تحریر: پروفیسر خالد اکبر
یہ 1998ء کی ایک خوشگوار صبح تھی جب ہم اپنی لیکچررشپ کی تقرری کا پروانہ بغل کے نیچے دابے،مسرت سے سرشارکیپٹن حسین خان شہید ڈگری کالج کے سٹاف روم پہنچے، تو وہاں کافی چہل پہل تھی۔ ایک اچٹتی سی نظر ڈالی تو ہرسو اجنبیت کے سایے پھیلے تھے۔سبھوں کو سلام مسنون کہتے ہوے آگے بڑھے تو اپنے انگریزی کے ایک معروف استاد نظر آئے۔جن کے اسی کالج میں ما ضی کے بھلے دور میں،اپنے زعم کے مطا بق ہم ان کے چہتے شاگرد ہوتے تھے۔ وہ ہمیں دیکھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ان سے پوری محبت اور مودبانہ انداز میں بغل گیر ہونا چاہا، مگر اُنہوں نے ناگواریت کا اظہار کرتے ہوئے صرف ہاتھ ملایا۔ یوں عملی زند گی کے آداب سے شاہد ناآشنا ہم ایسے نو آمیز کو تھوڑی دیر کے لئے کافی خلجان، کمتری اور جھنجھلاہٹ کے ملے جلے احساسات نے گھیر لیا۔
اُن کے ساتھ بیٹھے ایک خوبرو، خوش پوش نوجوان پروفیسر کو معلوم ہوا کہ ہم جائننگ دینے آئے ہیں تو اُنھوں نے ہمارا تعارف پوچھااور ساتھ ہی اپنا تعارف افتخاراکبر کے نام سے کروایا اور نائب قاصد سے ایک کاغذ منگوایا اور ہماری حاضری رپورٹ لکھنا شروع کی اور ساتھ ہی چائے بسکٹ بھی منگوا لئے۔ سٹاف روم میں آرام دہ کرسیوں پر پاؤں پسارے ،خوش گپیوں میں محو اکثر پروفیسرز کو معلوم ہو چکا تھا کہ ہم اُن کے نئے تازہ دم پیٹی بھائی ہیں، تو اُنہوں نے گرمجوشی اور تپاک سے خوش آمدید کہا۔ مگر اپنے مکرم اور مشفق استاد کے ہاتھوں خفت اٹھانے کے سبب ہم دانت بھی پیس رہے تھے۔ مجروح جذبات پر ہلکی نمک پاشی کا احساس تب اور نمایاں ہونے لگاجب اُن مکرم پروفیسر صاحب نے ملنے ملانے اور تہذیب پربھی ہمیں بھاری بھرکم واعظ کر نابھی شروع کر دیا۔ افتخار صاحب سے رہا نہ گیا انھوں نے ان واعظ بے مروت کو آڑے ہاتھوں لیا اور ہمیں لے کر دوسرے کمرے میں چلے گئے۔
ضروری کارروائی کے بعد اپنے ساتھ پرنسپل صاحب کے دفترمیں حاضری دینے لے گئے۔ پرنسپل ادارہ نرم دم گفتگو، مرنجان مرنج اور دلنواز شخصیت کے مالک تھے۔ اُنہوں نے کافی دلجوئی کی اور بہت شفقت سے پیش آئے۔ یوں افتخار صاحب کے ساتھ یہ ہماری پہلی مڈبھیڑ تھی جس نے ہمارے ذہن پر بہت ہی خوشگوار تاثر چھوڑا۔ آہستہ آہستہ ہماری ابتدائی مجروحیت مندمل، اجنبیت رفع اور احساس بیگانگی مٹتا گیا اور ہم اپنے کام و دیگر معاملات میں رواں اور ہم آہنگ ہوتے گئے۔ اُن دنوں سنیئر پروفیسر اور جونیئر کے درمیان کافی ابلاغی بُعد(communication gap) ہوتا تھا۔ سنیئرز پرو فیسرز کم کھلتے اور بہت تکلف برتتے، سلام دُعا سے لے کر بڑے سے بڑے سوال کا جواب یک حرفی ہی ہوتا۔ ایسے میں افتخار صاحب اور دیگر جونیئر پروفیسرز سے گپ شپ اور پروفیسر ذوالفقار سے علمی و ادبی حوالے سے طویل گپ شپ رہتی۔ افتخار مرحوم انتہائی دلآویز مسکراہٹ کے ساتھ ہر روز گرمجوشی اور سے ملتے، حال احوال معلوم کرتے۔ افتخار صاحب اس دوران ایم ایس شماریات کی کلاسز شروع کر نے کا قصدکرچکے تھے۔
پرنسپل کو تامل تھا کہ ایک دو ٹیچر کے ساتھ پورا شعبہ شروع کرنا خدشات سے خالی نہیں ۔مگر وہ اقدام پہل کرنے اور اپنی ہٹ کے پکے تھے۔سو اُنھوں نے فیصلے کو عملی جامہ پہنایا اور تن تنہا ماسٹر پروگرام کاکامیابی کے ساتھآغازکر دیا۔ بعد ازاں اسی شعبہ کی کامیاب لانچنگ کے بعد اس کالج کے ایک سیماب صفت پرنسل اور گرم دم جستجو شخصیت، ڈاکٹر صغیر کیانی صاحب نے شعبہ انگلش کی ما سٹر کلا س کو چلانے کی منصوبہ سازی کی جس کی اُن دنوں بہت زیادہ مانگ تھی۔ یوں 2005ء میں اس شعبہ کی داغ بیل بھی ڈالی گئی۔ راقم السطور ان دنوں انٹرکالج تراڑکھل ٹرانسفر ہو چکا تھا۔ ایک باہمی تبادلے سے مجھے بھی اسی شعبہ کا حصہ بنایا گیا بلکہ 2009ء میں صدر شعبہ انگریزی کی ریٹائرمنٹ کے بعداُن کی ذمہ داری بھی مجھے تفویض کر دی گئی۔ یوں دونوں شعبوں کے پہلو بہ پہلو واقع ہونے اور ایک ہی سطح کے یکساں معاملات کے سبب ان سے روزانہ کی بنیاد پر مڈبھیڑ، تال میل By Default ہی ہوتا رہتا تھا۔ اس پر طری یہ کہ میری نصف بہتر،میری شریک حیات بھی ان کی بھتیجی ٹھہری۔
یوں رفیق کار کے اس رشتہ میں خاندانی جہت کے اضافے نے ہمیں اُن کے مزید قریب کر دیا۔ اس طرح اُن کی شخصیت کو قریب سے دیکھنے، جاننے، سمجھنے کے بسیار مواقع میسر آنے لگے۔ افتخار سلیف میڈ تھے، وہ سونے کا چمچ لے کر پیدا نہیں ہوئے ۔ وہ بہت محنتی شخص تھے، بلا کے محنتی۔۔ مایوس ہونا، پسپائی اختیار کرنااور اپنے مقصد سے دستبردار ہونا ان کی سرشت میں نہ تھا۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے سنگ میل ثبت کرنے کے لئے وہ طویل سفرطے کرتے رہے اور اُنہوں نے ان اہداف کے حصول کے لئے دگنا وقت بھی صرف کیا۔ Ph.D کی ڈگری کے دفاع سے قبل دو ریسرچ پیپرز کی کسی موقر جر یدے میں اشاعت کی شرط کے سبب وہ کافی عر صہ رکے بھی رہے۔ مگر انہوں نے دن رات ایک کیا اور ان مشکل ہ اہداف کو کامیابی سے عبور کیا۔ آخرکار اُنہوں نے وہ خلعت فاخرہ پہنی جو اُن کے شعبے میں بہت کم لو گوں کو نصیب ہو ئی۔اپنی جامعہ کے انتہائی دیدہ زیب گاؤن پہنے، Ph.D کی ڈگری اٹھائے وہ بہت مسرور نظر آئے۔۔ ایسے جیسے کسی جفا کش د ہقان کو اپنی فصل کے توقع سے زائد دام لنے پر بے انتہاء مسرت ہوتی ہے۔ اب اس بے مثال کامیابی اور حاصلات کو آگے منتقل کرنے کا وقت شروع ہوا ہی چاہتا تھا۔
وہ ہائر ایجوکیشن کے تحقیق کے طلبہ کے لئے ایک روشنی کا مینارہ امیدبن چکے تھے اور کئی جا معات کے طلباء ان کے زیرنگرانی کام بھی کر رہے تھے۔ پر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا!! قسمت کی خوبی دیکھے کہاں ٹوٹی کمند۔جب دو چار ہاتھ لب بام رہ گیا.وہ ایک عمدہ منتظم تھے، انتظام و انصرام کی صلاحیت ان کی فطرت اور جنیات میں ر چی بسی ہوئی تھی کیونکہ اقدام پہل اور زمہ داری کو قبول کرنااُن کی ایک اہم صفت تھی اورشوق اور اندرونی تحرک اس پر مستزاد تھے۔یہ خصوصیات ان کی کارکردگی کودو چند کر دیتی تھیں۔ برٹرینڈ رسل نے خوب کہا:کہ معلم تہذیب کا نگہبا ن اور اس کی سیڑھی کے سب سے اوپر والے حصے پر کھڑا ہو تا ہے۔اور معلمین کے بیچ ایک پروفیسر کی حثیت ستاروں کے جھرمٹ میں چاند کی مانند ہوتی ہے کیو ں کہ وہ علم کو منتقل ہی نہیں کرتا بلکہ اسے تخلیق بھی کرتا ہے۔ ڈاکٹر افتخار اپنے منصب، مقام ، وقار اور توقیر سے مکمل آگاہ تھے۔وہ اکثر کہتے تھے کہ پروفیسر ی کے مقا بل سا رے منصب ہیچ ہیں۔ وہ ایک معیار کے ساتھ زندگی گزارنے کے قائل تھے۔
وہ ہجوم میں رہتے ہوئے بھی انفرا دیت اور یکتائی کے دھنی تھے۔ سو اُنھوں نے پورے کروفر اور طمطراق کے ساتھ زندگی کے مہ و سال گزارے۔ ان کے دفتر کی چہل پہل آرائش و پیراستگی سربراہ ادارہ سے زیادہ ہوتی۔ لیکن بہت کم دوستوں کو معلوم ہو گا کہ وہ کالج کے وسائل کا کم استعمال کرتے تھے۔ وہ کئی دوسرے ذرائع سے یہ انتظام کر دیتے تھے۔ ایک دفعہ ایک مذہبی اسکالر کم بزنس مین جو کراچی میں مقیم تھے بی ایس کے طلباء کو درس القرآن دینے آئے، تو ان کے دفتر کے لئے بہت ساری قیمتی اشیا عہ اپنی گرہ سے فراہم کر دی۔ ان کی سب سے بڑی خوبی فر ض شناسی،ایما نداری اور خدمت خلق کا جزبہ تھا۔ پی جی سی راولا کو ٹ میں بی ایس کے شعبہ میں آنے والے 70% طلباء کا تعلق شعبہ انگریزی سے ہوتا تھا، جن میں کافی تعداد نادار اور مستحق طلباء کی ہوتی تھیں۔ بطور چیر مین شعبہ انگریزی طلبہ سب سے پہلے مجھ سے ہی رجوع کرتے اور فیس معافی یا مالی معاونت کے خواستگار ہوتے۔ پوری جانچ پڑتال کے بعد اکثر طلبہ کو میں ان کی طرف بھیج دیتا۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میرے بھیجے ہوئے کسی طالبعلم کو اُنہوں نے مایوس کیا ہو۔ وہ کہیں نہ کہیں سے انتظام کر دیتے۔ مجھے معلوم تھا کہ اپنی بے نیازانہ افتاد طبع کے سبب وہ صرف مخصوص افراد سے رجوع کرتے.
زیادہ تر اپنے خاندان، رشتہ داروں اور متعلقین سے یہ کمی پوری کرتے۔ ایک دفعہ شعبہ انگریزی کا ایک ہونہار طالبعلم اپنی فیس اور دیگرضروریات کو پورا کرنے کے لئے کسی کے گھر میں کام کرتا تھا۔ اُن کے نوٹس میں یہ بات آئی تووہ بہت آزردہ اور مغموم ہوئے۔اُن کی ہم احساسی اور کرب دیکھنے کے قابل تھا۔ آخر اگلے دن کسی ذرائع سے اُس کے بقیہ سارے سمسٹرز کی فیس کی ادائیگی کا بندوبست کر دیا۔ ایسی بے نام چیرٹی کا شاید ہی سربراہ ادارہ کو کبھی علم ہوا ہو۔ چونکہ وہ ا یسی تشہیر کے قائل نہ تھے۔ نظم و نسق کے معاملہ میں ان کاانداز تحکمانہ اور سخت گیرانہ تھا۔ جس سے اکثر طلباء ناگواریت بھی محسوس کرتے رہتے۔ ر فقاء کار کا ان سے گاہے گاہے اختلاف بلکہ نوک جھونک بھی ہو جاتی مگر یہ اختلاف رائے تکریم کے دائرہ میں ہی رہتا۔ زیادہ تر وجہ نزاع طلبہ میں نظم وضبط کے معاملات ہوتے۔ وہ سماج کے آئینہ میں چیزوں کو دیکھنے اور پرکھنے کے قائل تھے۔تا ہم ان معاندانہ باتوں پر پر پیدا نا گوار صور تحا ل کو وہ چٹکی بجا کر ہی پاٹ لیتے کیونکہ وہ دل میں کسی بات کو زیادہ دیر تک رکھنے کے روادار نہ تھے۔
وہ بلا کے مہمان نواز تھے، شاید ہی کبھی ہوا ہو کہ اُنہوں نے اکیلے میں چائے پی ہو، وہ ممانوں کومیز کے درازوں میں رکھے بسکٹ نکال کر Serve کرتے رہتے تھے۔ ممان نوازی اور رشتہ ناطے کا احسن انداز سے بر تنے کا یہ توانا احساس ویسے اس سا رے خاندان کا ہی طری امتیاز ہے۔ اور بلاشبہ اُن میں یہ خوبی بدرجہ اُتم مو جود تھی۔ آ زادکشمیر کالج ٹیچرز ایسوسی ایشن کی ساری سیاست ایک ڈیڑھ دہائی سے پی جی سی راولاکوٹ کے گرد گھومتی رہی ہے۔ اگر یہ کہا جائے ڈیڑھ دہائی کی ایکٹا کی سیاست یوسٹ گریجویٹ کالج راولاکوٹ کے عہد میں زندہ ہے تو بے جانہ ہو گا۔ یوں سیاست کے اس Epicentre میں کوئی غیرجانبداری کا متحمل نہ رہا۔ افتخار صاحب بھی ایک طرف منسلک رہے مگر اُنہوں نے اس سیاست کو بھی کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔ عددی اکثریت کے سبب فی زمانہ ایک گروپ مقتدرہ کردار کا حامل رہا۔ لیکن وہ کبھی اس دنگل میں کسی عہدہ کے طلب گارنہ ہوئے۔ فی الحقیقت وہ اس عہد نا گوار کی ہر سطح کی مروّجہ سیاست کے بارے میں اچھے نظریات نہیں رکھتے تھے۔
بارہا وہ اتحاد و اتفاق اور اسا تذہ کی گروپنگ کو ختم کروانے میں سر گرم رہتے تھے۔ فی الواقع وہ ایک عملیت پسند اور سراپا استاد تھے۔ اکیڈمک سرگرمیوں سے رومانس ہی ان کی زندگی کی سب سے بڑی سچائی تھا۔ اُنہوں نے سینکڑوں سٹوڈنٹس کو تیار کیا جو زندگی کے ہر شعبہ میں نمایاں حیثیتوں میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ مذہبی حوالے سے بھی ڈاکٹر صاحب بہت زیادہ پرہیزگار، صوم و صلوٰۃ کے مکمل پابند او ر دین کی تعلیمات کے باب میں بہت چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھنے تھے۔ ان کے ساتھ گاڑی میں سفر بھی ہوتا رہا، ان کی میوزک کولیکشن، نعتوں، قوالیوں، ترانوں پر مشتمل تھی۔ شو مئی قسمت، دسمبر۰۲۰۲ میں وہ جان لیواکرونا واہر س کا شکار ہوے اور راہی ملک عدم ہوے۔ وہ تادم واپسی پی جی سی کالج میں تدریس و انتظامی حوالے سے بہتری کے لئے سرگرداں رہے۔ بیشک اپنی ہمہ صفت شخصیت کی وجہ سے وہ کالج، کمیونٹی کا قیمتی سرمایہ تھے۔ یقینا اللہ تعالی کے ایسے بندوں کے لئے موت حیات جاوداں کا پیغام لاتی ہے۔
مثل ایوان سحرمرقد فروزاں ہو ترا
نور سے معمور یہ خاکی شبستان ہو ترا
آسماں تیری لحد پر شبنم افشاں کرے
سبزہ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے