آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کو بجلی کے ٹیرف کے احتجاج کے درمیان وفاقی ٹیکس شیئر پر گمراہ کن دعوؤں پر ردعمل کا سامنا

33

مظفرآباد (ذوالفقار علی سے) آزاد کشمیر میں بڑھتے ہوئے بجلی کے نرخوں کے خلاف مظاہروں کی لہر کے درمیان، وزیر اعظم چوہدری انوار الحق کے حالیہ دعوے کہ پاکستان حکومت نے بجلی کے بل کو پورا کرنے کے لیے آزاد جموں و کشمیر کے وفاقی ٹیکسز کے شیٰر میں 20 ارب روپے کی کمی ہے ایک تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ان کا دعویٰ، اگر درست ہوتا، تو آزاد جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے بجلی کی قیمتیں زیادہ ہو سکتی تھیں۔ تاہم، صورتحال کا قریب سے جائزہ لینے سے آزاد کشمیر کے وزیراعظم کی طرف سے پیش کی گئی تصویر سے کافی مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔

جیسے جیسے وزیر اعظم کے دعوؤں اور ابھرتے ہوئے حقائق میں تضاد سامنے آیے ، وزیر اعظم چوہدری انوار الحق کی ساکھ سخت جانچ کی زد میں آ گئی ہے۔ایسی دستاویزات سامنے آئی ہیں جو اس صورتحال پر نئی روشنی ڈالتی ہیں۔ 18 مئی کو، پاکستان کی وزارت خزانہ نے آزاد کشمیر کے محکمہ خزانہ کی درخواست کا جواب دیتے ہوئے، مالی سال 2023-2024 کے لیے وفاقی ٹیکسز میں شیٰر کا تخمینہ فراہم کیا، جو کہ تقریباً 70 ارب روپے تھا۔ اس اعداد و شمار کی اہمیت اس لیے ہے کہ اس کو بجٹ میں شامل کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان کی وزارت خزانہ ہی ایسے تخمینے تیار کرتی ہے.

30 مئی کو، پاکستان کی وزارت خزانہ نے آزاد کشمیر کے محکمہ خزانہ کو ایک فالو اپ لیٹر بھیجا، جس میں پہلے کے تخمینے پر نظر ثانی کی گئی۔ اس نظرثانی نے، آزاد جموں و کشمیر کے لیے وفاقی ٹیکسز میں شیٰر کو بڑھا کر 90 ارب روپے کر دیا۔ اس صورت حال نے وزیر اعظم انوار الحق کے دعوے میں ایک اہم تضاد پیدا کر دیا ہے کہ بجلی بل کو پورا کرنے کے لیے وفاقی ٹیکسز شیئر میں 20 ارب روپے کمی کی گئی ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ وفاقی ٹیکسز شیئر میں نظرثانی کے چار ماہ بعد کیا۔ نئی تفصیلات سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم کی مجموعی ساکھ کوبہت نقصان پہنچا جو پہلی ہی متاثر ہوچکی تھی۔

حکومت آزاد کشمیر حکومت پاکستان سے 2.59 روپے فی یونٹ بجلی خریدتی ہے اور اپنے عوام کو مہنگے داموں فروخت کرتی ہے جس سے ہر سال اربوں روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔ صرف گزشتہ مالی سال میں حکومت نے حکومت پاکستان سے خریدی گئی کل بجلی کا 62 فیصد فروخت کرکے 18 ارب روپے کمائے۔ باقی 38% لائن لاسز اور چوری کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے۔ انوارلحق کی حکومت نے حال میں بجلی کی نرخوں میں کئی گناہ اضافہ کردیا تھا۔ اس کے لیے آزاد کشمیر کی وزیر اعظم نے یہ جواز پیش کیا تھا کہ پاکستان کی حکومت نے بجلی کے نرخ میں اضافہ کیا اور اب ان کو 31 روپے فی یونٹ بجلی ٖفروخت کی جاری ہے۔ ساتھ ہی یہ کہا تھا کہ بجلی کے بل کو پورا کرنے کے لیے پاکستانی کی حکومت نے فیڈرل ٹیکسز شیٰر میں کمی کردی ہے لیکن یہ حقیقت کے برعکس ہے۔آزاد کشمیر کی حکومت اب بھی 2 روپے 59 پیسے فی یونٹ بجلی خرید رہی ہے اور فیڈرل ٹیکسز کے شیٰر میں بھی کوئی کمی نہیں ہوئی ہے۔

یہ بات قابل غور ہے کہ انوارالحق کی حکومت نے بغیر کسی جواز کے بجلی کے نرخوں میں اضافہ کیا تھا، یہ فیصلہ بعد میں آزاد کشمیر میں بڑے پیمانے پر احتجاج کے بعد واپس لے لیا گیا تھا۔ عوام کی سستی بجلی کے مطالبے کی جڑ اس حقیقت میں ہے کہ حکومت آزاد کشمیر حکومت پاکستان سے کم نرخوں پر بجلی خریدتی ہے۔تجزیہ کار آزاد کشمیر جیسے خطوں میں شفاف، جوابدہ اور ذمہ دار قیادت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ گمراہ کن بیانات دینے کا عمل خاطر خواہ نتائج کا باعث بن سکتا ہے، جو عوامی بیانات میں احتیاط اور ذمہ داری کی اہم اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

مزید برآں، وہ اس بات پر روشنی ڈالتے ہیں کہ امن اور ترقی کے لیے سازگار ماحول کو فروغ دینے کے لیے شفافیت، دیانتداری، اور حقائق کی درست نمائندگی کرنا ناگزیر ہے۔ آخر میں، تجزیہ کار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ لیڈروں کو اپنے حلقوں کی بھلائی اور مفادات کو اولین ذمہ داری کے طور پر ترجیح دینی چاہیے۔زاد کشمیر کے وزیر اعظم کو بجلی کے ٹیرف کے احتجاج کے درمیان وفاقی ٹیکس شیئر پر گمراہ کن دعووں پر ردعمل کا سامناپر زور دیتے ہیں کہ لیڈروں کو اپنے حلقوں کی بھلائی اور مفادات کو اولین ذمہ داری کے طور پر ترجیح دینی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں