انوار الحق سرکار ہر شعبے میں ناکام، عوامی احتجاجی تحریکوں نے حکومت پر عدم اعتماد کردیا

46

اسلام آباد(کاشف میر)آزادجموں کشمیر میں چوہدری انوار لحق کو وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھائے ساڑھے تین ماہ گزر گئے، انوار حکومت گورننس، تعمیر و ترقی اور تنازعہ جموں کشمیر سمیت جملہ امور حکومت میں ٹیک آف کرنے میں مکمل ناکام رہی.انوار الحق اپنے آبائی حلقے سمیت کسی بھی شہر میں عوام کا سامنے نہیں کر سکے، گزشتہ تین ماہ میں ریاست بھر میں مہنگائی، آٹے کی قیمتوں میں اضافے اور بجلی کے بلات میں ناجائز ٹیکسز میں اضافوں کے خلاف کئی بڑے احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں.

وزیر اعظم نے اساتذہ کی تنظیموں کے ذمہ داران کو پولیس سے گرفتار کرایا، ٹریڈ یونینز پر پابندی عائد کرنے سمیت ریاست کے درجنوں اخبارات پر پابندیاں عائد کیں، انوار الحق تمام اختیارات اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں، درجنوں وزراء کئی ماہ سے بے محکمہ ہیں. قانون ساز اسمبلی کے چار اجلاس ہوئے جن کی کاروائی محض ایک، ایک دن سے آگے نہ بڑھ سکی، حکومت اسمبلی کاروائی اور سوال جواب کے خوف میں مبتلا رہی، وزیراعظم انوار الحق نے اپنا وقت گزشتہ دوسالوں کے دوران مختلف محکمہ جات کے ترقیاتی منصوبوں، تعیناتیوں ، تقرریوں کی فائلوں کے مطالعے میں صرف کردیا، آزادکشمیر بھر میں سینکڑوں منظور شدہ ایسے منصوبے جن کے ٹینڈر بھی جاری ہو چکے تھے ان کو حکومت نے منسوخ کردیا، مظفرآباد کارڈیک ہسپتال سمیت اہم منصوبے جو مکمل ہو چکے ان کا افتتاح بھی نہ کیا جا سکا، وزیر اعظم دارلحکومت میں صرف چند دن ہی گزار سکے جبکہ اپنا زیادہ وقت کشمیر ہاوس اسلام آباد میں گزارتے ہیں.

ماہرین کے مطابق چوہدری انوار الحق جو 52 کے ایوان میں 48 ووٹ لیکر وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے انہوں نے میرٹ گڈ گورننس کا دعویٰ کیا تھا لیکن اب تک انکی حکومت ٹیک آف نہیں کر سکی، حکومت کے اتحادی ممبران اسمبلی اختیارات نہ دیئے جانے پر وزیر اعظم سے نالاں ہیں، وزیر اعظم نے اب تک جو بھٰی فیصلے کیے وہ اپنے ممبران اسمبلی سے مشاورت کیے بغیر بذریعہ سرکلر کیے. اس طریقہ کار پر تمام حکومتی ممبران اسمبلی اپنے وزیر اعظم سے نالاں ہیں جبکہ اتحادی جماعتوں سمیت پی ٹی آئی کے فارورڈ بلاک کے ممبران اسمبلی وزیر اعظم کی تبدیلی کیلئے مشاورت کر رہے ہیں. ماہرین کا کہنا ہے کہ ترقیاتی امور سمیت جملہ ریاستی امور میں ناکامی کے بعد اب تمام مکتبہ فکر وزیر اعطم کی ناکامی کا کھلے عام اعتراف کر رہے ہیں.

دوسری جانب وزیر اعظم انوار الحق نے درجنوں ریاستی اخبارات پر پابندیاں عائد کی ہیں، تنقید کرنے والے صحافیوں اور اداروں کے خلاف حکومت کی پالیسی پر میڈیا کمیونٹی میں بے چینی ہے. اس حوالے سے قائد حزب اختلاف خواجہ فاروق نے ایوان میں پوائینٹ آف آرڈر پر گفتگو کرتے ہوئے حکومت کو اخبارات پر پابندی لگانے پر تنقید کا نشانہ بنایا جس پر وزیر اعظم ایوان کو مطمئین کرنے میں ناکام رہے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں