انصاف کی تلاش

109

تحریر:سردار آفتاب چئیرمین جموں وکشمیر یونائٹیڈ فورم راولپنڈی اسلام آباد
اسلام آباد میں کشمیری نوجوان محمد عاطف کا ناحق قتل کو اڑھائی ماہ بیت گئے قاتل کیوں نہ پکڑا گیا؟9 دسمبر 2024 کو پی ڈبلیو ڈی اسلام آباد میں میں ایک ہنستے بستے گھرسنے کا چراغ گل ہو گیا۔ ایک معصوم بھائی، جس کا جُرم شاید صرف جینا تھا، ظالموں کے ہاتھوں بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اڑھائی ماہ گزرنے کے باوجود قاتل کیوں نہیں پکڑا گیا؟ اسلام آباد پولیس ، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس تو جدید ٹیکنالوجی بھی موجود ہے لیکن عاطف کے قاتل تاحال گرفتار نہ ہوسکے ۔ یقیناً پولیس ، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہت بڑی نااہلی ہے یا جیبیں گرم کرکے خاموش ہیں ۔ ان کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔

کیا قانون صرف کمزوروں کے لیے ہے؟ کیا انصاف صرف کاغذوں میں دفن ہو چکا ہے؟اندھیر نگری چوپٹ راج ہے. قتل کے بعد وہی روایتی کہانی شروع ہوئی ۔ پولیس موقع پر پہنچی، شواہد اکٹھے کیے، فائلیں بنیں، بیانات ریکارڈ ہوئے، مگر کیا ملا؟ کچھ بھی نہیں! قاتل آزاد گھوم رہے ہیں ، مقتول کی بیوہ ، یتیم معصوم بچے اور اہل خانہ انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، اور قانونی ادارے غفلت کی نیند سو رہے ہیں۔یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا۔ ہمارے معاشرے میں قتل ہونا معمول بن چکا ہے، مگر انصاف ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ ہر بار یہی سوال اٹھتا ہے کہ قاتل کیوں نہیں پکڑا گیا؟

کیا وہ بااثر تھا؟کیا اس کے پاس پیسہ تھا؟کیا وہ کسی بڑی شخصیت کا رشتہ دار تھا ؟ کیا انصاف کی کرسی پر بیٹھنے والے نے پیسہ لے کر قانون وانصاف کاگلہ گھونٹ دیا؟ یا پھر قانون صرف اندھا نہیں، بلکہ اندھا، بہرا ، رشوت خور اور بے حس ہو چکا ہے؟سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ قانون انصاف کا گلہ گھونٹنے والوں نے تو اپنی تجوریاں بھر لیں اپنی جیبی گرم کرلیں ۔ عاطف کے معصوم بچوں ، بیوہ ، دکھی ماں ، بہن بھائی اور اہل خانہ کو انصاف کون دے گا؟ بے گناہ عاطف شہید ، جو کبھی واپس نہیں آئے گا.

جس پر خاندان والوں کو بڑا مان تھا ، آج اس کی جگہ ایک قبر رہ گئی ہے۔ وہ بھائی جو اپنے ماں باپ کا سہارا تھا، بہنوں کا محافظ تھا، بھائیوں کا فخرتھا آج صرف تصویروں میں زندہ ہے۔ اس کی ماں ، معصوم بچوں اور اہل خانہ کی آنکھیں ہر وقت دروازے کی طرف لگی رہتی ہیں، جیسے وہ ابھی لوٹ کر آ جائے گا۔ لیکن وہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔

قاتلوں کی دیدہ دلیری، قانون کی کمزوری
قاتل کھلے عام گھوم رہے ہیں، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ وہ ہنستے ہیں، جشن مناتے ہیں، اور قانون کا مذاق اڑاتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ یہاں انصاف خرید لیا جاتا ہے، یہاں طاقتور ہمیشہ بچ نکلتا ہے۔پولیس اور عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹانے سے کچھ نہیں ملتا۔ ہر بار ایک ہی جواب ملتا ہے.تحقیقات جاری ہیں، ہمیں وقت دیں، جلد انصاف ہو گا.مگر یہ “جلد” کبھی نہیں آتی۔

یہ ناانصافی کب تک؟
کب تک بے گناہوں کا خون بہتا رہے گا؟ کب تک ماں باپ اپنے بچوں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے؟ کب تک قاتل دندناتے پھریں گے اور مقتول کے خاندان کو دھمکیاں دی جاتی رہیں گی؟یہ تحریر صرف ایک سوال نہیں، یہ ایک فریاد ہے۔یہ ایک چیخ ہے جو ان گونگے بہرے اداروں کو سنانے کے لیے لکھی جا رہی ہے۔یہ ان درندوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش ہے جو قانون کو اپنے پیروں تلے روند کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔انصاف چاہیے، ورنہ قانون پر سے اعتماد اٹھ جائے گا.

اگر یہ ظالم آزاد رہے، اگر قانون بے حس رہا، اگر عدالتیں خاموش رہیں، تو پھر یہ ملک صرف جنگل بن کر رہ جائے گا- جہاں صرف طاقتور کا راج ہو گا، جہاں غریب اور بے سہارا لوگ روز قتل ہوتے رہیں گے، اور ان کے اہل خانہ صرف آسمان کی طرف دیکھ کر انصاف کی دعا مانگتے رہیں گے۔یہ وقت ہے کہ عوام جاگے، کہ انصاف کی آواز بلند کی جائے، کہ قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے! ورنہ کل یہ ناحق قتل کسی اور کے دروازے پر بھی دستک دے سکتا ہے.جموں وکشمیر یونائیٹدفورم راولپنڈی اسلام آباد کے پلیٹ فارم سے بہت جلد اگلے لائحہ عمل کااعلان کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں