائیو سٹاک اور پولٹری ڈویلپمنٹ جو کہ دودھ، گوشت اور انڈوں کی پیدوار کے لیے قائم کیا گیا تھالیکن یہ محکمہ اپنے قیام کے بنیادی مقصد کو حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔
حال ہی میں پولٹری کے شعبہ میں بڑی کرپشن سامنے آنے کا انکشاف ہوا ہے۔ ضلع مظفرآباد میں محکمہ کے زیر اہتمام قائم واحد پولٹری فارم مانکپیاں میں عوام کو مرغیاں فراہم کرنے کا جملہ ڈیٹا فرضی نکلا۔ فایل میں جن لوگوں کے نام اور ٹیلی فون نمبرز درج کیے گے ہیں وہ سب فرضی ہیں۔ محکمہ کے ذمہ داران نے اپنے پرایویٹ پولٹری سٹورز قایم کر رکھے ہیں۔ جہاں فارم پر نکلانے جانے والے چوزوں کے لیے خرید کردہ ادویات اور فیڈ فروخت کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ مانکپیاں فارم کے انچارج کے پرایویٹ فارم مالکان سے کنٹریکٹ ہے جہاں پر فیڈ چوزے اور ادویات رات بیچ دی جاتی ہیں۔ جبکہ فیس سیونگ اور ادویات، ویکسین اور فیلڈ کے پیسے بچانے کے لیے صرف ایک روز کا چوزہ بیچ دیا جاتا ہے جو کہ فارمرز کے پاس جا کر چند ہی روز میں مر جاتا ہے۔
اس بڑی کرپشن کی تاحال کوی تحقیقات نہ ہو سکی ہیں کیونکہ انچارج پولٹری فارم ارباب اختیار کو بھی فرغیاں اور انڈے انکے گھروں تک پہنچا کر انکا منہ بند کروا دیتا ہے۔ زمیندارن کا اظہار ہے کہ اس سلسلہ میں وزیراعظم آزادکشمیر اور چیف سیکرٹری اعدادوشمار ملاحظہ کریں اور محکمہ کے ریکارڈ کی فزیکل ویریفیکشن کروانے کے ساتھ ساتھ جن آفیسران کے اپنے ذاتی پولٹری سٹورز اور پولٹری فارمز ہیں انکی بھی جھان بین کریں اور اصل حقائق عوام کے سامنے لاتے ہوے ذمہ داران کے خلاف کارروای کریں۔ بصورت دیگر پیدواری سیکٹر میں دیا جانے والا خطیر بجٹ اسی طرح محکمہ سے آفیسران کی تجوریوں میں منتقل ہوتا رہے ہیں ویٹرنری سٹورز اور پرائیویٹ پولٹری فارمز موجود ہیں۔ جبکہ اپنی فارمز نہیں ہیں انکا پرائیویٹ فارم کے مالکان سے کنٹریکٹ ہے۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ لائیو سٹاک اور پولٹری ڈویلپمنٹ جو کہ دودھ، گوشت اور انڈوں کی پیدوار کے لیے قائم کیا گیا تھالیکن یہ محکمہ اپنے قیام کے بنیادی مقصد کو حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔
حال ہی میں پولٹری کے شعبہ میں بڑی کرپشن سامنے آنے کا انکشاف ہوا ہے۔ ضلع مظفرآباد میں محکمہ کے زیر اہتمام قائم واحد پولٹری فارم مانکپیاں میں عوام کو مرغیاں فراہم کرنے کا جملہ ڈیٹا فرضی نکلا۔ فایل میں جن لوگوں کے نام اور ٹیلی فون نمبرز درج کیے گے ہیں وہ سب فرضی ہیں۔ محکمہ کے ذمہ داران نے اپنے پرایویٹ پولٹری سٹورز قایم کر رکھے ہیں۔ جہاں فارم پر نکلانے جانے والے چوزوں کے لیے خرید کردہ ادویات اور فیڈ فروخت کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ مانکپیاں فارم کے انچارج کے پرایویٹ فارم مالکان سے کنٹریکٹ ہے جہاں پر فیڈ چوزے اور ادویات رات بیچ دی جاتی ہیں۔ جبکہ فیس سیونگ اور ادویات، ویکسین اور فیلڈ کے پیسے بچانے کے لیے صرف ایک روز کا چوزہ بیچ دیا جاتا ہے جو کہ فارمرز کے پاس جا کر چند ہی روز میں مر جاتا ہے۔
اس بڑی کرپشن کی تاحال کوی تحقیقات نہ ہو سکی ہیں کیونکہ انچارج پولٹری فارم ارباب اختیار کو بھی فرغیاں اور انڈے انکے گھروں تک پہنچا کر انکا منہ بند کروا دیتا ہے۔ زمیندارن کا اظہار ہے کہ اس سلسلہ میں وزیراعظم آزادکشمیر اور چیف سیکرٹری اعدادوشمار ملاحظہ کریں اور محکمہ کے ریکارڈ کی فزیکل ویریفیکشن کروانے کے ساتھ ساتھ جن آفیسران کے اپنے ذاتی پولٹری سٹورز اور پولٹری فارمز ہیں انکی بھی جھان بین کریں اور اصل حقائق عوام کے سامنے لاتے ہوے ذمہ داران کے خلاف کارروای کریں۔ بصورت دیگر پیدواری سیکٹر میں دیا جانے والا خطیر بجٹ اسی طرح محکمہ سے آفیسران کی تجوریوں میں منتقل ہوتا رہے ہیں