آہٹوں کا شاعر فراق احمد

50

تحریر :رانا سجاد احمد
عبدالقادرنے کہا تھا کہ ” لفظوں کو سمجھنے کا فن سر کش اور ضدی انسان کے بس کی بات نہیں ، اور نہ ہی یہ ہُنر وراثت میں ملتا ہے ۔۔ بلکہ یہ تو خدا کا خاص فضل ہے جو محض باذوق لوگوں کو عطا ہوتا ہے ” گویا لفظ سے رشتہ استوار کرنا کسی عام انسان کے بس کی بات نہیں بلکہ یہ کام سماج کے اعلی دماغ ہی سر انجام دے سکتے ہیں ۔اس لیے یہ کہنا بجا ہے کہ خداجب کسی پر از حد مہربان ہو تو اسے لفظوں کا شعور عطا کرتا ہے۔ مجنوں گورکھ پوری نے شاید اسی لیے کہا تھا کہ ” فنونِ لطیفہ کی سب سے زیادہ لطیف صورت ادب یعنی الفاظ کا فن ہے اور ادب کی سب سے مقبول شکل شاعری ہے ” ۔۔ شاعری کی آواز اسی وقت وجود میں آ چکی تھی جب دنیا کے پہلے انسان کو وجود عطا ہوا تھا ۔ یہ آوازیں ہر دور میں ہر خطے کا حسن رہی ہیں اور ہمیشہ رہیں گی ۔ انہیں آوازوں سے جڑی ہوئی ایک آواز فراق احمد کی ہے ۔فراق احمد جہلم ویلی کی تحصیل لیپہ کے گاؤں کیسر کوٹ سے تعلق رکھنے والے نوجوان شاعر ہیں ہے جن کا شعری مجموعہ ” آخرش ” حال ہی میں منظر عام پر آ چکا ہے۔

فراق احمد استاد شاعر عزیز الرحیم ڈورسی کے بعد کرناہ ویلی کے دوسرے صاحبِ کتاب شاعر ہیں اور میں اس لیے بھی کہتے ہوئے خوشی کا اظہار کروں گا کہ فراق احمد لیپہ کے پہلے شاعر ہیں جنہوں نے سکوت زدہ ماحول میں رومانوی احساس سے بھرپور شاعری کو کتابی صورت عطا کی اور وادی میں دو دہائیوں کو محیط ادبی جمود کو توڑا۔ فراق شمس بری ، کافر کھن اور پنجال کے وسط میں ، کائل اور دیودار کے درختوں کی چھاؤں میں بیٹھ کر گھنٹوں فطرت سے ہمکلام رہتے ہیں۔ حدِ متارکہ کے سامنے جہاں محض خوف کے سائے ہوں وہاں اس جوان شاعر کا فن سے محبت کر کے لوگوں کی تفریح طبع کا ساماں کرنا خوش آئیند بات ہے ۔ فراق احمد کہنے کو تو نووارد شاعر ہے لیکن اس کا تخیل کسی منجھے ہوئے شاعر کا تخیل معلوم ہوتا ہے ۔ فراق کی شاعری میں بے ساختگی بھی ہے ، تاثر بھی ہے اور تاثیر بھی ۔
ان کے ہاں شعری روایت ، ثقافتی ، تہذیبی اور تمدنی اقدار کا بہترین اظہار ملتا ہے ۔ فراق کی شاعری استعاروں سے عبارت ہے لیکن ان کے شعری استعارے بھی ثقافتی اور تہذیبی اقدار سے جڑے ہوئے ہیں جن کا استعمال انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں کیا ہے ۔

” گاگر، اجنبی درخت، بیل بوٹے، برفیلا بدن جیسے استعارے ارضیت کی بہترین عکاسی کرتے ہیں ۔ وزیر آغا نے کہا تھا کہ ہر خطے کا ایک ہنٹر لینڈ ( عقبی دیار) ہوتا ہے جہاں اس خطے کا تمدنی اور ثقافتی سرمایہ محفوظ ہوتا ہے اور جو شاعر ہنٹر لینڈ سے جڑا ہو گا وہی خالص شاعر ہو گا ۔ بلا شبہ فراق ہنٹر لینڈ کا شاعر ہے اور یہ وابستگی فراق کے مثبت رویے کو ظاہر کرتی ہے ۔ فراق کی شاعری کا خالص پن، انوکھا انداز اور منفرد اسلوب ، عقبی دیار کی دین ہے اور اسی جُڑت نے فراق کو فطرت کا شاعر بنایا ہے۔ فراق کی خوب صورت نظمیں ” لیپہ اور اجنبی درخت ” اس بات کی دلیل ہیں کہ فراق ہنٹر لینڈ سے جڑا ہوا شاعر ہے اور اسے نیچر کے ساتھ جڑے رہنا ، بہتی ندیوں کی سرسراہٹ سننا اور پرندوں کی چہچہاہٹ کو محسوس کرنا پسند ہے۔میں یہ بات کہنے میں حق بہ جانب ہوں کہ فراق نے اپنے لیے شعری راہ کا تعین خود کیا ہے ۔ انہیں کسی کی شعری راہ پر چلنا پسند نہیں ۔ ایم یامین صاحب نے بجا فرمایا کہ فراق احمد کی شاعری پر کسی پیش رو کی چھاپ نظر نہیں آتی ۔ نظم ملاحظہ فرمائیے
اب ستارے راہ دکھلائیں تو کیا
ہم تو جائیں گے تری آہٹ کی سمت
روشنی کے ساتھ ہم نہ جائیں گے

فراق بنیادی طور پر رومانوی شاعر ہیں ۔ ان کے ہاں عشق و رومان کے تمام روایتی التزامات ملتے ہیں ۔ ان کی شاعری میں افسردگی کی بجائے رجائیت کا غلبہ ہے یہ ایک خاص قسم کی تازگی کے ساتھ ساحرانہ انداز میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ دھیمے لہجے کے ساتھ عشق کی حزیں کیفیات کا بیان اور قلبی واردات کو رومانوی انداز کے ساتھ لفظوں کا پیرہن پہنانے کا فن کوئی فراق سے سیکھے ۔ محبت فراق کا اثاثہ ہے ۔ ان کا ہر لفظ اور ہر خیال محبت سے کشید ہوتا ہے ۔ فراق شاعری کے کینوس پر متنوع موضوعات کو نقش کر کے اُن میں محبت کے رنگ بھرتے ہیں ۔ یہ محبت محض داخلی سطح تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ کار سماج کی حدوں تک پھیلا ہوا ہے ۔ میں بلا مبالغہ یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ فراق محض اپنی ذات کے شاعر نہیں بلکہ سماج کے شاعر ہیں اور سماج کا بہترین ادارک بھی رکھتے ہیں ۔ آپ کا سماجی شعور بہت پختہ ہے ۔

البتہ سماجی ناہمواریوں کا بیان کسی مخصوص نظریاتی چھاپ کے سائے میں رہ کر نہیں کرتے بلکہ اپنے خاص رومانوی انداز سے سماجی حقیقتوں کو منظرِ عام پر لاتے ہیں ۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ طبقاتی تقسیم نے سماج میں جہاں انسانیت کا بٹوارا کیا ہے وہیں انسانوں کی فطری صلاحتوں میں تفاوت کو مزید طول دیا ہے ۔ فراق ایک شاعر ہونے کے ناتے اس تفاوت کے خلاف نظر آتے ہیں ۔ آپ کی نظر میں سماج کا ہر فرد معاشرے کی اکائی ہے ۔ ادنیٰ سے لے کر اعلیٰ درجے تک کا ہر انسان اپنی مخصوص صلاحیت کے اعتبار سے معاشرتی جمالیات کے لیے ایک آرٹسٹ کے طور پر کام کر رہا ہے ۔ اور اپنے آرٹ کو دوسرے کی آسانی کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ اس حوالے سے آپ کی نظم ” بھیڑ سے چنی شکلیں ” سماجی طبقاتیت پر ایک احتجاج کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ علاوہ ازیں ” بوڑھی طوائف، جاگتے شہروں کے دکھ ” جیسی نظمیں بھی سماجی ناہمواریوں پر شاعر کے نقطہ نظر کو واضح کرتی ہیں ۔

کشمیریت کشمیر کے ہر شاعر کی شاعری کا حصہ رہی ہے ۔ یہ وہ موضوع ہے جو کشمیر کے ہر شاعر کو وراثت میں ملا ہے۔ فراق کے ہاں بھی کشمیریت اپنے مخصوص انداز میں نظر آتی ہے۔ آپ شعری علامتوں کو رومان کے سانچے میں ڈھال کر پیش کرتے ہیں ۔ آپ کی علامات کا ںظام کشمیر کی دھرتی سے نمو پاتا ہے اور فکر کی بھٹی میں پک کر پختہ ہو جاتا ہے ۔ فراق جانتے ہیں کہ حدِ متارکہ نے کشمیری لوگوں کو نہ صرف جسمانی بلکہ جذباتی اور نفسیاتی طور پر بھی تقسیم کیا ۔ ہجرت کے کرب کو جھیلتی یہ کشمیری قوم ہر دن ایک نئی آزمائش میں مبتلا ہوتی ہے ۔ ہجر کے مارے لوگ کئی دہائیوں سے لا متناہی دکھ جھیل رہے ہیں ۔ ۔ فراق خوف کے سائے میں پنپنے والی اُن آہٹوں کے لیے بے چین ہیں ، آپ کی نظم ” اجنبی خیمہ گاہیں اور ہجرت کا دکھ ” جذبات اور احساسات سے بھرپور نظمیں ہیں ۔
کچھ پرندے خموش بیٹھے ہیں
بات کرتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں
ان حسین وادیوں کے اس جانب
ایک جنگل ہے سرخ پھولوں کا
تم مسافر نہیں سو ہجرت کا
دکھ تمہیں کس طرح سمجھ آئے

فراق نے لاشعور میں کشمیریت کی ایسی پینٹنگ کر رکھی ہے جو ان کے تخیل کو اپنی مٹی سے جوڑے رکھتی ہے .آپ کی نظم ” ایل او سی ، آخری سٹیشن، سرینگر چلو ، ایسی نظمیں ہیں جو کشمیر کی اداس فضا کا نوحہ بیان کرتی ہیں۔ فراق مسلہ کشمیر کا گہرا شعور رکھتے ہیں ۔ آپ لفظی جہاد کے ذریعے سامراجی ریشہ دوانیوں ، حکمراں طبقے کی نا اہل پالیسیوں اور مسلہ کشمیر پر ان کے منافقانہ رویوں کو بھی منظرِ عام پر لاتے ہیں ۔ اشعار ملاحظہ فرمائیے:
ناکامیوں کا بوجھ تھا اپنے وجود پر
سو مسلےکےحل کی طرف ہی نہیں گئے

تُو کہ خود سائے کی تلاش میں تھا
ہم ترے سائباں میں کیا آتے

فراق احمد نُدرتِ خیال کے ساتھ ساتھ جدتِ افکار کے بھی قائل ہیں ۔ آپ جانتے ہیں کہ تغیر ایک کائیناتی حقیقت ہے نیز ہر فکراور سماج کی ایک عمر ہوتی ہے ۔ وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ سماجی اور فکری تقاضے بھی بدل جاتے ہیں ۔ جو لوگ سماجی ڈھانچے کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے ساتھ منطبق کرتے ہیں وہی زندگی کا صیحح شعور رکھتے ہیں ۔ فراق احمد سماج کی فرسودگی سے بیزار ہیں ۔ قدامت پسندی کا دیمک نئے افکار کے پیڑ کو چاٹ رہا ہے جس سے سماجی پسماندگی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ فراق جانتے ہیں کہ دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو سائنسی اندازِ فکر اپنانا ہو گا ۔ فکری پسماندگی کو ترک کر کے نئے افکار کو اپنانا ہی ہماری فکری ، سماجی اور سیاسی پستی کو ختم کرنے کا واحد راستہ ہے ۔ اس حوالے سے آپ کی نظم ” نئے عقیدے ” ملاحظہ فرمائیے:
ہمارے عقیدوں پہ ہم خود نہیں چل سکے تو
ہماری نسل کیسے چلے گی
ہم اپنے لیے ان مقررہ حدوں سے نکل آئے ہیں
ہمیں اب مکمل نئی حدوں کی ضرورت رہے گی

دشمن کی بندوقوں کے سامنے خوف کے سائے میں محبت کا پرچم تھامے یہ جوان شاعر امید کی ایک شمع روشن کیے ہوئے ہے جو آنے والے نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہو گا ۔ جو سکھائے گا کہ لفظوں سے محبت کیسے کی جاتی ہے ۔ جس کی شاعری کو پڑھ کر ہر ایک زندگی سے پیار کرنے لگے گا ۔ مجھے امیدِ واثق ہے کہ میری وادی کے ادبی سفر کا بیڑا فراق نے اٹھایا ہے وہ اب اسے ہمیشہ اٹھائے رکھے گا اور اپنے فن اور افکار کی ضیا مزید ذہنوں تک منتقل کرے گا .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں