جامعہ پونچھ،خطے کی معاشی ترقی کا انجن

68

تحریر:ڈاکٹر محمد ذکریا ذاکر وائس چانسلر یونیورسٹی آف پونچھ راولاکوٹ
کسی بھی ملک میں جامعات کا شمار قیادت کے اعلیٰ اداروں میں ہو تا ہے۔جو بنیادی طور پر معاشرتی اور سیاسی رہنمائی کا فریضہ سر انجام دیتی ہیں۔ان کا کردار محض کلاس روم سے ڈگری ایوارڈ کر نے تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کی علمی اور سائنسی ترقی کیساتھ صنعت و حرفت کو فروغ دینا ہے۔ایسا ادارہ جہاں آئیڈیاز جنم لیتے ہوں اور خوابوں کی پرورش ہو! اسے چار دیواری تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔عالمی سطح پر یونیورسٹی کا تصور ایک ایسا ارادہ ہو تا ہے جہاں علم کی تخلیق ہو تی ہے یا سائنس و ٹیکنالوجی جنم لیتے ہیں۔

دنیا میں جامعات آئین و قانون کی بادستی،جرائم کی روک تھام اور اداروں کو مضبوط کرنے کااہم ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔اسی لئے کہا جاتا ہے کہ”تعلیمی ادارے کھولو اور جیل بند کرو“ان ہی عالمگیر اصولوں کی بنیاد پر ہم جدوجہد کر رہے کہ جامعہ پونچھ راولاکوٹ آزاد خطہ اور بالخصوص پونچھ کی معاشی،سماجی اور ثقافتی ترقی میں انجن کے طور پر کام کرے۔ جامعہ پونچھ کا مستقبل اسی صورت میں روشن ہو سکتا ہے جب وہ کمیونٹی کی ترقی میں جاندار کردار ادا کرے۔اس مقصد کے تحت یہ ضروری ہے کہ یونیورسٹی کے تمام ا سٹیک ہو لڈرزخلوص نیت کیساتھ جامعہ کے تحفظ کیلئے مل کر کام کریں۔

میں آج اسی بنیادی نقطے کو اجاگر کرنا چاہتا ہوں اور اس سے قبل بھی مختلف فورمز پر اس بات کا احاطہ کرتا رہاہوں کہ پونچھ یونیورسٹی کیسے مقامی معیشت کی بہتری میں حصہ ڈال سکتی ہے؟ہماری ثقافتی ذندگی کیساتھ ہمارے روشن مستقبل کی راہ کیسے ہموار کر سکتی ہے؟اسی بنیاد پر ہم نے خیالات کے تبادلے،تجاویز اور راولاکوٹ کی مقامی کمیونٹی سے مضبوط تعلق استوار کر نے کیلئے جامعہ میں باقاعدہ فورم مہیا کیا۔ یہ ان ہی روشن خیالات کے تبادلے کا نتیجہ ہے کہ
۱۔ تمام تر مشکلات اور چیلنجوں کے باوجود، جامعہ پونچھ راولاکوٹ آج نہ صرف ”کیو ایس ایشیاء رینکنگ“میں موجود ہے بلکہ ملک بھر میں ایک ممتاز جامعہ کی شناخت رکھتی ہے جس میں سات ہزار سے زائد طلباء زیر تعلیم ہیں۔
2۔ دو سال قبل تک ہماری جامعہ کو بنیادی ڈھانچے،خصوصاً کلاس رومز اور کھیلوں کے میدانوں کے لیے جگہ کا سنگین مسئلہ درپیش تھا۔ لیکن اب انفراسٹرکچر کا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔
3۔تراڑ کیمپس کو جدید ترین تحقیق اور تدریسی سہولیات کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔
4۔یونیورسٹی نے کھیلوں کی سہولیات پر بڑی انوسٹمنٹ کی۔آج جامعہ میں کھیلوں کے تین میدان جبکہ عالمی معیار کا سپورٹس کمپلیکس ذیر تعمیر ہے۔
5۔اس وقت تقریبا چھ ارب روپے کے میگا پراجیکٹس پر کام جاری ہے جن میں سے بیشترتکمیل کے مراحل میں ہیں جن کی تکمیل سے جامعہ پونچھ خطہ میں منفرد شناخت حاصل کرے گی۔
6.جامعہ میں داخلے اور ملازمت کا حصول علاقائی اور نسلی بنیادوں پر نہیں بلکہ اہلیت کی بنیاد پر ہی ممکن ہے۔یہی وجہ ہے کہ صرف مقامی ہی نہیں بلکہ ملک بھر سے لوگ جامعہ پونچھ میں بڑھتے اور ملازمت کر رہے ہیں۔ہمارا فوکس اس بات پر ہے کہ طلبہ کی صلاحیتوں میں نکھار لا کر انھیں نہ صرف گلوبل مارکیٹ میں روز گار کے قابل بنایا جائے بلکہ انھیں معاشرے کا ایک کار آمد شہری بنایا جائے۔مجھے اس بات پر پختہ یقین ہے کہ سیکھنے کا عمل ہی ترقی کی بنیاد ہے۔اور علم کی مدد سے ہی حقیقی دنیا کے چیلنجوں سے نمٹا جا سکتا ہے۔میں یونیورسٹی میں طلبہ کیلئے دستیاب سہولیات کے ذکر کیساتھ طلبہ سے اکثر یہ بھی کہتا ہوں کہ اگرچہ عالی شان عمارتیں یا دیگر انفراسٹریکچر کی اہمیت ضرور ہے لیکن وہ اس ادارے کی اصل طاقت نہیں۔اصل طاقت وہ سوچ اور خیالات ہیں جو اس ادارے سے پروان چڑھیں گے۔ سوچ ہی دراصل جو مہذب اورمضبوط معاشرے کی تشکیل میں مدد کرتی ہے۔

یہ باتیں تحریر کرنے کا مقصد محض یہ ہے کہ جامعہ کی سمت کا تعین ہو۔ اگر آپ کی سمت درست ہو گی۔؛تو منزل کی جانب آپ کا سفر بامقصد ہو گا۔ہم ادارے کا سفر بامقصد بنانا چاہتے ہیں تاکہ شہری اپنے حقوق سے آگاہی کیساتھ اپنی زمہ داریوں کو بھی پہچانیں۔اس وقت ہمیں انتہائی سنجیدہ علاقائی او بین الاقوامی مقابلے کا سامنا ہے۔ اس ریاست کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔آنے والی نسلوں کو یہ فیصلہ کرنے کیلئے تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ہم نے اپنی نوجوان نسل کو یہ جنگ لڑنے کے قابل بنانا ہے جو علمی میدان میں لڑنا ہو گی۔یہ کام ہمیں کوئی باہر سے آ کر کر کے نہیں دے گا۔ہماری جگہ کو ئی اور نہیں لڑے گا۔یہ کام صرف مضبوط یونیورسٹیاں ہی کر سکتی ہیں۔اور اس کام کو ایک نظام کے تحت کرنا ہے۔میری خواہش ہے اس نظام کی تشکیل کیلئے جدوجہد میں ہر شہری شریک ہو۔جب ہم کسی بڑے مقصد کیلئے کام کریں تو پھر انفرادی کردار یا غلطیوں کی بنیاد پر ادارے کو نشانہ بنانے کی پالیسی ترک کرنا ہو گی۔میں اس عظیم مقصد کیلئے سب کو ملکر جدوجہد کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں