آہ اطہر مسعود وانی

29

ڈائیلاگ / سردار محمد طاہر تبسم
نامور کشمیری صحافی اور قلمکار اطہر مسعود وانی دو روز قبل طویل علالت کے بعد داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے اس عارضی دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں۔ وہ طویل عرصہ سے دمہ کے موذی مرض کا شکار تھے اور کچھ دنوں سے ہسپتال میں زیرعلاج تھے۔ اطہر وانی سے میرا تعلق نصف صدی سے تھا جب وہ اپنے والد محترم اور ریاست کے اولین جریدہ ہفت روزہ کشیر کے چیف ایڈیٹر خواجہ عبدالصمد وانی کے آفس میں ان کی معاونت کرتے تھے۔

عبدالصمد وانی بلاشبہ کشمیر کی چلتی پھرتی تاریخ اور صاحب عظمت صحافی تھے ان کی سوچ و فکر کشمیر اور اس کی آزادی کی آئینہ دار تھی۔ اپنے والد کی رحلت کے بعد اطہر وانی نے نہ صرف کشیر کی اشاعت کو جاری رکھا بلکہ اس کو مزید ترقی بھی دی اور اپنے عمل و کردار سے پاکستان اور آزادکشمیر میں تعلقات کو وسیع و عریض کیا۔ اطہر وانی خاموش طبع اور وسیع المطالعہ دانشور صحافی تھے اور اپنے والد کی طرح کشمیر کا انساہئکلوپیڈیا سمجھے جاتے تھے.

انہوں نے گھر میں بڑا کتب خانہ بھی قاہم کیا ہوا تھا جس میں زیادہ تر کشمیر کے دونوں اطراف میں شاہع ہونے والی نادرونایاب کتب موجود ہیں۔ وہ ایک نظریاتی فکر و اساس رکھنے والے کہنہ مشق صحافی اور کالم نگار تھے ان کے جائزے، تبصرے اور کالموں میں جاندار موقف اور پراثر تاثیر ہوتی جس میں علم، دلیل اور فکرونظر کی بھرپور چاشنی ہوتی وہ پاکستان کے اہم اخبارات میں بھی اپنے کالم اور پراثر تبصرے تجزئئے لکھتے تھے.

جس کی تعداد ہزاروں میں ہےجس میں جرات، بے باکی اور علم و فن کے ساتھ ساتھ قابل عمل تجاویز بھی ہوتیں اطہر وانی سے اکثر طویل ملاقاتیں رہی ہیں وہ کشمیر کی آزادی اور تکمیل پاکستان کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے اور اس معاملے پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ہم دونوں نے مسلم کانفرنس اور مسلم لیگ میں بھرپور اکھٹے کام کیا اور قیادت کا اعتماد بھی رہا .

لیکن قائدین نے کبھی ہمارے بارے میں کوئی کوشش نہیں کی کہ جس سے ہمارا کوئی فائدہ ہو اپنے فائدے کے لئے ہمارا استعمال بے دریغ کیا گیا اور یہ مشق ستم اب بھی جاری ہے۔اطہر مسعود وانی حساس، پرخلوص اور غیرت مند صحافی تھے کہ کسی مفاد کے لئے کبھی اپنے اصولوں کو قربان نہیں کیا بلکہ ڈنکے کے چوٹ اپنی سوچ اور نظریے کے لئے ڈٹے رہے اور کسی دباو کے بغیر حق و سچ کا ساتھ دیا۔

وہ اپنے والد محترم کو اپنا اہیڈیل جانتے تھے جن کی تربیت و صحبت نے انہیں کندن بنایا اکثر کشیر کے صفحات پر والد کی تحریروں کو حاشیہ لگا کر شائع کرتے تھے دیکھا جاہے تو کشیر اور انصاف دو بڑے اخبارات میں کشمیر کی ساری تاریخ اور جدوجہد آزادی کشمیر کی تاریخ رقم ہوئی رہی ہے اور اطہر وانی نے اس کی آبیاری کے لئے اپنی زندگی کو وقف کئے رکھا۔

اس کے نماز جنازہ میں شرکت کر کے یہی احساس ہوا کہ وہ ایسا منفرد صحافی تھا جس نے اپنے علم و قلم اور سوچ و فکر اور نظریے پر قاہم رہتے ہوئے بھی ایسے مضبوط اور منفرد رشتے پال کے گیا ہے جن کو کوئی زوال نہیں ہو سکتا افسوس ناک اطلاع یہ ہے کہ ان کے بڑے بھائی انجیر ظفر وانی اپنے بھائی کی موت کے صدمہ کو برداشت نہیں کر سکے اور حرکت قلب بند ہونے سے انتقال فرما گئے ہیں.اللہ کریم دونوں بھاہیوں کے درجات بلند فرماہے امین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں