تحریر:قاضی طارق شاکر
آنکھیں قدرت کا انمول تحفہ ہیں ، آنکھوں کی بینائی سے ہی قدرت کی رعنائی دکھائی دیتی ہے ، اگر آنکھیں ہوں اور بصارت نہ ہو تو زندگی بے مزہ اور بے کیف سی ہو کے رہ جاتی ہے، فطرت کی خوبصورتی آنکھوں کے ذریعے ہی جلوہ گر ہوتی ہے۔آنکھیں نہ صرف مظاہر فطرت کی عکاس ہیں بلکہ زندگی کے ڈھنگ اور اسلوب سے بہرہ مند بھی کرتی ہیں ، ہم آنکھوں کے استعمال سے ہی کائنات کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں ، اپنے سینوں کو علوم سے منور کرتے ہیں ، ایجادات و دریافت سے کائنات میں رنگ بھرتے ہیں ، سائنس و ٹیکنالوجی سے کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھاتے ہیں اور مختلف النوع پھلوں کو دیکھ کر ہی ان کے ذائقوں سے لذت الدھن حاصل کرتے ہیں.
رب تعالیٰ کی عبادت بھی بجا لاتے ہیں اور دنیا کے کام دھندوں سے خود کو مصروف بھی رکھتے ہیں، روزی روٹی کمانے کا بھی واحد ذریعہ آنکھیں ہی ہیں ، اگر چشم بینا ہے تو عقل و دانش سے کائنات کو تسخیر کیا جا سکتا ہے۔آنکھوں کے مریضوں کے علاج کے لیے مختلف ہسپتال ، میڈیکل سنٹرز کام کر رہے جہاں مریضوں کا فری علاج بھی ہوتا ہے اور بہت مہنگا علاج بھی مگر یہ تمام سہولیات بڑے بڑے شہریوں میں موجود ہیں۔پسماندہ علاقوں میں غریب لوگ بستے ہیں جن کی رسائی شہر تک ناممکن ہوتی ہے ، ایک تو رہائش کا مسلہ اور دوسرا اخراجات کا مسلہ آڑے آتا ہے ، یوں پسماندہ علاقوں کے غریب لوگ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دے دیتے ہیں مگر اپنا علاج کروانا ان کے بس میں نہیں ہوتا.
ان کی اس مشکل کا حل خدیجہ زرین خان فاؤنڈیشن نے پیش کیا۔خدیجہ زرین خان فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام الشفاء آئی ٹرسٹ کے تعاون سے ایک روزہ فری آئی کیمپ کا انعقاد گورنمنٹ علی افسر اعوان ہائی اسکول ہٹیاں بالا میں کیا گیا جس میں 460 مریضوں کا فری چیک آپ کیا گیا جبکہ 363 مریضوں کو مفت نظر کی عینکیں اور ادویات فراہم کی گئیں ، 8 مریضوں کو الشفاء آئی ٹرسٹ ہسپتال مظفرآباد ریفر کیا گیا جہاں ان کا فری لیزر آپریشن کیا جائے گا اور ساتھ کھانا و رہائش بھی فری دی جائے گی۔یوں سینکڑوں افراد اس فری آئی کیمپ سے مستفید ہوئے جن کا نہ صرف فری چیک آپ ہوا بلکہ ان کو فری ادویات اور عینکیں بھی مہیا کی گئیں ، جن مریضوں کو آپریشن کی ضرورت تھی ان کو الشفاء آئی ٹرسٹ ہسپتال ریفر کر دیا گیا.
21 جون صبح نو بجے سے شام تین بجے تک لگائے گئے فری آئی کیمپ سے سینکڑوں افراد نے فائدہ اٹھایا ،ضلع جہلم ویلی چونکہ پسماندہ ضلع ہے جس میں اگرچہ ہسپتال تو موجود ہے مگر سہولیات کی کمی ہے ، یونین کونسل سینا دامن میں سوائے ایک یا دو ڈسپنسری کے کوئی بھی میڈیکل کی سہولت حاصل نہیں ، یہی حال یونین کونسل لمنیاں کا بھی ہے ، وادی کھلانا سے وادی لیپہ تک عوام کو صحت کی بہت کم سہولیات میسر ہیں صرف ڈی ایچ کیو ہسپتال ہٹیاں بالا میں ای این ٹی سپیشلسٹ ہفتے میں کوئی تین بار بیٹھتا ہے وہاں بھی آنکھوں کے علاج کی کوئی سہولت میسر نہیں یوں خدیجہ زرین خان فاؤنڈیشن نے آئی کیمپ کا انعقاد ہٹیاں بالا میں کر کے ہٹیاں بالا کے عوام کے لیے علاج کی فراہمی ممکن بنائی۔
جس سے ہٹیاں بالا کے گرد ونواح کے دیہی علاقوں کے لوگ مستفید ہوئے ۔خدیجہ زرین خان فاؤنڈیشن کے جنرل سیکرٹری ملک عاصم سرفراز، کاشف جاوید،عمار مظفر، حسان جاوید، سرور شاہ، زوالفقار و دیگر مریضوں کی معاونت کرتے رہے جبکہ الشفاء آئی ٹرسٹ ہسپتال کے ڈاکٹرز اور ٹیکنیکل عملہ چیک اپ سمیت دیگر خدمات انجام دیتے رہے، اس فری آئی کیمپ میں دیگر رضاکار بھی متحرک نظر آئے جنھوں نے نظم و نسق سمیت مریضوں کی بہترین راہنمائی کی۔مجھے بھی اس کیمپ میں بطورِ رضا کار کام کرنے کا موقع ملا اور میں نے لوگوں کی آنکھوں کی چمک میں اپنی خوشی محسوس کی .خدیجہ زرین خان فاؤنڈیشن نے اس سے قبل بھی مختلف مواقع پر اپنی خدمات انجام پیش کیں اور پیش کر رہی ہے .
فاؤنڈیشن کے تحت لوگوں کی فلاح و بہبود کے متعدد منصوبے زیر عمل ہیں اور کچھ زیر کار ہیں .خدمت خلق ہی وہ جذبہ ہے جو قدرت کی طرف سے نعمت خداوندی کے طور پر ملتا ہے کہ جن کے ہاتھ سلامت ہوں وہ ان کے لئے کام کرتے جن کے ہاتھ ہی نہیں اور جن کی آنکھوں کی روشنائی سلامت ہو وہ ان کے لئے خدمات انجام دیتے ہیں جو اس نعمت سے محروم ہیں ، محروم اور مفلس طبقات میں امید کے دئیے جلانا، روشنی بانٹنا اور روشنی تقسیم کرنا دراصل وہ خدمت ہے جو رب تعالیٰ کو بہت محبوب ہے ۔رب ان کو محبوب رکھتا ہے جو غریبوں مفلسوں اور محتاجوں کی مدد کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں ، ان غریب اور مفلوک الحال لوگوں کے دلوں سے نکلی دعائیں پراثر ہوتی ہیں ۔
یقیناً خدیجہ زرین خان فاؤنڈیشن کی کاوشیں لائق تحسین ہیں ، ان کی خدمات کا احاطہ محض ایک مضمون میں بیان نہیں ہو سکتا اس کے لئے ایک مکمل کتاب چاہیے کہ خدیجہ زرین خان کی زندگی ایک کھلی کتاب کی مانند ہے جہاں روشنی ہی روشنی پھوٹتی ہے اور پھول ہی پھول کھلتے ہیں ۔بے کسوں کی داد رسی ہو یا عوام میں شعور و آگہی ،روشنی پھیلانے ، روشنی بانٹنے کا سہرا خدیجہ زرین خان اور ان کی ٹیم کو جاتا ہے جنھوں نے نامساعد حالات میں بھی ہواؤں کا رخ موڑنے اور طوفانوں سے ٹکرانے کا عزم کر رکھا ہے، جن کے دل سے وطن کی محبت کی کونپلیں پھوٹتی ہیں اور چمن کو عطر بیز کر دیتی ہیں .مجھے یقین ہے کہ خدمت کا یہ سلسلہ جاری رہے گا اور عزم و ہمت سے غربت اور جہالت کے برج گرا دئیے جائیں گے، روشنی پھوٹتی رہے گی اور بصارت سے محروم افراد روشنی پاتے رہیں گے ، خدیجہ زرین خان فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن محترمہ خدیجہ زرین خان اور ان کی ٹیم کا شکریہ جنھوں نے اپنے خوبصورت سے پروجیکٹ کے لئے خوبصورت جگہ کا انتخاب کیا جہاں کے باسی غریب ضرور ہیں مگر وفا شعار ہیں وہ اپنے محسنوں کو دل میں ہی نہیں بلکہ دعاؤں میں بھی یاد رکھتے ہیں۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹتے رہیں.