تحریر: سردار ندیم آزاد خان
صبح الخیر ۔۔ میری یہ تحریر تھوڑی لمبی ہے مگر دوستوں سے گزارش ھے کہ ضرور پڑھیں .آ ج کی یہ کہانی میرے دوست کی زبانی جس نے مجھے جنجھوڑ کر رکھ دیا میرا ایک دوست جو ماضی میں ول سیٹل مگر موجودہ حالات میں ایک سفید پوش زندگی گزار رہاہے میرے خان اوورسیز آفیس میں آیا مجھ سے کہنے لگا کہ مجھے کسی باہر ملک میں جانا ھے خدا راہ مجھے یہاں سے نکال دیں ۔۔۔ میں نے ویسے باتوں میں اس کو کہا کہ اب آپ کو اس عمر میں باہر جانے کی کیا ضرورت ہے میری اس بات پر اس کی آنکھوں میں آنسو آ گے اس کے الفاظ کل سے میرے دل اور دماغ میں کانٹے کی طرح چب رہے ہیں .
اس نے کہا کے کہتے ہیں کہ جنت ماں کے قدموں میں ہے مگر اصل بات جو ہے کہ ایک ماں سے زیادہ ایک باپ کی مشکلات زیادہ ھوتی ہیں ایک مرد جب ہنسی خوشی شادی کرتا ہے اس کی ذمہداری میں ماں باب بہن بھائیوں کے ساتھ اسکی بیوی کی صورت میں اضافہ ھوتا ہے پھر بچے ھوتے ہیں ان کی ذمہ داری ا جاتی ہے ۔۔ بیوی بچوں کو اچھا گھر چاہیے ھوتا ہی بچوں کو اچھے سکول میں داخلہ چاہیے ۔۔ اچھی گاڑی چاہیے .گھر میں کھانے پینے کی ھر ضرورت کو پورا کرنا ھوتاہے ۔۔۔ پھر جب بچے بڑے ھوتےہیں ان کی شادیوں کی فکر کے ساتھ ساتھ ان کےکی شادی میں ہونے والے اخراجات پورے کر نے ہوتے ہیں .
گھر میں اچھا کھانا بچوں کا دودھ بچوں کے لیے کھلونے سکولوں کی فیس ان کے لیے اچھے کپڑے پیوی کی ضروریات اچھا گھر روز مرہ اور ماہانہ ضروریات اگر کوئی گھر میں بیماری میں مبتلاہو جائے اس کا علاج ہر صورت میں باپ نے اپنے اولاد اور فیملی کے لیے پوری کرنا ھوتی ہیں ۔۔ گھر والوں کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کے مرد باہر دھوپ میں مزدوری کرتاہے ریڑی لگا رہا ہے چوری کرتا ہے مقروض ہو رہا ہے ۔۔جو بھی ہو مرد نے بجلی کا بل بھی دینا ہے گیس کا بل دینا ہے حتیٰ کہ چھوٹی سے چھوٹی اور سی بڑی بڑی ضرورت پورا کرنی ہے اپنا گھر نہیں ہے تو گھر کا کرایہ آپنی گاڑی نہیں ہے تو شفٹ کی گاڑی کے ماہانہ پیسے دینے ہیں حتی کہ گھر کا چولہا جلانے میں وہ ہر وہ کام کرے گا جواس کے بس سے باہر ہو مگر اس نے اپنی فیملی کو خوش کرنا ھوتا ہے .
جو لوگ باھر ممالک میں نوکری کی غرض سے جاتے تیس چالیس سال وہاں رہ کر کما کر اپنے گھر والوں اور رشتے داروں کی ضروریات پوری کر کے جب وہ اپنے ملک پاکستان آتے ہیں تو وہ عمر کے اس حصے میں ھوتے ہیں کہ ان کی کیئر کرنے والا کوئی نہیں ہوتا ۔۔انہوں نے اپنے بچوں کا بچپن لڑکپن اور جوانی صرف موبائل فون یا ویڈیو کال پے دیکھی ھوتی ہے 60 سال کی عمر میں جب وہ اپنے گاؤں ہا شہر میں ناکارہ ھو کر آتے ھیں تو انکے بچے شادی شدہ ہو کر اپنی زندگی میں مصروف ھوتے ہیں اور اان کی بیویاں اگر حیات ہو تو پڑھاپے میں خود کسی کی مدد کی محتاج ہوتی ہیں.
خلاصہ یہ کی ایک باپ اپنے ساری زندگی اپنی اولاد کی بہتری کے لیے گزار دیتا اور خود ساری زندگی کی خوشیوں سے محروم رہتا ہے .پاکستان میں آئی ایم ایف سے قرضے لے کر سہولت کاروں کے کی اربوں کی گاڑیاں خریدنے کے بجاے مفت تعلیم یا فری میڈیکل علاج دیا جاتا تو وہ بہتر نہیں تھا ؟میرے اس دوست کی باتوں نے مجھے سوچنے پر واقعی مجبور کیا کے زندگی کا خلاصہ کیا ہے ۔۔ اگر ماں کے قدموں تلے جنت صرف اس لیے رکھی گئی ہے کہ ماں نے بجے کو نو ماہ پیٹ میں رکھ کر تکلیف برداشت کی تو جو باپ عام ملازم ھو یا ہائی فائی اپنی ساری زندگی اپنے بیوی بچوں کےلئے خود تکلیف میں رکھ کر ان کی خوشی اور کامیابی کے لیے سب کچھ قربان کر دیتا ہےاس کو کیا صلا ملتاہے .
آج پاکستان میں رہنے والے ہر تیسرے گھر کی یہ پرابلم ہے کہ ایک باپ اپنی اولاد کو خوش رکھنے کے لیے لا زوال محنت کر رھا ہےسرکاری لوگوں کو تو پینشن مل رہی ہے آرمی کے نوجوان کو فری میڈیکل اور بے شمار سہولیات ۔۔عام عوام کے لیے کیا سہولت ہے ؟۔۔ تمام مغربی ممالک میں عوام کا ٹیکس جمع کر کے ان کے علاج معالجے اور بچوں کی مفت تعلیم پر خرچ کیا جاتق ھے اور 60 سال کی عمر کے بعد ریٹائرمنٹ کی صورت میں باقی ماندہ زندگی میں ان کو ماہانہ پیسے دیے جاتے ھیں تا کے کوئی کسی کا محتاج نہ رھے جبکہ پاکستان میں ٹیکس سے اکٹھی کی رقم حکمرانوں اور دیگر انتظامی آفیسران کی عیاشی کے لیے مختص کی جاتی ہے.
قبر تو امیر ھو یا غریب سب کی ایک ہے
اللّٰہ سبحان وتعالی سب کے لیے آسانیاں پیدا کرے آمین