تحریر: راجہ خالد محمود خان
جنوبی ایشیا کے دو مسلم ہمسایہ ممالک، پاکستان اور افغانستان، کا تعلق ابتدا ہی سے کشیدگی، بدگمانی اور تاریخی پیچیدگیوں کا شکار رہا ہے۔ بظاہر مذہب، تاریخ اور ثقافت کی یکسانیت نے دونوں کو قریب لانا تھا، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ یکسانیت بھی بارہا فاصلوں کا سبب بنی۔ آج جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے، تو یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ اصل وجوہات کیا ہیں، کہاں غلطیاں ہوئیں، اور امن کی راہ کیا ہو سکتی ہے۔
تاریخی تناظر
افغانستان اور برطانوی ہند کے درمیان 1893 میں کھینچی گئی ڈیورنڈ لائن، آج بھی تنازع کی جڑ ہے۔ پاکستان کے قیام کے فوراً بعد افغانستان واحد ملک تھا جس نے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کی مخالفت کی۔
1950 میں افغان فورسز نے پہلی بار پاکستان کی سرحدی حدود میں دراندازی کی — گویا کہ بھارت سے پہلے افغانستان نے دشمنی کا عملی اظہار کیا۔
1979 میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد پاکستان نے اپنی سلامتی داؤ پر لگا کر تین ملین سے زائد افغان مہاجرین کو پناہ دی، ان کے کھانے، رہنے، علاج اور تعلیم کا بندوبست کیا، اور مجاہدین کو عالمی سطح پر مدد فراہم کی۔
لیکن جب سوویت فوجیں واپس گئیں تو افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہو گئی، اور پاکستان کی قربانیوں کو احسان ماننے کے بجائے الزام تراشی کا نشانہ بنایا گیا۔
بھارت کی مکاری اور افغانستان میں جڑیں مضبوط کرنے کا عمل
روس کے ساتھ مل کر افغانستان کے عوام کے قتل عام میں شریک بھارت نے وہاں کے عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے اس کے ملبے پر اپنے مفادات کی عمارت کھڑی کی۔
روس کے ساتھ اس کی شراکت کا مقصد ہمیشہ سے پاکستان کو خطے میں تنہا اور کمزور کرنا رہا ہے۔
ستمبر 2011 کے واقعات کے بعد جب امریکہ نے افغانستان پر چڑھائی کی، تو بھارت نے انتہائی چالاکی اور سفارتی مکاری سے اس صورت حال کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا۔ اس نے افغانستان میں اپنے قونصل خانوں اور “تعمیراتی منصوبوں” کے نام پر درجنوں ٹھکانے قائم کیے، جو درحقیقت را (RAW) کے اڈے تھے۔ان اڈوں سے پاکستان کے قبائلی علاقوں، بلوچستان اور شہری مراکز میں دہشت گرد کارروائیاں کی گئیں۔یہی وہ دور تھا جب تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کے وسائل، تربیت اور مالی معاونت میں بھارتی خفیہ اداروں کا براہِ راست کردار سامنے آیا۔اس گٹھ جوڑ کے نتیجے میں پاکستان نے اپنے 70 ہزار سے زائد فوجی اور عام شہری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربان کیے۔بھارت نے اپنی موجودگی کو افغانستان کی حکومتوں کے ساتھ عسکری و اقتصادی تعاون کے نام پر مستحکم کیا، مگر اس کا اصل مقصد پاکستان کو گھیرنا اور اس کے اندر انتشار پیدا کرنا تھا۔افغانستان میں بھارتی قونصل خانوں کا جال دراصل پاکستان کے مغربی محاذ پر ایک خفیہ جنگ کا تسلسل ہے۔
موجودہ کشیدگی کی وجوہات
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو حالیہ برسوں میں کئی چیلنجز نے گھیرا ہے۔سب سے بڑا خطرہ تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) ہے، جو افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کرتی ہے۔افغان حکومت کی جانب سے ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہ کرنا سرحدی کشیدگی کو بڑھاتا ہے۔دوسری جانب بھارتی خفیہ ادارے افغانستان میں اپنی موجودگی کے ذریعے پاکستان مخالف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ نے دونوں ممالک کے معاشی اور سماجی ڈھانچے کو متاثر کیا ہے۔ان تمام عوامل کے نتیجے میں اعتماد کی فضا قائم نہیں ہو سکی، بلکہ شکوک و شبہات میں اضافہ ہوا ہے۔
ماضی کی حکمتِ عملی میں کمزوریاں
پاکستان نے سوویت انخلاء کے بعد افغانستان میں ایک مستحکم سیاسی نظام کے قیام کے لیے خاطر خواہ منصوبہ بندی نہیں کی۔افغان دھڑوں کو ایک مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم پر لانے کی کوششیں ناکام رہیں۔نتیجتاً وہی گروہ جو کبھی پاکستان کے اتحادی تھے، بعد میں دشمن بن گئے۔پاکستان نے فوجی اور انٹیلی جنس پہلوؤں پر توجہ دی، مگر سیاسی اور معاشی استحکام کی طرف کم توجہ دی جو ایک اسٹریٹیجک خلا بن گیا۔
پاکستان کا موجودہ مؤقف
پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ افغانستان کا امن دراصل پاکستان کے امن کی ضمانت ہے۔اسلام آباد کی پالیسی جنگ نہیں بلکہ مذاکرات کی حامی ہے۔پاکستان افغانستان کو تابع نہیں بلکہ خودمختار اور مستحکم ہمسایہ دیکھنا چاہتا ہے۔اسلام آباد نے بارہا زور دیا ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک، بالخصوص پاکستان، کے خلاف استعمال نہ ہو۔پاکستان اس وقت بھی افغان عوام کی انسانی اور معاشی مدد جاری رکھے ہوئے ہے۔
سیکیورٹی اور سفارتی چیلنجزاثرات
تحریکِ طالبان پاکستان دہشت گردی، فوجی اور شہری جانی نقصان۔
بھارتی اثر و رسوخ اندرونی بدامنی، سفارتی دباؤ
کمزور افغان حکومت۔ سرحدی بدامنی، بداعتمادی
اسمگلنگ و منشیات۔ معیشت اور سماجی نظم کو نقصان۔پاکستان کی خارجہ پالیسی کا چیلنج یہی ہے کہ ان خطرات کا مقابلہ کرتے ہوئے تعلقات کو بہتر بنانے کی راہ نکالی جائے۔
امن کی راہ اور عملی تجاویز
امن کی بنیاد طاقت پر نہیں بلکہ اعتماد اور تعاون پر ہے۔پاکستان اور افغانستان دونوں کو چاہیے کہ دشمن طاقتوں کے مفادات سے خود کو الگ کریں۔
1. سرحدی تعاون کے لیے مشترکہ سیکیورٹی کمیشن قائم کیا جائے۔
2. ڈیورنڈ لائن کی بین الاقوامی سطح پر توثیق کی جائے تاکہ مستقل تنازع ختم ہو۔
3. دہشتگردوں اور مجرموں کے تبادلے کا معاہدہ کیا جائے۔
4. مشترکہ اقتصادی منصوبے، جیسے گیس پائپ لائنز اور سرحدی منڈیاں، دونوں ملکوں کے مفاد میں ہیں۔
5. بھارتی مداخلت کے خاتمے کے لیے چین، سعودی عرب اور قطر جیسے ممالک ثالث کا کردار ادا کریں۔
خلاصہ
پاکستان اور افغانستان کے درمیان دیرپا امن صرف اس وقت ممکن ہے جب دونوں ملک ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں۔
پاکستان نے ہمیشہ مصالحت، انسانی ہمدردی اور برادرانہ تعاون کی راہ اپنائی ہے، لیکن اسے دہشت گردی، دراندازی اور بداعتمادی کا سامنا رہا ہے۔
> پاکستان عزت کے ساتھ امن چاہتا ہے،
تصادم نہیں بلکہ تعاون چاہتا ہے،
الزام تراشی نہیں بلکہ شراکت،
اور دشمنی نہیں بلکہ برابری۔
اگر کابل اور اسلام آباد مل کر آگے بڑھیں تو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورا خطہ امن، استحکام اور ترقی کی نئی صبح دیکھ سکتا ہے۔