تحریر:راجہ خرم
آزاد کشمیر جسے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر بھی لکھا جاتا ہے آج کل احتجاج، دھرنوں، شٹرڈاؤن اور ہڑتالوں کی زد میں ہے۔ احتجاج ا اور ہڑتالیں بھی ایسی کہ آزادکشمیر کے طول و عرض میں لوگوں کی ایک ہی آواز ہوتی ہے ۔ شہر تو بند ہوتے ہی ہیں مگر محلے اور گاؤں کے چھوٹے چھوٹے بازار یا دوکانیں بھی نہیں کھلتی۔ سوشل میڈیا میڈیا مان رہا ہے کہ ہڑتال اور احتجاج کامیابی سے بھی آگے نکلے چکے ہیں لیکن وزیراعظم آزادکشمیر جو خود بھی بظاہر آزاد ہیں لیکن ظاہر ہے اتنے آزاد بھی نہیں کہ آزادکشمیر کے ایک بڑے سرمایہ دار تنویر الیاس کو ہٹا کر وزیراعظم بنا دیے گئے، تحریک انصاف نیازی گروپ کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہے، ایم ایل ایز ان کو دیے گئے ہیں جنہیں ساتھ ملا کر وہ اس وقت غیر سیاسی حکومت کے سربراہ ہیں۔
اتنے سب احسانوں کے بعد ظاہر ہے وہ کسی نہ کسی کے مشکور اور احسان مند تو ہیں نا شاید اسی لیے ان کو ریاست کے ہر کونے میں پھیلے ہوئے احتجاج اور ہڑتالیں نظر نہیں آتی نہ ہی ان کی 32 رکنی کابینہ میں سے کسی کو نظر آتی ہیں۔ مین سٹریم میڈیا خاموش ہے لیکن بین الاقوامی اور سوشل میڈیا احتجاج کی مکمل کوریج کر رہا ہے لیکن ارباب اختیار ظاہر ہے اسی وقت جاگتے ہیں جب معاملات ہاتھ سے نکل جاتے ہیں تب ہنگامی اجلاس بلا کر وہی کام کرتے ہیں جو اگر پہلے کر دیا جاتا تو یہ نوبت ہی نہ آتی۔ حالات اس طرف کیوں جا رہے ہیں جہاں آپ کو آزادکشمیر بھر میں احتجاج نظر آتے ہیں آزادکشمیر کا جھنڈا نظر آتا ہے لیکن ڈھونڈنے سے بھی پاکستان کا پرچم ان احتجاجوں میں نظر نہیں آتا۔ سپریم کورٹ نے متنازعہ جسے کالا قانون بھی کہا جا سکتا ہے معطل کر دیا پھر بھی احتجاج کیوں ہو رہے ہیں اور اتنے کامیاب کیوں ہیں؟
اس سب کے پیچھے ایسے کیا محرکات ہیں جو ایکشن کمیٹی کی ایک کال پر آزادکشمیر بند ہو جاتا ہے حالانکہ ہر حلقے سے وزیروں مشیروں کی فوج موجود ہے جو ہوٹر والی گاڑیوں اور پروٹوکول کے مزے لے رہے ہیں۔ آزاد کشمیر کی حالیہ تاریخ میں ایسی ہڑتالیں، احتجاج اور مظاہرے دیکھنے کو نہیں ملے ۔ سیاسی جماعتوں سے مایوس لوگ اب ایکشن کمیٹی کی ایک کال پر نکل آتے ہیں۔ اگر موجودہ صورتحال پر تجزیہ کیا جائے تو اس صورتحال اور کشمیریوں کی مایوسی کا 5 اگست 2019 وہ دن تھا جب بھارت نے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کیا اور اس کے بعد سابقہ امت مسلمہ کے لیڈر نے محض خاموش احتجاج اور اقوام متحدہ میں چنز جذباتی باتوں کا لولی پاپ دیا عملی طور پر کوئی سفارتکاری نہیں کی اور نہ ہی کوئی عملی قدم اٹھایا۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آپ کی شہ رگ پر حملہ ہوا ہے تو آپ بھی جسم کے کسی حصے پر چھوٹا موٹا حملہ کرتے یا پھر محض تڑیاں ہی لگاتے لیکن آپ نے اسمبلی میں آ کر کہہ دیا کہ کیا میں اب بھارت پر حملہ کر دوں یعنی آپ کا مطلب تھا کہ اب میں کچھ نہیں کر سکتا جو ہو گیا وہ ہو گیا۔ ویسے بھی بھارت نے یہ کام یکطرفہ تو نہیں کیا ہو گا بلکہ وائٹ ہاؤس میں جب آپ کو بلایا گیا کشمیر کی بات کی گئی ٹرمپ نے مودی کی خواہش کا بھی اظہار کیا کہ وہ چاہتے ہیں مسئلہ کشمیر حل ہو تو ظاہر آپ کو بتایا گیا ہو گا کہ مسئلہ کشمیر کا مودی ٹرمپ ممکنہ حل کیا ہو سکتا ہے اور پھر اس کے فوری بعد ہی یہ کام ہوا ۔ یہاں سے مایوسی کے دور کا آغاز ہوا ۔
اس سے آگے چلیں تو آزادکشمیر میں دو وزرائے اعظم کو قربان کر کے جب سلطان راہی کی طرح کے سیاستدان چوہدری انوارالحق کو جب وزیراعظم بنایا گیا اور ان کو سب جماعتوں کے ایم ایل ایز اکٹھے کر کے دیے گئے تو یہ موجودہ صورتحال کا آغاز تھا۔
کیونکہ آزادکشمیر کے اندر موجود جماعتوں میں سے کئی بھی انوار سرکار کو بطور جماعت قبول نہیں کرتی مگر ان کے ایم ایل ایز حکومت میں موجود ہیں۔ اسی وجہ سے موجودہ حکومت کو ایم ایل ایز کی حکومت کہا جاتا ہے نہ کہ کسی جماعت کا ۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین حکومت کی پالیسی سے اختلاف کرتے ہیں تو ایم ایل ایز وزرا بھی خوش نہیں لیکن کیا کریں کچھ کر نہیں سکتے۔ آخر جھنڈے ولای گاڑی کا بھی اپنا ہی مزہ ہے۔ سیاسی جماعت کی حکومت جب عوام ی امنگوں کے خلاف کوئی اقدام کرتی ہے تو کوئی سیاسی جماعت اس کے خلاف نکلتی ہے یا پھر اگر لوگ بھی نکلیں تو وہ ایک سیاسی حکومت کے خلاف نکلتے ہیں لیکن موجودہ صورتحال میں جو احتجاج اور شٹرڈاؤن کی تحریک چل رہی ہے اس میں تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنا ن ماسوائے لیڈران، ایکشن کمیٹی، تاجر، نیشنلسٹ جماعتوں کے کارکنا ن ، طلبا، مزدور ہر طبقہ شامل ہو رہا ہے۔ عوام کو یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ بنیادی طور پر حکومت انوار سرکار کی نہیں بلکہ کسی اور کی ہے ۔
گزشتہ 75 سالوں سے ایسے ہی نظام چلتا تھا لیکن اس مرتبہ نظام سے جماعتوں کو آؤٹ کر دیا گیا ہے ، اس مرتبہ عوامی نمائندہ حکومت نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ ایم ایل ایز، سیاسی جماعتیں اور وزرا غیر ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ کسی پروگرام میں جاتے ہیں تو اب نعرے نہیں وجتے نہ ہی لوگ ان کے پیچھے پیچھے پھرتے ہیں ہاں چند لوگ نظریاتی اور اپنے مفاد کے لیے تاحال سیاسی جماعتوں سے منسلک ہیں لیکن وہ بھی پارٹی پالیسی کے برعکس احتجاج میں شرکت کرتے ہیں۔ نظریہ پاکستان جو آزادکشمیر میں تھا وہ اب اس طرح مضبوط نہیں رہا جیسے ماضی میں ہوتا تھا اور اس کی وجہ عوامی خواہشات کے برعکس سلطان راہی کی حکومت ہے جو ڈنڈے اور جھنڈے سے چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکومت آزادکشمیر تو اب محض جھنڈوں کی حد تک محدود ہے جسے عوام سے دلچسپی کم اور کرسی سے زیادہ ہے۔ اگر مسائل کو حل کرنا ہے تو سیاسی اور عوامی حکومت کا قیام سب سے بہتر اقدام ہو سکتا ہے۔
عوام جس جماعت کو منتخب کرے انہیں حکومت کرنے دیں، وہ کام کریں گے تو ٹھیک نہیں تو عوام ان ہی کے خلاف نکلیں گے۔ عوام کے مطالبات جائز ہیں لیکن اتنے بڑے نہیں ہیں کہ ان کو پورا نہ کیا جا سکے، احتجاج کی شدت بھی بڑھتی جا رہی ہے لیکن مسلسل احتجاج اگر ہوتے رہیں تو وہ بے وقعت بھی ہو جاتے ہیں۔ کسی ایک مسئلے پر ریاست کا نظام جام کر دینا بھی کوئی زیادہ احسن اقدام نہیں ہے لیکن جب مسائل حل کرنے کی خواہش، سکت، طاقت نہ ہو تو چھوٹے مسائل بڑے ہو جاتے ہیں۔ غیر ضروری قوانین بنانے کے بجائے عوام پر توجہ دیں آج بھی آزادکشمیر میں کچی سڑکوں کو ترقی کا نام دیا جاتا ہے، کسی سکول کی عمارت بن جائے تو خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے، بخار آ جائے تو ڈاکٹر کہتا ہے پنڈی چلے جاؤ، بلدیاتی نمائندے بھی دربدر ہیں، پرانے سیاستدان بھی غائب ہیں اور نئے سیاستدانوں کو عوام نہیں مانتی لیکن عوام خود کو منوا رہی ہے، آپ آزادکشمیر کے کونے کونے میں دیکھ سکتے ہیں جو موجودہ قیادت ہے آج سے 1 سال قبل ان کا نام تک کوئی نہیں جانتا تھا لیکن آج ان کی کال پر لاکھوں لوگ نکل آتے ہیں۔ زور زبردستی سے اگر مسائل حل کیے جائیں گے تو خرابی مزید بڑھے گی البتہ پیار محبت سے کافی الجھے مسائل سلجھ جاتے ہیں۔