اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،سٹیٹ ویوز)سابق وزیراعظم آزادجموں کشمیر سردار تنویر الیاس خان کے سابق معاون خصوصی سردار افنان نواز، سابق معاون خصوصی یاسر مشتاق،معروف سیاسی رہنماء سردار عمران یاسین اور سردار طاہر سلطان نے نیشنل پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سردار تنویر الیاس کو تاریخ کا بہترین وزیراعظم قرار دیتے ہوئے رکن قانون ساز اسمبلی وصدر جموں کشمیر پیپلز پارٹی سردار حسن ابراہیم خان پر شدید الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے انہیں موروثیت کی پیداوار سیاست سے نا بلد قراردیا۔سابق معاونین نے کہا کہ حسن ابراہیم خان اور انکی پارٹی 19 جولائی کے راولاکوٹ جلسے سے خوفزدہ ہیں، اب انہیں حلقے کی سیٹ اور سیاست کی فکر لاحق ہو گئی ہے.
جموں کشمیر پیپلز پارٹی کو راولاکوٹ کے انتخابی حلقے میں چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ 19 جولائی کو یوم الحاق پاکستان کے حوالے سے سردار تنویر الیاس خان کے ہزاروں افراد کے جلسے میں آدھی تعداد میں بھی اجتماع ک کے دکھا دیں تو ہم اپنی سیاست چھوڑ دیں گے۔سابق معاون خصوصی سردار افنان نے کہا کہ سردار تنویر الیاس خان کی حکومت پر شب خون مارا گیا،اس وقت ریاست میں گورننس اور میرٹ نام کی چیزنظر نہیں آتی۔ راولاکوٹ میں یوم قرارداد الحاق پاکستان کے دن تاریخ ساز جلسہ عام منعقد ہوا، اس جلسہ سے ممبر اسمبلی سردار حسن ابراہیم اور انکی پارٹی خوفزدہ ہے۔
سردار حسن ابراہیم خان اپنی اسمبلی سیٹ جاتے دیکھ رہے ہیں۔ موروثی سیاست کی پیداوار والے ایم ایل اے کا جمہوری سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ ایک فرنچائز کے ملازم تھے اور جناب سردار خالد ابراہیم کی وفات کے بعد اچانک سیاست میں نمودار ہوئے۔غازی ملت سردار ابراہیم خان اور سردار خالد ابراہیم انتہائی قابل احترام ہیں لیکن ان کا یہ بیٹا سیاست سے مکمل نابلد ہے۔ ایم ایل اے کی نالائقی کی وجہ سے حلقہ راولاکوٹ کو ملنے والے فنڈز دوسرے حلقوں میں منتقل کیے جارہے ہیں۔ سردار تنویر الیاس خان پر تنقید کرنے والے اپنے گریبان میں جھانکیں۔انہوں نے کہا کہ جناب سردار تنویر الیاس خان نے 32 سال بعد ریاست میں صاف شفاف بلدیاتی الیکشن کرائے،اب الحمداللہ ہر وارڈ میں عوام کا منتخب نمائندہ موجود ہے، سردار تنویر نے عوام کو بنیادی حق دیا۔
انہوں نے کہا کہ سردار حسن ابراہیم خان اور انکی ٹیم کو چیلنج کرتے ہیں کہ 19 جولائی والے راولاکوٹ کے پروگرام کا آدھا جلسہ بھی کر کے دکھا دیں تم ہم سیاست چھوڑ دیں گے۔ جے کے پی پی یوم قرار داد الحاق پاکستان کے دن شہر میں 50 لوگوں کی ریلی بھی نہیں نکال سکی۔ کوآرڈینیٹر عمران یاسین نے کہا کہ جموں کشمیر پی پی نے قائد کشمیر سردار تنویر الیاس خان کے خلاف اپنے سیاسی قد کاٹھ سے بڑھ کر تنقید کی۔ حسن ابراہیم آپ اس طرح اپنا قد نہیں بڑھا سکتے۔ سردار حسن ابراہیم کون سے اصول اور میرٹ کی بات کرتے ہیں۔ غازی ملت سردار ابراہیم خان انتہائی بہترین سیاسی رہنماء تھے۔ سردار حسن ابراہیم خان کو سردار قیوم نیازی اور پی پی تو قابل قبول ہیں لیکن سردار تنویر الیاس خان قابل قبول کیوں نہیں۔
حسن ابراہیم بتائیں آپ نے حلقے میں ترقیاتی کام کہاں کرائے؟ اب حلقے کی عوام کا شعود بلند ہے، اب آپ کو کارکردگی دکھانی پڑے گی، بیانات سے سیاست نہیں چلے گی۔ غازی ملت سردار ابراہیم خان بارے قائد کشمیرسردار تنویر الیاس خان کی گفتگو ہمیشہ بہت بہترین رہی، وہ اپنے ہر پروگرام اور نشست میں ان کا احترام اورسیاست اور کردار کی تعریف کرتے ہیں۔حسن ابراہیم خان، آپ کو سردار خالد ابراہیم خان یا غازی ملت سردار ابراہیم خان کے ساتھ سیاسی سفر یا کسی سرگرمی میں کبھی نہیں دیکھا۔ ایم ایل اے صاحب آپ سیاست سے مکمل نابلد ہیں۔ سردار تنویر الیاس خان خود یا اپنے کسی نمائندہ کو حلقہ راولاکوٹ کی سیاست میں اتاریں گے تو آپ کو اپنا سیاسی قد معلوم ہو حائے گا۔
معروف سیاسی رہنماء سردار طاہر سلطان نے کہا کہ قائد کشمیر سردار تنویر الیاس خان نے ایک سال میں کشمیر ایشو قومی و بین الاقوامی فورمز پر بخوبی اٹھایا۔ریاست جموں کشمیر کی آس صرف سردار تنویر الیاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے کشمیر کاز کو نقصان پہنچایا آج وہ سردار تنویر خان پر تنقید کر رہے ہیں۔ سردار حسن ابراہیم سیاست میں نومولود ہیں، انہیں ممبر اسمبلی بننے سے قبل کبھی کسی سیاسی میٹنگ یا کسی جلسہ میں نہیں دیکھا گیا۔ بلدیاتی الیکشن سے قبل حسن ابراہیم نے اسمبلی فلور پر بھی مخالفت کی اور عوامی فورمز پر بھی بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کی مخالدت کرتے نظر آئے، یہ آج کس منہ سے باتیں کر رہے۔
سردار تنویر الیاس خاننے ان جیسے لوگوں کی تھانے داری ختم کی ہے۔انہوں نے کہا کہ تین ماہ سے راولاکوٹ میں عوام آٹے کی سبسڈی اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور بلات پر احتجاج کر رہے ہیں یہ ایم ایل اے موجودہ حکومت کی پالیسیوں کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔موجودہ حکومت نے معززاساتذہ کو حیل اور خو اتین ملازمین کو قید کیا، یہ موصوف مکمل خاموش رہے۔ 19 جولائی کاجلسہ ہزاروں افراد کا اجتماع اور سردارتنویرالیاس خان پر عوام کا اعتماد انہیں ہضم نہیں ہو رہا۔ سابق معاون خصوصی سردار یاسر مشتاق نے کہا کہ سردار خالد ابراہیم ایک معتبر کردار کے مالک تھے ان کے قوم و فعل میں کبھی تضاد نہیں دیکھا۔
ان کے جانشین موجودہ ایم ایل اے سیاست اور سیاسی روایات سے مکمل نا بلد ہیں، راولاکوٹ میں جتنے بھی کام ہوئے، یہ ترقیاتی کام سردار یعقوب خان نے کرائے تھے۔ حسن ابراہیم خان نے کون سے تعمیراتی کام کرائے وہ ہمیں بتائے جائیں۔ سردار حسن ابراہیم کا بھائی محترمہ شاہدہ صغیر سے الیکشن ہار چکاہے۔انہوں نے کہا کہ بلدیاتی الیکشن ہماری حکومت کیلئے چیلنج تھا جس کو ہم نے پورا کیا۔ ہمارے قائد کشمیر نے ہمیشہ عام عوام کی بات کی جب تک وزیر اعظم رہے انہوں نے غریب طبقے کو اوپر اٹھانے کی کوشش کی، علماء کرام کا احساس کیا، عام نوجوانوں کیلئے روزگار کی کوشش کی، سردار حسن ابراہیم اور انکے ساتھی سردار تنویر الیاس خان پر بیان بازی بند کریں اور اپنی کارکردگی سامنے لائیں۔