تحریر:سید افراز گردیزی
آزادی بھیک تو ہوتی نہیں کہ مانگے سے ملے اس کے لیے میلوں قبرستان آباد کرنے پڑتے،سہاگ اجڑتے ،بھائی بچھڑتے اور ارمانوں کے خون کی ندیاں بہتی ہیں اور دوسری نسل آزادی کی نعمتوں سے استفادہ کرتی ہے۔مملکت خداداد پاکستان بھی ایسے ہی مراحل سے گزر کر مسلمانوں کی نظریاتی ریاست کے طور پر معرض وجود میں آیا ۔جموں و کشمیر کی اس وقت کی قیادت نے آرام باغ میں جمع ہو کر ایک فیصلہ کر کیا تھا لیکن تقسیم کرنے والے اتنے عیار و مکار تھے کے اس خطے کو آزادی تو خوف و عجلت میں دے دی لیکن مسائل کی ایسی دلدل میں دھکیل دیا کہ پون صدی گزرنے کے بعد بھی آزادی کے حقیقی ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچ پائے۔
پاکستان بنا تو سازشوں کا آغاز ہوا اور محض 24سال میں اسے دو لخت کر دیا گیا جنہوں نے یہ کیا آج چشم فلک نے ان کے مجسمے گرتے ہوئے دیکھے۔نظریاتی بنیادوں پر معرض وجود میں آنے والی مملکت کے ساتھ کشمیریوں نے زمینی حقائق کے مطابق اپنا مستقبل وابستہ کر دیا تھا اسی وجہ سے قائد اعظم نے خطہ کشمیر کو پاکستان کے لیے شہ رگ سے تعبیر کیا۔اور اسی شہ رگ کے باسیوں نے ایک لاکھ سے زائد قربانیوں کے باوجو علم آزادی بلند کیے رکھا ۔معاشی مسائل نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنایا تو آزاد خطے کے لوگ اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ عوامی نمائندگی کرنے والے فہم و فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوامی امنگوں کو سمجھتے اور خود قیادت کرتے لیکن بوجوہ ایسا نہ ہو سکا۔
مملکت خداداد کے حکمرانوں نے اس مرحلے پر بھی دور اندیشی کا مظاہرہ کیا اور بنیادی عوامی مطالبات کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھائے ۔یہ مطالبات اس لیے بھی نا جائز نہیں تھے کیونکہ پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے لیڈرز انتخابی وعدوں میں 200 اور پھر 300بجلی کی یونٹس عوام کو مفت مہیا کرنے کے اعلانات کر چکے تھے ۔عوامی طاقت نے مطالبات کو پذیرائی تو دی لیکن فکری طور پر ماحول کو پراگندہ کرنے کی غیر محسوس کوششوں نے آزاد ریاست کے ماحول کو کافی حد تک متاثر کیا تھا ۔ایسے میں آزاد ریاست کی سیاسی قیادت کی ذمہ داری بنتی تھی کہ عوامی اعتماد کے حصول اور فکری انتشار کے تدارک کے لیے مین سٹریم جماعتیں آگے آتیں لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔
سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس خان نے ایسے میں منفرد کردار ادا کرتے ہوئے راولاکوٹ کے مقام پر “ہم ہیں پاکستان” کے عنوان سے ریاست کے طول و عرض سے عوام کو جمع کرتے ہوئے ،فکری احیاء ،کے چراغ کو روشن رکھنے کے لیے کردار ادا کیا جس کے اثرات ریاست بھر میں محسوس کیے گئے۔اج بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ آزاد کشمیر کو فکری انتشار سے بچانے کے لیے جملہ سیاسی جماعتیں اور راہنما مل بیٹھ کر اپنا کردار ادا کریں۔ورنہ تاخیر کی صورت میں ہونے والے مضمرات کا ازالہ شاید ممکن نہ ہو۔