آزاد کشمیر کی سیاست: مسلم لیگ (ن) کی مضبوطی اور قومی بیانیے کی بحالی

44

کالم نگار: سید فرقان حیدر گردیزی
ہزار طوفان ہوں، آندھیاں بھی چلتی رہیں
قدم جمائے رکھو، جُرأتوں سے بات بنے
آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال میں پاکستان مسلم لیگ (ن) بلاشبہ سب سے بڑی اور منظم سیاسی قوت کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ اس جماعت کو فعال، مربوط اور سیاسی طور پر مستحکم بنانے میں سب سے اہم کردار موجودہ صدر آزاد کشمیر شاہ غلام قادر کا ہے، جنہوں نے نیلم سے لے کر میرپور تک جماعت کو نہ صرف منظم کیا بلکہ ایک فعال تنظیمی ڈھانچہ تشکیل دیا۔شاہ غلام قادر کی ترقیاتی سوچ کوئی دعویٰ نہیں بلکہ ایک زمینی حقیقت ہے، جس کی روشن مثال نیلم ویلی کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ یہ وہ علاقہ تھا جہاں کبھی بغیر جیپ یا فور بائی فور کے جانے کا تصور بھی محال تھا، لیکن آج وہی راستے عام گاڑیوں سے طے ہو رہے ہیں۔

سڑکوں کا جال، بے شمار لنک روڈز، نئے اسکولز اور ڈسپنسریاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ شاہ غلام قادر صرف باتیں نہیں کرتے بلکہ عملی اقدامات پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کی قیادت میں تعمیر و ترقی ایک خواب نہیں، ایک حقیقت بن چکی ہے۔جو ترقی نیلم ویلی میں ہوئی ہے مسلم لیگ ن کا کارکن اباد کشمیر کے ہر کونے میں اس طرح روڈوں کے جال اور ترقی دیکھنا چاہتا ہے.شاہ غلام قادر کا کارکنان سے براہِ راست رابطے میں رہنا، انہیں مشاورتی عمل میں شامل کرنا، اور ان کے مسائل کو ترجیح دینا ان کی قیادت کا خاصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کارکنان ان پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں اور جماعت کے ساتھ مضبوطی سے جُڑے ہوئے ہیں۔

یہ صرف شاہ غلام قادر کی ولولہ انگیز قیادت کا نتیجہ ہے کہ بالخصوص راولاکوٹ جیسے حساس علاقے میں، جہاں کبھی یہ کہا جاتا تھا کہ کوئی پاکستان کا نام لینے والا نہیں، وہاں انہوں نے ایک مختصر کال پر تاریخی پروگرام منعقد کر کے ثابت کر دیا کہ جب قیادت باوقار، حاضر اور مخلص ہو، تو عوام خود جُڑ جاتے ہیں۔ یہ پروگرام اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ وہ اس وقت آزاد کشمیر میں موجود سیاسی خلا کو بخوبی پُر کر رہے ہیں۔مسلم لیگ (ن) نے حالیہ دنوں میں کئی کامیاب پروگرامز کا انعقاد کیا، جن میں مظفرآباد میں ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی کا مؤثر اجتماع، وزیر امورِ کشمیر کی آمد پر بیرسٹر افتخار گیلانی کی قیادت میں تاریخی جلسہ، نیلم کے اپر حلقے میں شاندار پروگرام، اور ہٹیاں میں فقیدالمثال استقبال شامل ہیں۔ ان سرگرمیوں میں کارکنان کی متحرک شرکت نے واضح کیا کہ جماعت ایک بار پھر اپنی بھرپور طاقت کے ساتھ عوامی سطح پر متحرک ہو چکی ہے۔

اسی طرح، کھڑی شریف میں چوہدری رُخسار، چوہدری سعید اور چوہدری طارق فاروق کی قیادت میں منعقد ہونے والا تاریخی جلسہ، اور چوہدری محسن عزیز کی قیادت میں حویلی کوہٹہ کا عظیم الشان اجتماع عوامی جوش و خروش کی بہترین مثالیں ہیں۔ پانچ گھنٹے شدید دھوپ اور گرمی میں عوام کا ڈٹے رہنا اس بات کا عملی اظہار ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) کو ہی اپنا سیاسی مستقبل سمجھتے ہیں۔2021 کے انتخابات کے بعد بھی مسلم لیگ (ن) نے اپنی تنظیم کو مضبوط رکھا۔ پارٹی کے بیشتر امیدوار محض چند ہزار ووٹوں سے ہارے، یعنی ہر حلقے میں مضبوط وننگ ہارس موجود ہے۔ ایسے میں پارٹی کو نئے چہروں کی ضرورت نہیں، بلکہ وہی پُرانے اور وفادار امیدوار آج بھی عوامی حمایت کے ساتھ کھڑے ہیں۔

دوسری طرف، پیپلز پارٹی اندرونی انتشار کا شکار ہے . یاسین گروپ، فیصل راٹھور گروپ، لطیف اکبر گروپ، اور اب تنویر الیاس کی پیپلز پارٹی میں شمولیت نے گروہ بندی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اگر بیرسٹر سلطان گروپ بھی شامل ہوا تو کئی سابقہ امیدواروں کو نظرانداز کرنا ممکن نہ ہوگا، جس سے پارٹی کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ان حالات میں آزاد کشمیر کا ووٹ بینک مسلم لیگ (ن) کی طرف راغب ہو رہا ہے، اور جماعت کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔اسی تناظر میں اگر پاکستان کی موجودہ سیاست اور صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو محترمہ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت تمام صوبوں پر برتری حاصل کرتی نظر آتی ہے۔ ترقیاتی منصوبے، عوامی فلاح کے پروگرامز، انفراسٹرکچر میں بہتری، اور تجاوزات کے خلاف مؤثر آپریشن نے عوام میں اطمینان اور اعتماد پیدا کیا ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام بھی چاہتے ہیں کہ یہاں اسی طرز کی ترقی ہو — اور یہی وژن مسلم لیگ (ن) کا منشور ہے، جو آزاد کشمیر، پنجاب اور وفاق میں یکساں ہے۔

مزید اہم نکتہ یہ ہے کہ حالیہ عرصے میں آزاد کشمیر میں ایک منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہاں کے لوگ پاکستان یا افواجِ پاکستان کے خلاف ہیں، یا کسی غیر سیاسی دھڑے سے منسلک ہو رہے ہیں۔ درحقیقت، یہ تاثر قیادت کے خلا کی وجہ سے پیدا ہوا تھا اور یہ خلا شاہ غلام قادر نے اپنی باصلاحیت قیادت سے پُر کر دیا ہے۔ آج عوام اُن غیر ریاستی عناصر کو یکسر مسترد کر چکے ہیں، اور قومی اداروں اور پاکستان کے ساتھ وابستگی پھر سے جڑ چکی ہے۔ یہ اعزاز شاہ غلام قادر کو حاصل ہے کہ انہوں نے عوام کو قومی دھارے میں دوبارہ منظم کیا۔

مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت آزاد کشمیر کے تمام علاقوں کے دوروں کے بعد پرامید ہے کہ وہ آنے والے انتخابات میں 25 آزاد کشمیری نشستیں اور 10 مہاجرین نشستیں حاصل کر لے گی۔ اس بنیاد پر جماعت مزید متحد اور مضبوط ہو رہی ہے۔آخر میں میری تمام کارکنانِ مسلم لیگ (ن) سے گزارش ہے کہ وہ منظم، فعال اور متحد رہیں . انشاءاللہ، مستقبل آپ ہی کا ہے۔
محترمہ مریم نواز کی قیادت، پارٹی منشور، اور تنظیمی طاقت دیکھ کر یہ یقین مزید پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ آزاد کشمیر کا سیاسی مستقبل مسلم لیگ (ن) سے وابستہ ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں