ایکشن کمیٹی اور حکومتی مذاکرات

186

سردار سیماب عباسی , آگاہی اور جدوجہد
ایکشن کمیٹی پر امن تحریک ہے ۔جس نے مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا۔13 مئی 2024 کو جب آزاد کشمیر حکومت نے 3 معصوم کشمیریوں کو شہید کر دیا پھر بھی ایکشن کمیٹی نے مذاکرات کیے۔13 مئی کے مذاکرات کے بعد حکومت نے عوام کی آواز کو دبانے کیلئے صدارتی آرڈیننس نافذ کر دیا اور سوشل ایکٹیوسٹ کے خلاف ایف آئی آر درج ہونا شروع ہو گئی۔عوامی ایکشن کمیٹی نے اس غیر فطری آرڈیننس کی منسوخی کیلئے 7 دسمبر کو انٹری پوائنٹس کی طرف مارچ کیا ۔8 دسمبر 2024 جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت کے درمیان کوہالہ کے مقام پر معاہدہ ہوتا ھے جسمیں حکومت نے ایکشن کمیٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈ پر عمل درآمد کیلئے 6 ماہ کا وقت مانگا۔
8 دسمبر 2024 کو کوہالہ کے مقام پر ہونے والے معاہدے میں حکومت نے پوائنٹ 11 میں تسلیم کیا کہ چارٹر آف ڈیمانڈ پر مکمل عمل درآمد کیا جائے گا ۔

مگر ھمارے سیاسی نظام کی کمزوری دیکھیں حکومت معاہدہ کر کے بھول گئی اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔بلاآخر 8 جون 2025 کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے وقت پورا ہونے پر معاہدہ منسوخ کر دیا ۔ایکشن کمیٹی اس 6 ماہ کے عرصے میں حکومت کو بار رہا معاہدے کے حوالے سے یاد دلاتی رہی مگر اس نظام کو کوئی اثر نا ہوا۔جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے لوکل ایکشن کمیٹیز کی مشاورت سے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا اور 29 ستمبر تک حکومت کو وقت دیا اس پر عمل درآمد کریں ۔ ستمبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی حکومت عوام کو دھمکیاں دینے لگی۔اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی اور اسمیں ایکشن کمیٹی کو انڈین ایجنٹ ثابت کرنے کیلئے سائفر لہرایا گیا ۔عوام کا غم و غصہ دیکھ کر وزیراعظم آزاد کشمیر سائفر سے انکار ہو گئے۔

عوام کی توجہ تقسیم کرنے کیلئے راولاکوٹ میں تمام سیاسی جماعتوں نے 21 ستمبر کو راولاکوٹ اور 22 ستمبر کو باغ جلسہ کرنے کا اعلان کیا۔ان دونوں جلسوں میں 4 سابق وزرائے اعظم اور موجودہ وزیراعظم خالی کرسیوں سے خطاب کرتے رہے ۔عوام کے غم و غصے اور آزاد کشمیر کی سیاسی اشرافیہ کی ناکامی کو دیکھتے ہوئے 23 ستمبر کو حکومت پاکستان ایک نوٹیفکیشن جاری کرتی ہے جسمیں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو 24 ستمبر کو مظفرآباد کے مقام پر دعوت دی جاتی ہے۔جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت پاکستان کے درمیان مذاکرات 13 گھنٹے چلتے رہے جسمیں حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان مہاجرین کی سیٹوں کے خاتمے اور سیاسی اشرافیہ کی مراعات پر ڈیڈ لاک برقرار رہا صبح 4 بجے مذاکرات ناکام ہو گئے۔

آزاد کشمیر کی باشعور عوام ایکشن کمیٹی مہاجرین کی سیٹوں کا خاتمہ کیوں چاہتی ہے ؟آزاد کشمیر کے جو انتخابی حلقے ہیں جن کا لاکھوں ووٹ ھے ان کا اور مہاجرین کے حلقوں کا بجٹ برابر ھے۔پاکستان کے صوبوں پہ لگنے والے آزاد کشمیر حکومت کے پراجیکٹ پر آزاد کشمیر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ۔ان پراجیکٹ پر کنٹرول متعلقہ صوبوں کا ھے ۔آزاد کشمیر پولیس متعلقہ صوبے کی مدد کے بغیر کسی شخص کی گرفتاری بھی عمل میں نہیں لا سکتی ۔جب اس علاقے میں حکومت آزاد کشمیر کا کنٹرول نہیں تو بجٹ کیسے لگتا ہے ؟
مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے آنے والے مہاجرین جو اس وقت آزاد کشمیر میں مختلف کیمپوں میں رہتے ہیں ان کو نمائندگی دی جائے۔

آزاد کشمیر کے سابق وزرائے اعظم گیس کے سلینڈر تک ریاستی بجٹ سے گھر لے جاتے ہیں ۔سابق وزرائے اعظم کو 50 ہزار گھر کا رینٹ ،گن مین ،400 لیٹر فیول اور مالی ریاست کی طرف سے ملتا ہے ۔دوسری طرف عوام کے بچے کھلے آسمان کے نیچے تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ہسپتالوں میں ریفر پیپر کے علاوہ علاج میسر نہیں ۔ایکشن کمیٹی نے اپنے 38 نکاتی چارٹر اف ڈیمانڈ میں حکومت سے مطالبہ کیا ھے غیر ضروری محکموں کا خاتمہ کیا جائے تاکہ ریاستی بجٹ پر بوجھ کم کیا جا سکے کیونکہ آزاد کشمیر کے 310 ارب کے بجٹ میں سے 262 ارب ملازمین کی تنخواہوں اور اشرافیہ کی مراعات میں خرچ ہوتا ھے ۔آزاد کشمیر کی باشعور عوام ایکشن کمیٹی عام آدمی کے باوقار زندگی کیلئے جدوجہد کر رہی ہے۔ اگر آپ چاہتے ہو آپ کی باوقار زندگی ہو 29 ستمبر عوامی حقوق کی جدوجہد میں شامل ہو کر اجتماعی شعور کا ثبوت دیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں