بھارت سے صرف کشمیر پر بات ہو

32

تجزیہ: سردار محمد طاہر تبسم

یہی وقت ہے کہ بھارت سے مذاکرات کی میز پر اہم ترین تنازعہ کشمیر پر حکمت عملی کے ساتھ سفارت کاری کی جاہے۔ جو نہ صرف عالمی طور پر تسلیم شدہ حق خود ارادیت کا تنازعہ ہے بلکہ جس پر اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی موجود ہیں۔ بھارت کی بی جے پی حکومت اس وقت شدید عالمی دباو اور جنگ میں بری طرح شکست کے بعد حزیمت پر پردہ ڈالنے کے لئے ہماری شرائط پر بات کرنے کو تیار ہو سکتی ہے۔

اس موقع سے فاہدہ اٹھاتے ہوہے پاکستان کو کشمیر پر بات چیت کا آغاز کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اور مذاکرات کے ذریعے مسلہ کشمیر کے پرامن حل پر ساری توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ لیکن کل جماعتی حریت کانفرنس کی قیادت سے مشورہ ضروری ہے اس سے اچھا موقع شاید کبھی نہ دستیاب ہو کیونکہ بھارت کی حکومت نہ صرف شکست و ریخت کا شکار ہے بلکہ خالصتان، منی پور میزورام اور کہی ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکوں سے بھی خوفزدہ ہے.

اگر اس وقت بھارت نے فراخدلی کے ساتھ کشمیر پر بات چیت نہ کی تو بھارت کو تقسیم ہونے سے کوئی طاقت نہیں بچا سکتی کیونکہ چین اور بنگلہ دیش بھی بھارت کے سر پر بیٹھے ہیں اور کئی پڑوسی ممالک بھارت سے بدلے کی آگ میں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں