تحریر:سید حماد الحسنین بخاری
آزادی اللہ کی کتنی بڑی نعمت اور عنایت ہے اس کا اندازہ صرف وہ قومیں لگا سکتیں ہیں جنھیں کسی نہ کسی ملک کی محکومی میں اپنے شب و روز گزارنے پڑے ہوں، زرا تصور کریں کسی ایسے ملک میں جہاں آپ اپنی مرضی سے سانس تک نہ لے سکتے ہوں ، ریاست آپ کے جان و مال کے تحفظ کے بجاے ان کے درپے ہو، مذہبی فرائض کی ادائیگی سمیت جملہ معمولات زندگی پر قدغن ہو، ہر وقت عزت و آبرو کی کی پامالی کا خطرہ ہو اور آپ کی اس مجبور اور بے بس زندگی پر ہمہ وقت سفاک اور وحشیانہ موت کے ساے منڈلا رہے ہوں تو وہاں کے رہنے والوں اور دہائیوں سے ظلم و ستم کی چکی میں پسنے والوں سے زیادہ آذادی کی اہمیت اور افادیت سے کون واقف ہو سکتا ہے۔
آج بھی اس ماڈرن دنیا کے نقشے پر فلسطینیوں اور کشمیریوں کے علاوہ کوئی دوسری مثال نہیں پیش کی جا سکتی جنھوں نے آذادی کے حصول کے لیے غیر مسلم غاصب اور قابض افواج کا مقابلہ کرتے ہوے گاجر مولی کی طرح اپنی گردنیں کٹوائی ہوں۔ قیام پاکستان سے پہلے اپنے آپ کو پاکستانی کہلوانے والے کشمیریوں پر تشدد کا وہ کون سا حربہ ہے جو ان پر نہیں آزمایا گیا لیکن نوجوانوں، عورتوں، بوڑھوں اور بچوں نے تحریک آزادی کا بیڑہ اٹھاے رکھا اور وہ بھارتی تسلط سے اپنے مادر وطن کی آزادی کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے رہے ۔میں سمجھتا ہوں کے بھارت کو اپنی ہٹ دھرمی کی پالیسی ترک کرنا پڑے گی اور بھارتی قیادت کو یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ آزادی کی تحریکوں کو فوجی طاقت کے زریعے دبایا نہیں جا سکتا۔
غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر بین الاقوامی طورپر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے اور اس دیرینہ تنازعے سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادیں موجودہیں۔بھارت کی ہندوتوا حکومت کے ہاتھ نہتے کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور وہ مقبوضہ علاقے میں اختلاف رائے کی ہر آواز کو دبانے پر تلی ہوئی ہے۔بی جے پی کی زیر قیادت مودی حکومت نے 5 اگست 2019 کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کر کے اسے دو یونین ٹیریٹریز میں تقسیم کردیا تھا جو کہ اقوام متحدہ کے چارٹر،سلامتی کونسل کی قراردادوں اورپاک بھارت دو طرفہ معاہدوں کی واضح خلاف ورزی ہے۔ مودی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ روا رکھی جارہی جارحانہ اور انسانیت کش پالیسیوں کے باوجود ان کا جذبہ آذادی کبھی ٹھنڈا نہیں پڑا۔
کشمیری سیاسی رہنماﺅں کو جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات میں قید کرنے کے بعد جیلوں میں انہیں علاج معالجے اور مناسب خوراک جیسی بنیادی سہولتوں کے علاوہ منصفانہ ٹرائل کے حق سے محروم رکھا جارہا ہے جبکہ ان کے اہلخانہ کو خو ف و دہشت کا نشانہ بنایاجارہا ہے۔ عالمی برادری اور بااثر حکومتیں مقبوضہ کشمیر کی تیزی سے بگڑتی ہوئی سیاسی اور انسانی حقوق کی صورتحال کا فوری نوٹس لینا چاہیے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرانے کےلئے اپنا اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کے ان سارے مظالم کو دیکھنے کے باوجود عالمی ضمیر کی بے حسی اور بے شرمی سنجیدہ دنیا کے لیے سوالیہ نشان ہے۔مظلوم کشمیریوں کی قربانیوں کے اعتراف کے طور پر اور آذاد خطے کے لوگوں کے دلوں کی آواز بن کرہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ھے” کے مصداق سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس نے “ہم ہیں پاکستان ” کے عنوان سے 14 اگست کا دن منا کر سید علی گیلانی کی تقلید کرتے ہوے آزاد کشمیر کی نمائندگی کی جو قابل تحسین ھے۔
77واں یوم آزادی غازیوں مجاہدوں اور شہیدوں کی سرزمین راولاکوٹ میں منا کر ایک نئی تاریخ رقم کر دی آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کی نمائندگی کا حق ادا کر دیا۔ روالاکوٹ میں ایک بڑا اجتماع اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ سردار تنویر الیاس نے عوام کے دل جیت لیے۔ آزاد کشمیر کی سیاست میں ابھرتا ہوا ستارہ نسلوں سے چلے آ رہے سیاستدانوں کی آنکھوں میں اٹکنا شروع ہو گیا جب اس نے عام عوام کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے اپنا ویژن ، اپنا مشن دیا جو قابل ستائش تھا ۔سردار تنویر الیاس نے جب ایگریکلچر سے لے کر ٹور ازم تک بات پہنچائی تو بات سمجھ میں آنے لگی کہ عام بندے کی اگر معیشت میں بہتری آے گی تو ہی ملک کی ترقی ھو گی چونکہ سردار تنویر الیاس بنیادی طور پاکستان کے بڑے بزنس گروپ کے مالک ہیں اور یہ تجارت نبی مہربان سرکار دو جہاںؑ کی سنت ھے جسے زوال نہیں اس طرف عوام کی توجہ دلائی اور اس میں مسال کے حل اور وسائل کو بروئے کار لانے کے لیے ابتدا کی لیکن سیاسی مافیا کی آنکھ میں اٹکنے کی وجہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکے۔
سردار تنویر الیاس نے ٹور ازم کوریڈور کی بات اس لیے کی کہ عام آدمی اس سے مستفید ھو گا انہوں نے ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ میں گھسنے کی کوشش کی کہ ہم سپلائر بن سکیں اور دنیا کو اپنی سبزیاں ،فروٹ ، ڈرای فروٹ بہم پہنچا سکیں انہوں نے گھر گھر میں فیکٹریاں لگانے کی بات اس لیے کی گھر والے بھی اور باہر والے بھی اس سے مستفید ہوں ۔اور یہ بات دور تلک جاتی اگر ہماری معیشت اس ڈگر پر رواں ہوتی۔لیکن اگر ہماری عادتیں پچھلے 77 سالوں سے خراب چلی آ رہی ہوں تو انہیں ٹھیک کرنے میں بھی وقت لگتا ہے۔آزاد کشمیر کسی جنت سے کم نہیں ہمارے ندی نالے ،آبشاریں، بلند و بالا حسین اور صحت افزا مکامات کسی جنت سے کم نہیں ،ہماری زرخیز زمین ہمارا سونا ھے اس پر کام کیا جاے تو ہم ترقی یافتہ ممالک کی دوڑ میں ہوں گے یہی وہ نظریہ تھا جسے تنویر الیاس نے لے کر چلنے کی بات کی لیکن افسوس کہ ہمارا شہری تو امیر ہو سکتا ھے لیکن ہمارا ملک غریب ھی رہا کیونکہ ملک سے کھاتے رہے لیکن اس پر لگایا نہیں جو لمحہ فکریہ ھے۔
وہ وقت آن پہنچا کے ہمیں اب جاگنا پڑے گا، دنیا جس تیزی سے ترقی کر رہی ہے ہمیں اس میں شامل ہونا پڑے گا تاکہ ہم مستقبل کے چیلنجز سے بہتر طور پر نبرد آزما ہو سکیں، ایک ایسا شخص جس کے پاس وہ تمام وسائل موجود ہیں جن کے استعمال سے وہ وفاقی سطح پر اپنا بہترین اور من پسند رول لے سکتا ہے اگر آذادکشمیر کی سیاست میں محض غریب عوام کی بہتری کا خواب لیے آیا ہے تو بحیثیت مجموعی ہمیں اللہ کا شکر بھی ادا کرنا چاہیے اور اس کے ہاتھ مضبوط کرنے چاہیے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اس سے مستفید ہوں۔