بھارت ایک ابھرتی ہوئی ناکام ریاست

94

تحریر: عبدالباسط علوی
بھارت جمہوریت کا نام نہاد چیمپئن اور ایک سیکولر ریاست ہونے کا دعویٰ کرتا ہے مگر زمینی حقائق ان کے دعووں کے بالکل برعکس ہیں۔ بھارت ایک کامیاب ملک ہونے کا بھی دعویٰ کرتا ہے جو کہ سراسر غلط ہے۔ یہ دنیا کو ہندوستان کا اصلی چہرہ دکھانے کا بہترین وقت ہے۔ماحولیات کے حوالے سے دیکھا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان دنیا کے آلودہ ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ 2021 کی ورلڈ ایئر کوالٹی رپورٹ کے مطابق بھارت 100 سب سے زیادہ آلودہ شہروں میں سے 63 ویں نمبر پر ہے۔ نئی دہلی کو دنیا میں سب سے آلودہ ہوا کے معیار والا دارالحکومت کا نام دیا گیا ہے۔ اس تحقیق میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ PM2.5 ارتکاز کے ہوا میں موجود چھوٹے ذرات جن کی لمبائی 2.5 مائیکرو میٹر یا اس سے کم ہے ملک کے 48 فیصد شہروں میں 2021 کی WHO کی ہوا کے معیار کی گائیڈ لائن کی سطح سے 10 گنا زیادہ ہے۔

بھارت میں اظہار رائے کی آزادی نہیں ہے۔ میڈیا کو بھارتی مقبوضہ کشمیر، پنجاب، آسام وغیرہ میں کیا ہو رہا ہے اس کی حقیقی تصویر دکھانے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ ایک ایسے ملک کے منہ پر طمانچہ ہے جو ایک سیکولر ملک ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔بھارت جھوٹ اور جھوٹے پروپیگنڈے پر قائم ہے۔ یہ کوئی زیادہ دور کا واقعہ نہیں ہے جب پلوامہ ضلع میں ایک خودکش حملے میں 40 ہندوستانی نیم فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ بھارت نے پاکستان پر حملے کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا تھا جس نے دونوں ایٹمی طاقتوں کو ایک اور جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا تھا۔لیکن پاکستانی حکومت نے اس حملے میں اپنے ملوث ہونے کی تردید کی ۔ ستیہ پال ملک جو حملے کے وقت ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے گورنر تھے نے ہندوستان کی دی وائر نیوز ویب سائٹ کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ انھیں “اس بات کا احساس ہے کہ انتخابی فوائد حاصل کرنے کے لیے حملے کی تمام تر ذمہ داری پاکستان پر ڈال دی جائے گی”.

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے 2019 کے عام انتخابات میں ووٹرز کو متحرک کرنے کے لیے پلوامہ حملے کا بار بار حوالہ دیا تھا، جس میں وہ پارلیمنٹ میں بڑی اکثریت کے ساتھ اقتدار میں واپس آئے تھے۔ اپنے انٹرویو میں سابق گورنر ملک نے حملے کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا لیکن انہوں نے مزید کہا کہ یہ مودی حکومت کی ’’نااہلی‘‘ اور ’’لاپرواہی‘‘ کی وجہ سے ہوا۔ ملک نے دعویٰ کیا کہ مودی نے ان سے کہا کہ وہ ان سیکورٹی کوتاہیوں کے بارے میں “خاموش رہیں” جو انہوں نے مبینہ طور پر حکومت کے ساتھ اٹھائ تھیں. انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے بھی انہیں مبینہ غلطیوں پر خاموش رہنے کو کہا تھا۔ بھارت کو اپنے ملکوں کے اندر سے اٹھنے والی آوازوں کا جائزہ لینا چاہیے جو ان کی قیادت کے جھوٹ کو صاف ظاہر کرتی ہے۔

اب آگے چلئے’ ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق عورت کے لئے رہنا آسان نہیں ہے اور وہ بھی جب آپ ہندوستان میں رہتے ہیں۔ کیونکہ بھارت میں ہر 20 منٹ میں ایک لڑکی کی عصمت دری ہوتی ہے۔ اور اگر ہم موجودہ منظر نامے کی بات کریں تو ہندوستان خواتین کے لیے اس 21ویں صدی میں بھی محفوظ نہیں ہے۔ اس ملک کو خواتین کے لیے دنیا کا خطرناک ترین ملک قرار دیا گیا ہے۔یاد رہے وہ گھناؤنا جرم جو ہندوستان کی قومی راجدھانی دہلی میں منیرکا میں 16 دسمبر 2012 کو ہوتا ہے (یعنی نربھایا کیس)۔ اس کیس نے سب کو صدمے میںں مبتلا کر دیا تھا اور خواتین کی حفاظت اور سلامتی پر ایک سوالیہ نشان ڈال دیا تھا۔ وہ ایک فزیوتھراپی انٹرن تھی جو اپنے ایک مرد دوست کے ساتھ فلم دیکھنے گئی تھی اور گھر واپسی پر اس پر حملہ کیا گیا۔ اسے چھ لوگوں نے اس بس میں ریپ کیا جس میں وہ اپنے مرد دوست کے ساتھ سفر کر رہی تھی۔ یہ واقعہ ظلم و بربریت کی تمام حدیں پار کر گیا تھا۔

اس کیس کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر کوریج ملی، لیکن نربھایا کیس کے سلسلے میں انصاف کی رفتار میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں دیکھنے کو نہیں ملی کیونکہ اس ہائی پروفائل کیس کو ختم ہونے میں 7 سال لگے تھے۔بھارت میں عصمت دری کے واقعات میں اضافے کے سلسلے میں کہیں نہ کہیں بھارت کا عدالتی نظام ذمہ دار ہے نربھایا کے ریپ والے دن میگھالیہ میں ایک اور گینگ ریپ کا واقعہ پیش آیا جہاں ایک لڑکی اپنے دوستوں کے ساتھ ولیم نگر میں سرمائی میلے میں گئی اور واپسی پر اس کے سر پر اینٹوں سے وار کیا گیا اور 16 لوگوں نے زیادتی کی۔مصنف کے مطابق 2012 میں نربھایا ایک واحد عصمت دری کا واقعہ نہیں تھا، این سی آر بی کی رپورٹ کے مطابق یہ 24,923 ریکارڈ شدہ کیسوں میں سے ایک تھا اور یہاں تک کہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسی سال 68 سے زیادہ لڑکیوں کے ساتھ روزانہ عصمت دری کی گئی۔ انہوں نے 2012 سے 2020 تک ہندوستان میں عصمت دری کے واقعات کی کچھ مثالیں دیں:
16 دسمبر 2012، نربھایا گینگ ریپ، جس میں ایک نابالغ سمیت 6 افراد ملوث تھے، 22 اگست 2013
شکتی ملز میں گینگ ریپ جس میں نابالغ سمیت 5 افراد ملوث تھے، 27 مئی 2014 کو کم وبیش 7 افراد کی طرف سے بدایوں گینگ ریپ، جولائی 2015
شیو گنگائی نابالغ لڑکی کی عصمت دری معاملے میں ایک پولیس افسر پر الزام، 29 مارچ، 2016
ڈیلٹا میگھوال ریپ کیس میں 17 سالہ لڑکی نے ہاسٹل ٹیچر پر الزام لگایا، 04 جون 2017
اناؤ عصمت دری کیس میں ایک نابالغ لڑکی کی عصمت دری، جنوری 2018
کٹھوعہ عصمت دری کیس میں نابالغ لڑکی کی 7 افراد نے عصمت دری کی۔دسمبر 2019 کو سکول سے گھر واپسی پر 6 سالہ بچی کی عصمت دری. 23 اپریل 2020 کو 6 سالہ بچی سے زیادتی۔

اب آتے ہیں بھارت میں امن و امان کی صورتحال اور اقلیتوں کے ساتھ سلوک کی طرف۔حال ہی میں ہندوستان کی پارلیمنٹ کے ایک سابق رکن کو شمالی شہر پریاگ راج میں پولیس کی حراست میں رہتے ہوئے اپنے بھائی کے ساتھ لائیو ٹی وی پر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا جو ریاست اتر پردیش میں قانون کی حکمرانی پر ایک سوالیہ نشان ہے ۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بندوق برداروں نے جو بظاہر صحافیوں کا روپ دھارے ہوئے تھے نے عتیق احمد اور ریاست کے سابق رکن اسمبلی اشرف احمد پر اس وقت متعدد گولیاں چلائیں جب پولیس انہیں ہتھکڑیاں لگا کر میڈیکل چیک اپ کے لیے ہسپتال لے جا رہی تھی۔ تین مشتبہ افراد نے فائرنگ کے بعد فوری طور پر پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے جن میں سے کم از کم ایک نے “جے شری رام” کا نعرہ لگایا جو مسلمانوں کے خلاف مہم میں ہندو قوم پرستوں کی جانب سے بربریت کی آواز بن گیا ہے۔ یاد رہے دونوں شہداء کا تعلق ہندوستان کی مسلم اقلیت سے تھا۔

بھارت میں مسلمانوں اور اقلیتوں کے پرسان حال کو واضح طور پر ظاہر کرنے والی ایک اور مثال 1992 میں دیکھنے کو ملی جب کم از کم 75,000 ہندوؤں کا ایک پرتشدد ہجوم ایودھیا کی ایک مسجد یعنی بابری مسجد پر حملہ آور ہوا اور اسے ہتھوڑوں، سلاخوں اور بیلچوں سے زمین بوس کر دیا جبکہ ہندوستانی حکام خاموش تماشائی بنے رہے. اس حملے کے بعد مذہبی فسادات نے کئی ہندوستانی شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور تشدد کی لہر کے اختتام تک ایک ہزار سے زائد افراد جن میں زیادہ تر مسلمان تھے مارے گئے۔ ممبئی اور دیگر کچھ شہروں میں پولیس کی جانب سے پرامن مسلمانوں پر اندھا دھند فائرنگ کی اطلاعات بھی سامنے آئیں-الجزیرہ میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں اپوروانند کہتے ہیں کہ، صرف مسلمان ہی واحد مذہبی اقلیت نہیں ہیں جو ملک میں بڑھتے ہوئے انتہائی دائیں بازو کی طرف سے نشانہ بن رہے ہیں۔ہندوستان بھر میں عیسائیوں کو بھی اسی طرح کی نفرت اور تشدد کا سامنا ہے۔ جیسا کہ تجربہ کار صحافی جان دیال نے رپورٹ کیا، “پرتشدد ہندو ہجوم نے کم از کم 16 شہروں اور قصبوں میں گرجا گھروں، عیسائی اجتماعات اور کرسمس منانے والے گروپوں پر حملہ کیا”۔

اس طرح کے واقعات پورے ملک کی ریاستوں میں دیکھے گئے، شمال میں ہریانہ، اتر پردیش اور دہلی سے لے کر جنوب میں کرناٹک تک کی علاقے ایسے بیشمار واقعات سے بھرے پڑے ہیں -یونائیٹڈ کرسچن فورم کے مطابق بھارت میں 2021 میں عیسائیوں کے خلاف کم از کم 460 حملے ریکارڈ کیے گئے۔ بی جے پی کی قیادت میں ہندوستان مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک بن گیا۔ انہیں جسمانی، نفسیاتی اور معاشی طور پر نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ ان کی مذہبی عبادات، کھانے پینے کی عادات اور یہاں تک کہ کاروبار کو محدود کرنے کے لیے قوانین منظور کیے جا رہے ہیں۔ امتیازی قوانین کے علاوہ انہیں دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ میڈیا کے ساتھ ساتھ ٹی وی اور فلم انڈسٹری میں بھی اقلیتی عناصر تعصب کا شکار ہیں۔ ملک کے منتخب حکمران اپنے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے مسلسل غیر انسانی سرگرمیاں کر رہے ہیں اور یہاں تک کہ انہیں شیطانی اور سفاکیت کی شکل بھی دے رہے ہیں۔ 2021 ہندوستان کے مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے خوف، تشدد اور ہراسانی کا سال تھا۔ اور جیسا کہ بُلّی بائی کے واقعے نے ظاہر کیا مذہبی اقلیتوں پر انتہائی دائیں بازو کے ہندوؤں کے حملے اگلے برسوں میں مزید شد و مد کے ساتھ جاری رہے۔ بھارت میں انصاف کا نظام سب کے ساتھ یکساں سلوک کرنے میں ناکام رہا ہے جو بابری مسجد کے معاملے میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

وشواناتھ راگھوی کے ایک مضمون کے مطابق 2014 میں برسراقتدار سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارت میں مسلمانوں اور دلتوں کے خلاف تشدد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ تقریباً 85 فیصد مجرموں کا مبینہ طور پر تعلق یا بی جے پی سے یا اس کی ذیلی ہندو تنظیموں کے ساتھ رہا ہے۔ کچھ معاملات میں قانون نافذ کرنے والے ادارے متاثرین سے لاتعلق یا دشمنی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

پھر منی پور میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بھی دنیا کے سامنے ہیں۔ یوروپی پارلیمنٹ نے بھی ہندوستان پر زور دیا ہے کہ وہ جاری نسلی اور مذہبی تشدد کو فوری طور پر روکنے کے لئے ضروری اقدامات کرے، منی پور کی عیسائی برادری جیسی تمام مذہبی اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرے اور مزید کسی بھی طرح کی کشیدگی کو پیشگی روکے۔ مشترکہ قرارداد حال ہی میں ریاست منی پور، بھارت میں مئی 2023 سے جاری پرتشدد جھڑپوں کے بعد منظور کی گئی جس میں کم از کم 120 افراد ہلاک، 50000 بے گھر اور 1700 سے زائد مکانات اور 250 گرجا گھر تباہ ہوئے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ اقلیتی برادریوں کے تئیں عدم رواداری نے موجودہ تشدد میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اس علاقے میں ہندو اکثریت پسندی کو فروغ دینے والی سیاسی طور پر محرک، تفرقہ انگیز پالیسیوں کے بارے میں بھی خدشات ہیں۔ منی پور کی ریاستی حکومت نے انٹرنیٹ کنیکشن بند کر دیے ہیں اور میڈیا کی رپورٹنگ میں شدید رکاوٹ ڈالی ہے جب کہ حالیہ ہلاکتوں میں سیکیورٹی فورسز ملوث ہیں جس نے حکام پر عدم اعتماد کو مزید بڑھایا ہے۔ یورپی پارلیمنٹ کے ممبران نے ہندوستانی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ تشدد کی آزادانہ تحقیقات کی اجازت دیں، استثنیٰ سے نمٹنے اور انٹرنیٹ پر پابندی کو ختم کیا جائے۔ انہوں نے تمام متحارب فریقوں پر اشتعال انگیز بیانات بند کرنے، اعتماد بحال کرنے اور تناؤ میں ثالثی کے لیے غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنے پر زور دیا۔

پارلیمنٹ نے انسانی حقوق کو EU-انڈیا شراکت داری کے تمام شعبوں بشمول تجارت میں ضم کرنے کے مطالبے کا اعادہ کیا۔ MEPs نے EU-India انسانی حقوق کے مکالمے کو تقویت دینے کی بھی وکالت کی اور EU اور اس کے رکن ممالک کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ انسانی حقوق کے تحفظات کو منظم اور عوامی سطح پر اٹھائیں خاص طور پر آزادی اظہار، مذہب، اور سول سوسائٹی کے لیے سکڑتی ہوئی جگہ جیسے معاملات ۔.یورپین پیپلز پارٹی گروپ (ای پی پی) کی جانب سے ایم ای پیز جنہوں نے قرارداد کو منظور کیا، ان میں زیلجانا زوکو، سوین سائمن، ٹوماس زیڈچوسکی، آئیون اسٹیفانیک، جنینا اوچوسکا، مائیکلا شوجدرووا، ولادیمیر بلچک، ڈیوڈ لیگا، جیریو، آندرے پوسپیوٹ، ڈیوڈ لیگا شامل ہیں۔ لوپیز استوریز وائٹ، انیس وائیڈری اور شان کیلی۔ Pedro Marques اور Pierre Larrouturou نے یہ قرارداد پروگریسو الائنس آف سوشلسٹ اینڈ ڈیموکریٹس (S&D) گروپ کی جانب سے منظور کی۔ رینیو گروپ کی جانب سے قرارداد کی توثیق کرنے والے MEPs میں Urmas Paet، Petras Auštrevičius، Izaskun Bilbao Barandica، Olivier Chamenstel شامل ہیں۔ Grošelj، Svenja Hahn، Moritz Körner، Ilhan Kyuchyuk، Karen Melchior، Dragoş Pîslaru، Frédérique Ries، María Soraya Rodríguez Ramos، Ramona Strugariu، Dragoş Tudorache اور Hilde Vautmans۔ Alviina Alametsä نے Verts/ALE گروپ کی جانب سے قرارداد منظور کی، جبکہ ECR گروپ یورپی کنزرویٹو اینڈ ریفارمسٹ (ECR) کی جانب سے جن اراکین نے توثیق کی وہ ہیں Karol Karski، Bert Jan Ruissen، Witold Jan Waszczykowski، Joachim Stanisław Brudziwski، Zbigniewski Kuźmiuk، Adam Bielan، Waldemar Tomaszewski، Eugen Jurzyca، Dominik Tarczyński، Assita Kanko، Anna Zalewska اور Carlo Fidanza۔ یورپی پارلیمنٹیرینز نریندر مودی کی بھارت میں انتہا پسند ہندو پالیسیوں کے نفاذ کی مذمت کرتے ہیں جہاں ہر روز مسلمان اور عیسائی متاثر ہو رہے ہیں۔ اراکین نے بھارت پر زور دیا کہ وہ عیسائیوں، مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر ظلم و ستم بند کرے۔

آکاش حسن کے مضمون کے مضمون کے مطابق ہندوستان میں غربت کے نئے اعدادوشمار نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے ریکارڈ پر بحث چھیڑ دی ہے جس میں میٹرکس اس بات پر روشنی ڈال رہے ہیں کہ 1.4 بلین کی قوم کو ابھی اور کس حد تک جانا ہے۔گلوبل ہنگر انڈیکس کی ریلیز کے مطابق ہندوستان 121 ممالک میں چھ درجے گر کر 107 ویں نمبر پر آ گیا جب کہ ہمسایہ ممالک سری لنکا (64 ویں) اور پاکستان (99 ویں) کے ساتھ ہندوستان سے بہتر پوزیشن پر ہیں-پھر آتے ہیں بھارت کے جھوٹ اور جھوٹے پروپیگنڈے کی طرف۔ ہندوستانی فضائیہ نے 26 فروری 2019 کو ‘بالاکوٹ’ کے قریب ایک فضائی حملہ کیا جس میں ایک مذہبی مدرسے کو نشانہ بنایا گیا جسے ہندوستان نے عسکریت پسندوں کے کیمپ کے طور پر بیان کیا اور 300 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا لیکن وہ ان دعووں کی تصدیق کے لیے کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا ۔ پاکستان کی حدود میں ایک نام نہاد کامیاب سرجیکل اسٹرائیک کا مودی کا دعویٰ اعلان ہوتے ہی متنازعہ ہوگیا۔

اس نے تین سو سے زیادہ دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا لیکن غیر جانبدار ذرائع جیسے کہ رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس، اور دی نیویارک ٹائمز کی رپورٹوں میں صرف درختوں کو نقصان پہنچانے کا اشارہ ملتا ہے۔ یہ بذات خود مودی کے جھوٹ کا ذلت آمیز انکشاف تھا۔ کامیاب قومیں کبھی جھوٹ پر نہیں چلتیں بلکہ وہ اپنی بنیادیں سچائی پر استوار کرتی ہیں۔قارئین، یہ بیشمار حقائق میں سے چند ایک ہیں جو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت خاص طور پر مودی کے دور حکومت میں ایک سرٹیفائیڈ ناکام ریاست بننے کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔ سیکولر ریاست ہونے کے ان کے نام نہاد دعوے زمینی حقائق سے میل نہیں کھاتے۔ یورپی پارلیمنٹ کی حالیہ قرارداد بھی سب کے سامنے ہے اور اب دنیا کو بھارت پر زور دینا چاہیے کہ وہ اقلیتوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں