الوادع سال 2024

176

تحریر:نعیم الحسن نعیم
گزشتہ سال کوئی مصلحت رہی ہوگی
گزشتہ سال کے سکھ اب کے سال دے مولا.
الوداع 2024
وقت بخت اور تخت ہمیشہ تبدیل ہوتے رہتے ہیں ان کو جو اپنی جاگیر سمجھے گا وہ دنیا کا سب سے بڑا بےوقوف ہو گا۔خزاں، دسمبر، سردیاں اور نیا سال اس کی دہلیز پر منتظر۔ یہ ہے آج کے دن کی داستان، دسمبر کے لبادے میں اپنے آپ کو اوڑھ کےوہ جارہا ہے کوئی شب غم گزار کے. سال 2024 آج رات ماضی ہوگا اور جو مستقبل تھا، 2025 وہ حال ہوگا۔دسمبر کا مہینہ جیسے دفتر ہو، اس کے ہر ایک ورق پر یاد کے سوکھے پتے پڑے ہوں۔ کوئی کافکا کی تحریر ہو، زرد پتوں میں پڑی، رات کے پچھلے پھر کی طرح سحر کی تلاش میں، منتظر نگاہ، تھکی آنکھیں، لکڑیاں جل کے راکھ بن گئی ہوں اور دھواں ہلکے نیم بجھتی چمن سے سسک سسک کے، ہوا کے رخ پر رواں۔ درد اور انسان استاد بڑے غلام علی کے راگیشوری راگ پر سسکتی داستان، کئی کہانیاں کئی قصے، جو بنے، جو گزر گئے اور رہ گئی۔
بس ایک بات جو دسمبر کے اس دفتر میں رقم ہے جسے یہ دسمبر آج آخری شب کو نئے سال کے ورق کھلنے پر یہ دفتر بند ہوگا، پھر ایک نیا سال تحریر ہوگا، پھر دسمبر آئیگا پھر دفتر ایک نئے دفتر کی دہلیز پر بند ہوگا۔ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا جب تک سورج چاند رہے گا۔

ماضی، حال اور مستقبل، وقت کے تین پہلو ہیں۔ یا یہ وہ کل ہے جس میں پورا وقت پڑا ہے۔ جو ہو ا ہے، جو ہورہا ہے اور جو ہونا ہے۔ سمے کے اس کاروبار کو اپنے لاشعور سے باہر لاکے شعوری زاویوں سے جو دیکھنا کہ لمحہ ہے وہ یہی ہے۔ آج کا دن، آج کی شام اور آج کی رات، 365 دنوں میں یا ان 365 صفحات پر مبنی اس دفتر کا یہ آخری صفحہ ۔شاید فیض نے اس دن کی نسبت یہ سطریں لکھی ہونگی۔
یہ دھوپ کنارا شام ڈھلے
ملتے ہیں دونوں وقت جہاں
جو رات نہ دن جو آج نہ کل
پل بھر کو امر پل بھر میں دھواں
آج کی رات گھڑی کی سب سوئیاں جب بارہ کے ہندسے تک پہنچیں گی، اس شام کا سورج رات کا کمبل لیے سوجائیگا۔ جب سحر کے دامن پر پھوٹے گی اور سورج کل کمبل سے باہر نکل آئیگا، یہ دن،ماہ وسال بند ہونگے۔ وقت قدرت کی کل داستان ہے، تخلیق ہے ”کن فیکون” ہے۔
ہم مقید ہیں اس زماں و مکاں میں،
پل دو پل کی اس داستان میں۔ زرد پتوں کا بن ہے۔
کافکا کی ان سطروں کی مانند ”میں کے ہوں کوئی راہ پت جھڑ کے موسم کی،
لو ابھی اپنا دامن صاف کیا تھا کہ پھر زرد پتوں سے بھر گیا ہوں۔

مجھے یہ لکھنا تو آئیگا ہی نہیں کہ یہ جانے والا سال کیا گل کھلا گیا اور کتنے چراغ بجھا گیا، ملک کی سیاست میں، معیشت میں،کیا ہوا، دنیا میں کیا ہوا۔ ہاں !لیکن مجھے جو لکھنا آتا ہے وہ آپ کے سامنے ہے، موضوعی سے پہلو ہیں، معروضی نہیں۔2024 رخصت ہو رہا ہے.چند رسمی کام جو ہر سال دسمبر کے مہینے میں پورے خلوص، جوش و جذبے کے ساتھ کئے جاتے ہیں مثلا دسمبر کو الوداع ، شاعری، تنہائی، مایوسی، اداسی، سال گزرنے کا غم، سوشل میڈیا پر معافی وغیرہ وغیرہ مگر تھوڑی دیر رک کر سوچیے سال تو گزر گیا مگر اس سال میں ہم نے کیا کیا، پورے سال کا خلاصہ بنالیں اور اس کے بعداگر سال گزرنے کا یا ضائع ہونے کا غم ہے تو آئندہ سال کیسے گزارنا ہے اس کی کوئی پلاننگ کوئی منصوبہ بندی کچھ اہداف کچھ اپنے ساتھ وعدے ذہن اور کاغذ پر تحریر کر لیں کیونکہ سال تو یونہی گزرے ہیں گزر رہے ہیں اور گزرتے رہیں گے مگر ہم کہاں کھڑے ہیں یہ بہت اہم ہےکیا کرسکتے تھے مگر نہیں کیا، غلطی ہوگئی مگراب آئندہ کیا کرنا ہے طے ضرور کریں.

2024 ءتو اب مہمان ہے اور 2025 کی آمد آمد ہے۔ ہر سال دسمبر کا مہینہ ہمیں زندگی کا ایک برس کم ہونے کی خبر دیتا اور رخصت ہو جاتا ہے۔ ہم اپنی آنکھوں میں بہتری، روشنی، کامیابی اور فروغ کے خواب سجائے اگلے سال کو خوش آمدید کہتے اور سوچتے ہیں کہ شاید یہی وہ سال ہے جب حالات ٹھیک ہو جائیں گے اور امیدیں حقیقت کا روپ دھار لیں گی۔ یہ سوچنے کی یقینا ضرورت ہے کہ آنے والے نئے سال میں ہم کیا کریں گے لیکن اِس کے ساتھ ساتھ یہ اندازہ لگانے کی بھی ضرورت ہے کہ ہم نے گزرنے والے سال میں کیا کھویا اور کیا پایا؟ کیا ہم نے اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے کسی غریب کی مدد کی؟ حقوق العباد کا خیال رکھا؟ عبادت میں کوتاہی تو نہیں کی؟ کسی کا دِل تو نہیں دکھایا؟ ماں باپ کی خدمت کی؟ اپنوں کا خیال رکھا، صلہ رحمی کیا؟ پروردگارِ عالم نے ہمیں جو نعمتیں عطاءکی ہیں، اُن میں سے حق داروں کا حصہ نکالا؟

نئے سال کی آمد جشن کا منانا قدیم روایت ہے۔ رات 12بجے کا وقت ایک سال کو الوداع کہہ کر دوسرے سال کا استقبال کرنے کا موقع ہوتا ہے،اِس لئے خوشی منانے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن یہ ہلڑ بازی، آتش بازی اور فائرنگ کا موقع نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اِس دنیا میں جس امتحان کے لئے بھیجا ہے، نئے سال کے شروع ہونے کا مطلب ہے کہ اُس وقت میں مزید کچھ کمی واقع ہو گئی ہے۔ سال کے آغاز میں ہم نے خود سے جو پیمان باندھے ہوتے ہیں اور یہ پروگرام بنائے ہوتے ہیں کہ یہ کروں گا، وہ کروں گا، سال کے اختتام پر جب یہ دیکھتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں ہوا جس کا سوچا تھا تو خاصی ناخوش گواری محسوس ہوتی ہے۔ انسان اگر حساس ہو، ذی شعور ہو تو ایسا ہونا قدرتی امر ہے۔ میرے خیال میں اگر کچھ ناخوش گوار ہوا ہے تو اُس پر دِل برداشتہ ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ بہت سی چیزیں ہمارے اختیار سے باہر ہوتی ہیں، ہم سوچتے اور کرتے کچھ ہیں لیکن عملاً کچھ اور ہو جاتا ہے لہٰذا یہ سوچنا چاہئے کہ جو کچھ ہوا اُسی میں ہمارے لئے بہتری تھی اور ناکامیوں کا از سر نو جائزہ لے کر اور یہ سوچ کر کمر پھر سے کس لینی چاہئے کہ آنے والے برس میں اُن کمیوں اور خامیوں کو بھی پورا کرنے کی کوشش کریں گے جو گزرنے والے سال میں ہو گئیں۔ گزرے 365 دِنوں کا تنقیدی جائزہ لینا چاہیے کہ کن جگہوں پر ہم سے کوئی غلطی سرزد ہوئی اور کہاں ہم نے کوئی غفلت کی۔

اِس حقیقت سے کون آگاہ نہیں کہ وقت کبھی نہیں رُکتا، اِس کا پہیہ ہر دم رواں رہتا ہے۔ یہ لوگ،حالات اور چیزیں ہیں جو آتی اور جاتی ہیں، وقت اپنی دھیمی رفتار سے چلتا ہی رہتا ہے۔ صبح ہوتی ہے تو پھر شام بھی ہونی ہی ہوتی ہے اور اگر رات ہو جائے تو صبح کا سوج بھی ہر صورت میں طلوع ہوتا ہے۔ قدرت کا نظام یہی ہے کہ جو آیا ہے اُسے جانا ہی ہے چاہے وہ انسان ہو یا وقت۔۔۔ اور کیا اِس حقیقت سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ جس طرح وقت اپنی رفتار سے گزرتا چلا جا رہا ہے اُس کے ساتھ ساتھ انسان کی زندگی سے اُس کے دن اور سال بھی کم ہوتے جا رہے ہیں۔ حیرت اِس بات پر ہے کہ اپنا محاسبہ کرنے کی بجائے ہم خوشیاں مناتے ہیں.کس بات کا جشن؟ کیسی خوشیاں؟کیا ہماری زندگیوں میں ایک سال کم نہیں ہو گیا ہے؟
31 دسمبر
سال 2024کا اخری دن زندگی ایک بار پھر کسی نئے اور انجانے سال میں داخل ہونے جا رہی ہے تو کیوں نہ مسکراہٹوں کا اغاز بھی ابھی سے کیا جاۓ یہ سمجھ کر کہ یہ دسمبر ریل کا اخری ڈبہ ہے اس پر سال کی تمام بری یادوں کو سوار کر کے اپنی زندگی سے رخصت کر دیں اور اخر میں ہاتھ ہلا کر خوشی سے کہیں الوداع دسمبر الوداع 2024.خوش امدید 2025. 2024 کئی یادیں چھوڑ کر رخصت ہو رہا ہے تو 2025 نئی امیدیں لیکر آ رہا ہے.
پھر نئےسال کی آمد ہے انتظارمیں ہیں
دیکھیں کیا رنگ دکھاتا ہےنیا سال ہمیں
ویران چہرے لیے جو لوگ پریشاں ہیں بہت
ان کی خوشیوں کا کیا یہ کوئی سبب بنتا ہے
کوئ پرسش نہ دلاسا نہ کوئی مرہم
رنج و آلام کی تصویر بنے بیٹھے ہیں
کیا نیا سال بدل دے گا کچھ دن ان کے بھی
یا اسی طور اسی ڈھب سے جیے جاینگے
سال آتے ہیں اور پھر سال چلے جاتے ہیں
سال نو کی ھو بحر حال مبارک سب کو
ھم کو امید ہے تو صرف اپنے رب سے ہے
وہ جو خالق ہے سنتا بھی ہے رحیم بھی ہے.

سال 2025 کی آمد قریب ہے، اور ہم ان آخری دنوں میں ہیں جہاں گزرے وقت کا حساب اور آنے والے وقت کے خواب ہمیں ایک نئے عزم کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ یہ وہ لمحات ہیں جو زندگی کے منظرنامے میں تبدیلی کا پیش خیمہ بنتے ہیں۔اب جبکہ 2024 کے ختم ہونے میں صرف 4 دن باقی ہیں، یہ وقت ہے اپنے دل میں جھانکنے کا، ان خوشیوں، غموں، کامیابیوں اور ناکامیوں کا جائزہ لینے کا جو گزرے سال نے ہمیں دیے۔ یہ دن نہ صرف ماضی کی یادوں کو دہرانے بلکہ آنے والے کل کی تعمیر کے لیے منصوبے بنانے کا موقع ہیں۔2025 ایک نیا سال ہے، ایک نیا باب، ایک نیا آغاز۔
اپنے خوابوں کو بلند اڑان دینے، اپنی منزلوں کے لیے راستے چننے، اور اپنے دل کے زخموں کو مندمل کرنے کا وقت۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ امیدوں کی شمع روشن کیجئے، کیونکہ:
ہزاروں خواب ہیں دل میں، ہزاروں زخم بھی،
یہ سال بھی گزر گیا، یہ درد بھی گزرے گا۔

ان آخری دنوں میں خود کو معاف کریں، دوسروں کو معاف کریں، اور زندگی کو کھلے دل سے گلے لگائیں۔ آنے والے دنوں کو اس دعا کے ساتھ خوش آمدید کہیں کہ یہ نہ صرف خوشیوں کا سال ہو بلکہ روحانی سکون، کامیابی، اور اطمینان کا بھی آغاز ہو2025 کا سال محبت، امن، خوشحالی، اور خوشیوں سے بھرپور ہو۔آئیے نئے سال کے موقع پر عزم کریں کہ ہم اپنی ہر طرح کی ذمہ داریاں مکمل ایمان داری سے پوری کریں گے، اچھا مسلمان اور اچھا شہری بننے کی کوشش کریں گے، اپنی ذات سے، باتوں میں یا عمل کے ذریعے، کسی کو نقصان نہیں پہنچائیں گے،اپنی اور اپنے ملک کی حالت بدلنے کی کوشش کریں گے اور اِس حوالے سے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے۔ پروردگار عالم سے دعا ہے کہ آنے والا سال پورے بنی نوع انسان کے لئے امن، سلامتی، بھائی چارے اور باہمی ہم آہنگی کا پیغام لائے اور نیا سال وباءسے نجات، مالی مسائل سے نکلنے اور عالمی سطح پر خوش حالی کا سبب بنے، آمین۔
سال گزر جاتا ہے سارا
اور کلینڈر رہ جاتا ہے
آئیے کوشش کریں کہ اگلا سال جب اختتام پذیر ہو تو صرف کیلنڈر باقی نہ رہ جائے بلکہ یہ سوچ کر ہمیں خوشی ہو رہی ہو کہ ہم نے وقت کا بہترین استعمال کیا اور کامیاب ٹھہرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں