برطانوی پارلیمنٹ کی رکن بیرسٹر یاسمین قریشی نےبھارت کی طرف سے کشمیری لیڈرشپ کو جیلوں میں علاج معالجہ کی سہولت نہ دیناپر آواز بلند کر لی

80

بولٹن یوکے(سٹیٹ ویوز)برطانوی پارلیمنٹ کی رکن محترمہ بیرسٹر یاسمین قریشی نے کہا ہے کہ کشمیری لیڈرشپ کو جیلوں میں علاج معالجہ کی سہولت نہ دینا جنیوا کنونشن و عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے. بھارت کو بالآخر اہل کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرتے ہوئے حق خود اختیاری دینا ہوگی ورنہ جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام ممکن نہیں ہے اور دونوں نیوکلیر ممالک پاکستان اور بھارت میں کشیدگی قائم رہے گی۔

وہ یہاں انسانی حقوق،امن اور مذہبی ہم آہنگی کے لئے سرگرم عالمی تنظیم انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ ڈیویلپمنٹ انسپاڈ کے صدر اور ممتاز کشمیری دانشور ڈاکٹر سردار محمد طاہر تبسم سے ملاقات میں بات چیت کر رہی تھی۔ یاسمین قریشی نے کہا کہ بھارت کو عالمی قوانین کی کھلے عام خلاف ورزی نہیں کرنی چاہئے اور کشمیر میں آبادی کے توازن کو بگاڑنے سے گریز کرنا چاہئے اور دونوں ممالک کو کشمیر پر مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے.

انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری حریت پسند رہنما یسین ملک کے حق میں چلائی جانے والی مہم میں سب کو بھرپور حصہ لینا چاہئے ایسے غلط اقدام بھارتی حکومت کو زیب نہیں دیتے۔ یاسمین قریشی نے کہا کہ اقوام متحدہ کو آزادی اظہار کی آڑ میں مذہبی منافرت کے خاتمے اور الہامی کتب کی حفاظت کا قانون بنانا چاہئے تاکہ مذہبی کشیدگی ختم ہو سکے۔ صرف مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے کا عمل قابل مذمت ہے۔

سردار محمد طاہر تبسم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم انتہائی قابل مذمت اور انسانیت کی توہین ہیں، ہندو توا اور آر آر آیس کی پالیسی پر عمل پیرا ہو کر بی جے پی حکومت نفرت اور انتشار میں اضافہ کا موجب بنی ہوئی ہے۔ بھارت میں کشمیریوں، سکھوں، مسلمانوں اور اقلیتوں پر انسانیت سوز ظلم اور ناانصافی ہو رہئی ہے بھارت میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں و علمی اداروں کو اس کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے۔ ممتاز کشمیری بزرگ رہنما سالار ممتاز چشتی نے کہا کہ ہماری تین نسلیں آزادی کی بھاری قیمت ادا کر چکی ہیں اور اسوقت بھی سرگرم ہیں کشمیر کی آزادی تک ہماری جدوجہد جاری رہئے گی۔ ملاقات میں انسپاڈ کی بانی رکن محترمہ عذرا ناز تبسم اور راجہ عارف جمروز بھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں