الیکشن سے زیادہ اہم کام

101

تحریر:باسط علوی
پاکستان کو تاریخ کے بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے۔ یونائیٹڈ سٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پیس کی ویب سائٹ پر شہباز رانا کی اس سال اپریل میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پریشان کن بات یہ ہے کہ پاکستان کے سرکاری زرمبادلہ کے ذخائر 4 ارب ڈالر کے قریب ہیں جو کہ ملک کے ایک ماہ کے درآمدی بل کے بھی ناکافی ہیں .رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ دسمبر 2022 تک پاکستان کے ذمہ 126.3 بلین ڈالر کے بیرونی قرضے اور واجبات ہیں۔ اس قرض کا تقریباً 77 فیصد، جو کہ 97.5 بلین ڈالر بنتا ہے، حکومت پاکستان کی طرف سے مختلف قرض دہندگان پر براہ راست واجب الادا ہے۔ حکومت کے زیر کنٹرول پبلک سیکٹر انٹرپرائزز پر کثیر جہتی قرض دہندگان کے ذمے اضافی $7.9 بلین واجب الادا ہیں۔ پاکستان کے قرضوں کا بڑا حصہ کثیرالجہتی اداروں پر واجب الادا ہے جس کی رقم تقریباً 45 ارب ڈالر ہے۔ اسلام آباد کے اہم کثیر الجہتی قرض دہندگان میں ورلڈ بینک ($18 بلین)، ایشیائی ترقیاتی بینک ($15 بلین) اور IMF ($7.6 بلین) شامل ہیں۔ پاکستان اسلامی ترقیاتی بنک اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بنک کا بھی مقروض ہے۔ جبکہ پاکستان کے کل قرضوں کی ایک قابل ذکر رقم اور کثیر الجہتی قرض پاکستان کے لیے قلیل مدتی خطرات کا باعث نہیں ہے۔

زیادہ تر قرضوں کی شرائط 18 سے 30 سال پر محیط ادائیگی کی ٹائم لائن کے ساتھ بڑی حد تک رعایتی ہیں۔ زیادہ تر ادائیگیاں بہت سے چھوٹے لین دین میں پھیلی ہوئی ہیں۔ 2022-23 میں پاکستان نے کثیر الجہتی قرض دہندگان کو کل 4.5 بلین ڈالر کا قرض ادا کیا، جو اس سال کے لیے کل قرضوں کی ادائیگی کا پانچواں حصہ ہے۔پاکستان پیرس کلب کا 8.5 بلین ڈالر کا مقروض ہے، جو 22 بڑے قرض دینے والے ممالک کا گروپ ہے۔ یہ قرض 1% سے کم شرح سود کے ساتھ 40 سالوں میں ادا کیا جانا ہے، اور زیادہ تر جاپان، جرمنی، فرانس اور ریاستہائے متحدہ وغیرہ کو دینا ہے۔ پاکستان پر نجی قرضوں کی ایک بڑی رقم ہے۔ اس میں سے زیادہ تر نجی بانڈز، جیسے یورو بانڈز اور عالمی سکوک بانڈز کی شکل میں ہے، جس کی رقم 7.8 بلین ڈالر ہے۔ اس قرض میں سے کچھ حالیہ ہے: گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے 5، 10 اور 30 ​​سال کے یورو بانڈز کو فلوٹ کرکے پانچ سال کے لیے 6 فیصد اور 30 ​​سال کے لیے 8.87 فیصد کی شرح سود پر 2 بلین ڈالر اکٹھے کیے ہیں۔ پاکستان کے پاس تقریباً 7 ارب ڈالر کے غیر ملکی تجارتی قرضے ہیں جو رواں مالی سال کے اختتام تک بڑھ کر تقریباً 9 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ پاکستان کے تجارتی قرضوں کا زیادہ تر ذخیرہ چینی مالیاتی اداروں پر واجب الادا ہے، کیونکہ پاکستان نے اداروں کے بڑے غیر چینی تجارتی قرضوں کی ادائیگی کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق زیادہ تر تجارتی قرضے سخت شرائط کے ساتھ آتے ہیں۔ انہیں ایک سے تین سال کے درمیان قرض دہندگان کو ادا کرنا ہوگا۔ قرضوں کی شرح بھی بہت زیادہ ہے۔ کچھ لندن انٹربینک آفرڈ ریٹ (جسے LIBOR بھی کہا جاتا ہے) کے خلاف بینچ مارک کیا گیا ہے۔ دیگر، چینی تجارتی قرضوں کی طرح، شنگھائی انٹربینک آفرڈ ریٹ (SHIBOR) کے خلاف پیگ کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان نے حال ہی میں چائنا ڈیولپمنٹ بینک سے چھ ماہ کی SHIBOR کی شرح کے علاوہ 1.5 فیصد پر 2.2 بلین ڈالر کا تجارتی قرضہ حاصل کیا ہے۔یہ قرض تین سال کی مدت میں ادا کیا جانا ہے۔ پاکستان پر چین کا 27 ارب ڈالر کا قرض ہے۔ اس میں تقریباً 10 بلین ڈالر کا دوطرفہ قرضہ اور 6.2 بلین ڈالر کا قرضہ چینی حکومت کی طرف سے پاکستانی پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کو فراہم کیا گیا ہے، اور تقریباً 7 بلین ڈالر کے چینی تجارتی قرضے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چین کی اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن آف فارن ایکسچینج (SAFE) نے پاکستان کے مرکزی بینک میں 4 بلین ڈالر مالیت کے غیر ملکی ذخائر رکھے ہیں۔ دو طرفہ قرض 20 سال کی میچورٹی مدت کے ساتھ رعایتی شرائط پر ہے۔

27 بلین ڈالر کے قرض کے علاوہ، پاکستان کو چینیوں کے ساتھ کرنسی سویپ کی سہولت بھی حاصل ہے۔ پاکستان کا بڑا بیرونی قرضہ واپسی کے دباؤ کے ساتھ آتا ہے۔ اپریل 2023 سے جون 2026 تک پاکستان کو بیرونی قرضوں کی مد میں 77.5 بلین ڈالر کی ادائیگی کی ضرورت ہے۔ $350 بلین کی معیشت کے لیے یہ ایک بہت بڑا بوجھ ہے۔ اگلے تین سالوں میں بڑی ادائیگیاں چینی مالیاتی اداروں، نجی قرض دہندگان اور سعودی عرب وغیرہ کو ہوں گی۔پاکستان کو قریب المدت قرضوں کی ادائیگی کے دباؤ کا سامنا ہے۔ اپریل سے جون 2023 تک بیرونی قرضوں کی فراہمی کا بوجھ 4.5 بلین ڈالر ہے۔ بڑی ادائیگیاں جون میں ہونے والی ہیں جب 1 بلین ڈالر چینی سیف ڈپازٹ اور تقریباً 1.4 بلین ڈالر کا چینی کمرشل قرض میچور ہو جائے گا۔ پاکستانی حکام امید کرتے ہیں کہ چینیوں کو دونوں قرضوں کی ری فنانس اور رول اوور کرنے پر راضی کریں گے، ایسا ہی کچھ چینی حکومت اور کمرشل بینک ماضی میں کر چکے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر پاکستان ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو آئندہ مالی سال زیادہ چیلنجنگ ہو گا، کیونکہ قرض کی فراہمی تقریباً 25 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

اس میں $15 بلین قلیل مدتی قرضے اور $7 بلین طویل مدتی قرضے شامل ہیں، بشمول چوتھی سہ ماہی میں یورو بانڈ پر $1 بلین کی اہم ادائیگی۔قلیل مدتی قرضوں کی ادائیگیوں میں $4 بلین چینی سیف ڈپازٹس، $3 بلین سعودی ڈپازٹس اور $2 بلین یو اے ای کے ذخائر شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ، پاکستان کو چینی بینکوں کو مزید 1.1 بلین ڈالر کے طویل مدتی تجارتی قرضے واپس کرنے کی ضرورت ہوگی۔ 2024-25 میں پاکستان کیے قرض کی ادائیگی تقریباً 24.6 بلین ڈالر ہونے کا امکان ہے، جس میں 8.2 بلین ڈالر طویل مدتی قرضوں کی ادائیگی اور مزید 14.5 بلین ڈالر کی مختصر مدت کے قرض کی ادائیگی شامل ہے۔ اس میں چینی قرض دہندگان کو 3.8 بلین ڈالر کی بڑی ادائیگیاں شامل ہیں۔ 2025-26 میں قرض کی سروسنگ کا بوجھ کم از کم $23 بلین ہونے کا امکان ہے۔ اس سال پاکستان کو طویل مدتی قرضے کی مد میں 8 بلین ڈالر کی واپسی کرنی ہے، جس میں یورو بانڈ کے لیے 1.8 بلین ڈالر اور چینی تجارتی قرض دہندہ کو 1.9 بلین ڈالر کی ادائیگی بھی شامل ہے۔

قارئین، حقائق اور اعداد و شمار واضح طور پر پاکستان کے لیے مشکل منظر نامے کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان کے لیے انتخابات میں جانے سے پہلے ان معاشی بحرانوں سے نکلنا ضروری ہے۔پھر ایک اور پوائنٹ کی طرف آتے ہیں۔پوری قوم دیکھ چکی ہے کہ 9 مئی کو کیا ہوا اور کس طرح فسادیوں کے ایک گروہ نے فوجی اور سویلین تنصیبات پر حملہ کیا۔ انہوں نے وہ شرمناک کام کر دکھایا جو ہمارے بدترین دشمن 75 سالوں میں نہیں کر سکے۔ پوری قوم مطالبہ کرتی ہے کہ 9 مئی کے مجرموں اور دہشت گردوں کو جلد سے جلد سزا دیکر مثال قائم کی جائے۔ سویلین اور آرمی قیادت 9 مئی کے دہشت گردوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہے۔حال ہی میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ 9 مئی کے منصوبہ سازوں اور ماسٹر مائنڈز کے خلاف قانون کی گرفت مضبوط کرنے کا وقت آگیا ہے۔پاکستان آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں آرمی کی فارمیشن کمانڈرز کانفرنس ہوئی جس میں کور کمانڈرز، پرنسپل اسٹاف آفیسرز اور پاک فوج کے تمام فارمیشن کمانڈرز نے شرکت کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فورم نے شہداء کی عظیم قربانیوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ریاست پاکستان اور مسلح افواج شہداء اور ان کے اہل خانہ کو ہمیشہ عزت اور وقار کے ساتھ رکھیں گی۔ آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاک فوج علاقائی سالمیت کے تحفظ کی اپنی قومی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ 9 مئی کے یوم سیاہ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے فورم نے اپنے اس پختہ عزم کا اعادہ کیا کہ شہداء کی یادگاروں، جناح ہاؤس اور فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کو پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔اس موقع پر آرمی چیف نے کہا کہ کثیر تعداد میں جمع ہونے والے ناقابل تردید شواہد کو جھٹلایا یا مسخ نہیں کیا جاسکتا، تفریق پیدا کرنے کی تمام کوششیں اور جعلی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے پیچھے پناہ لینے کی تمام کوششیں بے سود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم کے بھرپور تعاون سے تمام مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیں گے۔

آرمی چیف نے کہا کہ پاکستانی عوام اور مسلح افواج کے درمیان گہرا رشتہ ہے جو کہ قومی سلامتی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیاسی سرگرمیوں کو دبانے کے بے بنیاد الزامات کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا اور مسلح افواج کو بدنام کر کے مذموم سیاسی مفادات حاصل کرنا ہے۔ فورم نے ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے والوں اور ملک میں انتشار پھیلانے والوں کے خلاف شکنجہ کسنے کی ضرورت پر زور دیا اور عزم کیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سازش کرنے والوں اور ماسٹر مائنڈز کے خلاف قانون کی گرفت مضبوط کی جائے۔ قارئین، الیکشن۔ایک بہت مہنگا پروسس ہے اور الیکشن کرانے کے لیے اربوں روپے، انفراسٹرکچر اور وسائل درکار ہیں۔ کیا ایسے بدترین معاشی بحران میں اور 9 مئی کے مجرموں کو سزا دینے سے پہلے (ان کی مزید حوصلہ افزائی کرتے ہوئے) الیکشن میں جانا دانشمندانہ قدم ہے؟ کیا فسادیوں،بلوائیوں اور دہشت گردوں کو انتخابی عمل میں حصہ لینے اور پارلیمنٹ میں واپس آنے کی اجازت دینا احسن اقدام ہے؟ میں یہ سوالات اپنے قارئین اور فیصلہ سازوں پر چھوڑ رہا ہوں تاکہ ایک پیچیدہ اور مہنگے انتخابی عمل میں جانے سے پہلے سمت اور ترجیحات کا تعین کیا جا سکے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں