اپیل بنام سردار عتیق احمد خان ایم ایل اے حلقہ غربی باغ آزاد کشمیر

123

تحریر:راجہ ارشد
1987 یعنی آج سے تقریبا 37 سال قبل اس وقت کے وزیراعظم آزاد کشمیر سردار سکندر حیات خان مرحوم ڈھک شکر پڑیاں تشریف لائے تھے اس وقت آپکے والد محترم سردار محمد عبدالقيوم خان مرحوم صدر ریاست اور اپکے چچا خان عبدالغفار خان مرحوم اس حلقہ کے ایم ایل اے تھے.تحصیل دھیرکوٹ کا گاؤں ڈھک جس کے کچھ احباب جنھوں نے 1970 اور 80 کی دہائی میں عرب ممالک میں جا کر روزگار حاصل کیا اور انکے اس بہتر روزگار کی وجہ سے گاؤں ڈھک علاقے کا متمول گاؤں شمار کیا جانے لگا. ان احباب میں کچھ ابھی زندہ ہیں اور بیشتر اس دنیا سے رخت سفر باندھ چکے.

مرحوم ڈاکٹر راجہ عارف خان، ڈاکٹر راجہ یسین خان، حاجی محمد شیر خان مرحوم، راجہ محمد آزاد خان مرحوم، راجہ فاروق خان، راجہ سجاول خان مرحوم، راجہ نواز خان، راجہ حنیف خان، راجہ ارشاد خان، چئیرمین راجہ عارف خان مرحوم راجہ حنیف خان مرحوم، راجہ شیر محمد خان مرحوم، راجہ رشید خان مرحوم، راجہ مجید خان مرحوم راجہ محمد فیاض خان، راجہ خورشید احمد خان، راجہ معظم خان، راجہ گلزار خان اور دیگر کئی سارے کرداروں نے بیرون ممالک میں رہتے ہوئے وہاں کی ترقی ہوتے دیکھ کر اس وقت یعنی 1987 میں اپنے گاؤں اور علاقے کیلئے سڑک، سکول اور تعمیر و ترقی کیلئے اپنا حصہ ڈالنے کا ارادہ و عزم ظاہر کیا اور آپس میں مشاورت سے یہ طے پایا کہ اس وقت کے وزیراعظم مرحوم سردار سکندر حیات خان کو اپنے گاؤں مدعو کر کے ان کے سامنے اپنی پسماندگی اور علاقائی مسائل رکھے جائیں.

بہت بڑا اور کامیاب پروگرام ہوا اور سینکڑوں عفت ماب سکول کی بچیوں نے گاؤں ڈھک شکر پڑیاں کی اس کچی سڑک پر آنے والے وزیراعظم پر منوں پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور ایک زبردست استقبال اور پروگرام منعقد ہوا اور بعد ازاں ڈاکٹر یسین صاحب کے گھر ایک پرتکلف ظہرانے پر اپنے علاقائی مسائل وزیراعظم کے سامنے رکھے گئے اور وزیراعظم صاحب نے ان مسائل کو حل کرنے کیلئے وعدے اور اعلانات کیے اور رخصت ہوئے.آج 37 سال گزر گئے لیکن شکر پڑیاں کی روڈ اسی حالت میں ہے جس پر وزیراعظم سکندر حیات مرحوم 1987 میں تشریف لائے تھے .

اس وقت یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ وزیراعظم سکندر حیات خان مرحوم کا ڈھک کا دورہ کرنا اس وقت کے صدر ریاست اور ایم ایل ائے صاحب کو پسند نہیں آیا.تاہم اس وقت کی غیر مصدقہ خبر کی 37 سال بعد عملا تصدیق ہو گئی جب آج بھی پدر مستو، شکر پڑیاں، ہوڑوٹ اور رنگلہ روڈ کو جوڑا نہ جا سکا اور ہزاروں کی آبادی 1980 کی دہائی میں رہنے پر مجبور ہے.75 سال سے اقتدار میں رہنے والا خاندان اتنا منتقم مزاج کیسے ہو سکتا ہے؟ اللہ تعالٰی نے آپکو جو طاقت عطا کی تھی کیا اسکا اپ نے درست استعمال کیا ہے؟ اور اپکے خاندان کی جو دو شخصیات جو اللہ تعالٰی کے حضور پیش ہو چکیں انکا حساب تو اللہ کو ہی پتہ ہے لیکن آپ تو ابھی اس دنیا میں ہیں اور ان دنیا چھوڑ جانے والوں کا صدقہ جاریہ بھی ہیں .کہیں آپ اس کھلم کھلا نا انصافی کے مرتکب تو نہیں ہو رہے ہیں؟

کسی دوسری پارٹی کے وزیراعظم کو بھی اپنے حلقے کا ایم ایل اے ہونے کی وجہ سے کام نہ کرنے دینا کیا یہ ناانصافی نہیں ہے؟ یہ کیسا انتقام ہے جسکی آگ 40 سال بعد بھی نہ ٹھنڈی ہو سکی؟ آپکا حلقے کو پسماندہ رکھنے کا گیپ اتنا زیادہ ہے کہ 500 میٹر کے منصوبے اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہیں اور حلقے کی پسماندگی دور کرنے کیلئے مزید 50 سال درکار ہیں.آگے بڑھیے اور پورے حلقے کا نمائندہ ہونے کا ثبوت دیجیے اور موجودہ وزیراعظم سے اپنے حلقے کیلئے خصوصی پیکج لیجیے
اور اگر ہو سکے تو اپنا ظرف بڑا کر کے خود ڈھک شکر پڑیاں تشریف لے جائیں جہاں سکندر حیات مرحوم تشریف لائے تھے اور ایک بڑی آبادی کی روڈ کو پختہ اور رنگلہ سے جوڑنے کیلئے ہنگامی اقدامات کریں.

كل من عليها فان ○ ويبقى وجه ربك ذو الجلال والإكرام○

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں