ارجہ(نمائندہ سٹیٹ ویوز)ڈھک شکرپڑیاں پدرمستو ہلاں مورین بھولاسہ ڈھوک پانڈیاں بھولیوٹ روڈ بناؤ تحریک زور پکڑ گئی۔عوام علاقہ کا یکم اگست کو تاریخی احتجاج کا اعلان۔ناظم اسلامی جمعیت طلبہ مشرف فیض نے احتجاج کے حوالےسے اپنے پیغام میں کہا کہ جہالہ تا ڈھک شکرپڑیاں روڈ کی عدم تعمیر کے سلسلے میں یکم اگست کو احتجاج کی کال کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔عوام علاقہ کا دیرینہ مطالبہ پورا کیا جائے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جہالہ تا ڈھک شکرپڑیاں رنگلہ روڈ کا مسئلہ کسی فرد وائد کا مسئلہ نہیں بلکہ تیس ہزار سے زائد آبادی کا مسئلہ ہے روڈ کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے اور اپنی مدد آپ بنائی گئی روڈ آج کھنڈرات کا منظر پیش کررہی ہے۔
حکومت کے پاس شاہ خرچیوں کے لیے فنڈز موجود ہیں لیکن عوام کو ان کے بنیادی حقوق دینے کے لیے فنڈز کی کمی ہو جاتی ہے۔تیس ہزار سے زائد آبادی کو مستفید کرنے والی سڑک کو ایک منظم سازش کے تحت تعمیر نہیں ہونے دیا جا رہا۔اس عوامی منصوبے کو کئی مرتبہ سیاست اور سازش کا شکار کیا گیا۔عوام علاقہ چار عشروں سے سڑک کی پختگی کا مطالبہ کرتے رہے اور دو نسلیں اس سڑک کی پختگی کا انتظار کرتے کرتے اس دنیا سے چلی گئیں۔

اس سڑک کی تعمیر نہ ہونے کے باعث سکول اور کالجز میں جانے والے طلباء و طالبات اپنی تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہیں۔جبکہ آج بھی مریضوں کو ہسپتال پہنچانے کے لیے چارپائیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ہر دور میں ووٹ لینے والوں نے سبز باغ دکھا کر عوام کو بیوقوف بنایا۔اگر یہ ایم ایل اے صاحب ہمارے بنیادی مطالبات بھی پورا نہیں کرسکتے تو اب ان سے امید لگانا بیوقوفی اور جہالت کے مترادف ہے۔اب عوام علاقہ کو چائیے کہ اپنے بنیادی حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔
اور اپنی آنے والی نسلوں کی بقا اور حفاظت کے لیے قدم سے قدم ملا کر چلیں۔اگر مسائل سانجھے ہوں تو پھر اختلاف نظریات کو بھول کر ان کے حل کے لیے کوشش کی جاتی ہے۔یکم اگست کو تاریخی احتجاج یہ ثابت کرے گا کہ اب عوام اپنے حق کے لیے کھڑے ہو چکے ہیں۔اور جب عوام اپنے حق کے لیے کھڑے ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں حق لینے سے نہیں روک سکتی۔