بھارتی سپریم کورٹ : جموں کشمیر کی ریاست بحال کرنے کا ٹائم فریم مانگ لیا، کیس کی سماعت جاری

49

نئی دہلی:بھارتی سپریم کورٹ نے بھارتی حکومت سے جموں کشمیر کی ریاست کو بحال کرنے کا ٹائم فریم مانگ لیا ہے۔مرکزی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ جموں و کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنا عارضی ہے، جس کے بعد عدالت نے ریاست کا درجہ بحال کرنے کرنے کیلئے ٹائم فریم مانگ کیا۔سابق ریاست جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کی منسوخی کو چیلنج دینے والی درخواستوں کی سماعت منگل کو دوبارہ شروع ہوئی تھی۔سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے دلیل دی کہ آئین میں کوئی بھی تبدیلی جو سب کو برابر لاتی ہے اسے کبھی بھی قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے۔دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کا دفاع کرتے ہوئے ایس جی مہتا نے کہا کہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ لفظ بھائی چارہ کو مثر معنی دیا جانا چاہیے۔درخواست گزاروں کی اس دلیل کا حوالہ دیتے ہوئے کہ آرٹیکل 370 کو مستقل مانا جانا چاہئے ایس جی مہتا نے کہا ، یہ دلیل سب سے پہلے مدھارا سندھیا معاملے میں سامنے آئی تھی جب حکومت نے پریوی پرس کو واپس لے لیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ شاہی ریاستیں اب موجود نہیں ہیں اس لئے پرائیوی پرس کا وجود بھی ختم ہو گیا ہے۔دریں اثنا چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ نے پیر 28 اگست کو کہا کہ آرٹیکل 35 اے نافذ کرکے ملک کے کسی بھی حصے میں مساوات کے بنیادی حقوق، پیشہ پر عمل کرنے کی آزادی اور دیگر کو عملی طور پر چھین لیا گیا ہے۔آرٹیکل 370 کی منسوخی پر سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا کی دلیلیں سننے کے بعد سپریم کورٹ نے کہا کہ جمہوریت کی بحالی ضروری ہے۔کشمیر کی خصوصی حیثیت کی تنسیخ کا 2019 کا اقدام سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔

مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کیخلاف بھارتی سپریم کورٹ نے جولائی کے آغاز میں پانچ رکنی بینچ تشکیل دیا تھا۔چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندر چور کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی آئینی بینچ آرٹیکل 370 کی منسوخی کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت 11 جولائی کو شروع کی تھی۔آئینی بینچ کے دیگرجسٹس بی آرگاوائی، جسٹس ایس کے کول چیف جسٹس ڈی وائی چندر چور، جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس سوریہ کانت شامل ہیں۔

آرٹیکل 370 سابقہ ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ فراہم کرتا ہیسپریم کورٹ کے سامنے 20 سے زائد درخواستیں زیر التوا ہیں، جس میں مرکزی حکومت کے آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔آرٹیکل 370 کی منسوخی کے ساتھ ہی جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہوگئی تھی، اور سابقہ ریاست کو بعد میں دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ میں دفعہ 370 اور 35 اے کی بحالی سے متعلق مقدمے کی سماعت میں تاخیر کو کئی مرتبہ جموں و کشمیر کے سیاسی جماعتوں نے سیاسی سازش قرار دیا ہے اور پاکستان بھی مقبوضہ جموں و کشمی کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کی مذمت کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں