تحریر: خواجہ کاشف میر
آزادکشمیر کی سیاسی قیادت ان دنوں خاصی متحرک ہے اور ایک دوسرے سے ملاقاتیں کی جارہی ہیں۔ وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد لائے جانے کی بازگشت ہے، صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود ان دنوں سب کی توجہ کا مرکز ہیں، پیپلز پارٹی قیادت بیرسٹر گروپ کے ممبران اسمبلی کو اپنی پارٹی میں لانے کی پیشکش کر رہی ہے، اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق سمیت سیاسی جماعتوں کے سربراہان صدر ریاست سے سیاسی ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
دوسری طرف مسلم لیگ ن کے صدر شاہ غلام قادر جہاں ایک طرف وزیراعظم پاکستان ، ڈپٹی وزیراعظم پاکستان ، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ ، خواجہ سعد رفیق سمیت دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں کر رہے ہیں وہیں شاہ غلام قادر نے سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس سے بھی ملاقات کی ہے۔ سردار تنویر الیاس باغ کے دورے پر ہیں جہاں ان کے خطاب سے ایسا تاثر مل رہا ہے کہ وہ موجودہ وزیراعظم کو ہٹائے جانے کے خلاف ہیں۔
اسی طرح پیپلز پارٹی کے صدر چوہدری محمد یاسین بھی متحرک ہیں انہوں نے کراچی اور اسلام آباد میں اپنی پارٹی کی سینیئر قیادت سے ملاقاتیں شروع کر رکھی ہیں۔ سابق وزیراعظم سردار یعقوب خان اور راجہ فاروق حیدر خان بھی سیاسی لابنگ میں پیش پیش ہیں۔ دوسری طرف ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں آزاد کشمیر کے امور پر ہونے والے گزشتہ اجلاس میں وزیراعظم چوہدری انوار الحق کےانداز حکومت اور خطے میں سیاسی جماعتوں کوکمزورکرنےاورعوامی احتجاج پرقابو نہ پانے کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی گئی۔ اب اسحاق ڈار کی سربراہی میں آزادکشمیر کے امور پر دوسری نشست جلد ہی ہونے والی ہے۔
ڈرائنگ روم کی پالیٹکس کہیں یا سازشوں اور انتقام لینے کی مہارت، انوار الحق گزشتہ دو سال میں باقی سب پر بھاری نظر آئے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے نمبر تین نے جہاں انہیں رات کی تاریکی میں 52 میں سے 48 ووٹ دلا کر وزیراعظم بنایا وہیں بعد میں انوار کی کشتی کو ہر بھنور سے بھی نمبر تین نے با آسانی نکالا ہے۔ انوار الحق نے ایکشن کمیٹی کے احتجاج کو اپنا اقتداربچانے کیلئے اب تک بہترین انداز میں استعمال کیا، عوامی احتجاج کو بنیاد بنا کر مرکز سے اربوں روپے کے فنڈز اور بقایاجات الگ سے حاصل کیے۔
اب انوار سرکار کو اقتدار سے باہر نکالنے کے خواہش مندوں کی صلاحیت کا ایک مرتبہ پھر امتحان ہے کے ان میں سے کون اپنی پارٹی کی مرکزی قیادت(نواز شریف و آصف زرداری) اور اسٹیبلشمنٹ کو راضی کر سکے گا، نمب گیم پوری کرتے ہوئے اپنے لیے وزارت عظمی کی راہ ہموار کرا سکے گا۔
دوسری جانب سیاسی جماعتوں کی قیادت اپنی پارٹیوں کی آزادکشمیر میں ڈوبتی عوامی حمایت کو بچانے کی سر توڑ کوشش کر رہی ہے کیونکہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی انتہائی منظم تحریک اور اس کے نتیجے میں حاصل کیے گئے عوامی حقوق نے اس کمیٹی کو شہرت اور عوام کے اعتماد کی بلندیوں تک پہنچا رکھا ہے، سیاسی قیادت ہو یا وزیراعظم اور وزراء یا ممبران اسمبلی، تمام لوگ اپنے اپنے انتخابی حلقوں میں عوام کا سامنے کرنے کے قابل نہیں رہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی کو انوار الحق کی کمزور حکومت سوٹ کرتی ہے کیونکہ انوار الحق کی حکومت اب ایکشن کمیٹی کے سامنے مکمل بوکھلاہٹ کی شکار اور بے بس ہے، اسٹیبلشمنٹ اب احتجاجی تحریک سے نمٹنے کیلئے خون بہانے کے بلکل حق میں نہیں، کیونکہ اس سے قبل مئی میں جو قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور جس طریقے سے عوام نے ایکشن کمیٹی کا ساتھ دیا تو اسٹیبلشمنٹ کو سمجھ آ چکی ہے کہ نا صرف عوامی حقوق کیلئے لوگ اکٹھے ہو چکے ہیں بلکہ قوم پرست نظریہ کے حامیوں کی تعداد میں ایسا نمایاں اضافہ ہوا ہے جس سے ریاستی اداروں کی تشویش خاصی بڑھی ہے، انوار الحق سرکار سے ایکشن کمیٹی اب تک وہ مطالبات منوا چکی ہے جو شاید کسی ایک بھی سیاسی جماعت کی حکومت سے منوانا تقریبا نا ممکن ہوتا۔
اب ڈیڑھ سال سے کئی احتجاجی مظاہرے، کامیاب شٹر ڈاؤن ، ہزاروں افراد کی ریلیوں، دھرنوں، لانگ مارچ اور انٹری پوائنٹس کی کامیاب بندش کے بعد جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، حکومت کو مکمل شکست دے چکی ہے، اس عوامی جیت کے باعث ن لیگ ہو یا پیپلز پارٹی، مسلم کانفرنس ہو یا جماعت اسلامی، پی ٹی آئی ہو یا کے کے پی پی، تمام پارٹیاں اپنے لیے رائے ہموار کرنے اور عوامی حمایت حاصل کرنے کے راستہ تلاش کر رہی ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ بھی ان پارٹیوں کی قیادت کو پیغام دے رہی ہے کہ اپنی بقا کی جنگ خود لڑیں، جو پارٹی کا رہنماء ایکشن کمیٹی کے بیانیے پر قابو پا گیا ، اسٹیبلشمنٹ اس کی پیٹھ کے پیچھے کھڑی ہو جائے گی، اسی لیے مسلم کانفرنس بھی سر توڑ کوششیں کرتے ہوئے بنایہ بنانے کی کوششیں کر چکی، راجہ فاروق حیدر خان بھی ایکشن کمیٹی کے خلاف بیانیہ بنانے کی کوششیں کر رہے اور شاہ غلام قادر سمیت دیگر سیاسی رہنماء بھی ایکشن کمیٹی کے طاقت ور ہونے پر حکومت سے شکوے کرتے نظر آتے ہیں۔ اب تمام روایتی سیاسی جماعتوں کے قائدین عوامی ایکشن کمیٹی کے زور کو توڑنے کیلئے ملکر حکمت عملی بنانے کی کوشش کریں گے۔
سیاست کے کوئی مسلمہ اصول نہیں ہوتے، درست وقت پر درست فیصلے کرنے ہوتے ہیں، بیانیے کی جنگ ہے، سوشل میڈیا کے ذریعے بیانیے بنائے اور توڑے جاتے ہیں، آزادکشمیر کے عوام اب اپنے حقوق کے معاملے میں با شعور ہو چکے، اشرافیہ کی مراعات کم کرنا اور اپنے لیے صحت، تعلیم ، روزگار کے حقوق لینا اور با اختیار وسائل حکومت لینا عوام کی ترجیح ہے اور ایکشن کمیٹی ان مطالبات کو منوانے کیلئے حکمت عملی مرتب کر رہی ہے۔
سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ اپنی بقاء کی جنگ ایکشن کمیٹی کو شکست دیکر یا فارن فنڈنگ کے بے بنیاد الزامات لگا کر جیتی نہیں جا سکتی،پارٹیوں کی سیاست تب مضبوط ہو گی جب قانون ساز اسمبلی مضبوط ہو گی، قانون ساز اسمبلی میں عوامی حقوق اور عوامی مسائل پر بحث کھل کر بحث ہو گی، اسمبلی میں عوام فیصلے ہوں گے۔ اس لیے اسمبلی کی مضبوطی کیلئے سیاسی جماعتوں کو اقتدار سنبھالنا پڑے گا اور اس کیلئے نئے انتخابات کرانے ہوں گے تاکہ جس پارٹی کو عوام کی اکثریت نے ووٹ کے ذریعے مینڈیٹ دیا ہو وہ حکومت کی ذمہ داریاں سنبھالے اور عوام کے مطالبے پورے کرنے کی کوشش کرے۔