جاناں آویزتعلیم اور سماجی تحقیق کی روشن مثال

65

تحریر: راجہ وقاص خان
سوات کی سرزمین نہ صرف اپنی فطری حسن اور تہذیبی روایات بلکہ باصلاحیت شخصیات کی وجہ سے بھی پہچانی جاتی ہے۔ یہاں کے لوگ جواں ہمت، علم دوست، اور معاشرتی تبدیلی کے علمبردار رہے ہیں۔ انہی میں ایک نمایاں نام جاناں آویز کا ہے، جو بین الاقوامی تعلقات کی ممتاز اسکالر ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی تحقیق کے میدان میں انقلابی پلیٹ فارم “ایشین پولیٹیکو” کی بانی بھی ہیں۔ ان کا سفر تعلیم، تحقیق، اور سماجی بیداری کی ایک شاندار داستان ہے، جو محنت، عزم، اور علم کی طاقت کو اجاگر کرتا ہے۔

جاناں آویز نے سوات کے ایک گھرانے میں پرورش پائی۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے سیاسیات کا شعبہ منتخب کیا اور اسلامیہ یونیورسٹی اسلام آباد میں داخلہ لیا۔ یہاں ان کی لگن اور محنت نے انہیں بی ایس پولیٹیکل سائنس میں گولڈ میڈل دلوا دیا۔ تاہم، انہیں احساس ہوا کہ پاکستان میں سماجی علوم، خاص طور پر سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات کے شعبوں میں تحقیقی خلیج خطرناک حد تک گہری ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب انہوں نے نہ صرف اس خلیج کو پُر کرنے کا فیصلہ کیا بلکہ عملی میدان میں اتر گئیں۔

پاکستان سماجی علوم کے میدان میں دنیا سے کئی دہائیاں پیچھے ہے۔ یونیسکو کی 2022ء کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان اپنے GDP صرف 0.2 فیصد تحقیق و ترقی پر خرچ کرتا ہے، جو بنگلہ دیش (0.3%) اور بھارت (0.7%) سے بھی کم ہے۔ سماجی تحقیق کی صورتحال اور بھی تشویشناک ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے اعدادوشمار کے مطابق، پاکستان میں صرف 18 فیصد تحقیقی مقالہ جات خواتین کی قیادت میں لکھے جاتے ہیں، جبکہ سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات جیسے شعبوں میں خواتین کی نمائندگی 12 فیصد سے بھی کم ہے۔

ان چیلنجز کو اپنی طاقت بنانے والی جاناں آویز کی کہانی نہ صرف امید کی کرن ہے بلکہ ایک عملی حل بھی پیش کرتی ہے۔

پاکستان میں سماجی تحقیق کے شعبے کو تین بڑے بحرانوں کا سامنا ہے۔ اول، نوجوانوں کو مواقع کی کمی۔ HEC کے مطابق، 2023ء میں سیاسیات اور سماجی علوم میں گریجویٹس کی تعداد 35,000 تھی، لیکن ان میں سے صرف 5 فیصد کو تحقیقی منصوبوں تک رسائی ملی۔ خواتین کی کم نمائندگی۔ سیاسیات کے شعبے میں خواتین کی انرولمنٹ شرح 22 فیصد ہے، لیکن ان میں سے صرف 8 فیصد اکیڈمیا یا تحقیق سے وابستہ ہیں۔ معیاری رہنمائی کا فقدان۔ 70 فیصد نوجوان محققین کا کہنا ہے کہ انہیں تحقیقی مقالہ جات لکھنے کے لیے مناسب مینٹرشپ میسر نہیں۔

جاناں آویز نے محسوس کیا کہ پاکستان میں نوجوان محققین کے پاس وسائل اور رہنمائی کی کمی ہے، جس کی وجہ سے معیاری تحقیق کا فقدان ہے۔ انہوں نے اس چیلنج کو موقع میں بدلنے کے لیے “ایشین پولیٹیکو”کی بنیاد رکھی، جو سماجی علوم میں تحقیق کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں نوجوانوں کو تربیت کے ساتھ ساتھ ان کے کام کو عالمی سطح پر متعارف کروانے کا موقع ملتا ہے۔ اس پلیٹ فارم پر سینکڑوں انٹرنزنے اپنی صلاحیتیں نکھاری ہیں، جبکہ درجنوں تحقیقی مقالات عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کر چکے ہیں۔ یہ پلیٹ فارم صرف ویب سائٹ نہیں بلکہ ایک تحریک ہے جو پاکستان کو تحقیق کی بنیاد پر مضبوط معاشرہ بنانے کا عزم رکھتی ہے۔

پاکستان میں سائنس، ٹیکنالوجی، اور بائیو کیمسٹری جیسے شعبوں میں تحقیق کے لیے درجنوں پلیٹ فارمز اور فنڈز موجود ہیں، لیکن سماجی علوم (سیاسیات، عمرانیات، بین الاقوامی تعلقات) کے میدان میں نوجوان محققین کو وسائل اور رہنمائی کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ HEC کے 2023ء کے اعدادوشمار کے مطابق، پاکستان میں صرف 15 فیصد تحقیقی منصوبے سماجی علوم سے متعلق ہیں، جبکہ 70 فیصد سے زائد تحقیق سائنس اور انجینئرنگ پر مرکوز ہے۔ ایسے میں جانا آویز جیسے کرداروں نے سماجی تحقیق کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ایشین پولیٹیکو کے ذریعے نوجوانوں، خاص طور پر خواتین کو بااختیار بنانے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

پاکستان میں تحقیق کے شعبے کو درپیش سب سے بڑا چیلنج ترجیحات کا عدم توازن ہے۔ مثال کے طور پر HEC کی جانب سے جاری ہونے والے سالانہ ریسرچ گرانٹس میں سے صرف 10 فیصد سماجی علوم کے لیے مختص ہیں۔ ملک بھر میں 50 سے زائد سائنس ریسرچ سنٹرز موجود ہیں، جبکہ سماجی علوم کے لیے یہ تعداد 5 سے زیادہ نہیں۔ سائنس کے طلباء کو اوسطاً 2 لاکھ روپے فی تحقیقی منصوبہ ملتے ہیں، جبکہ سماجی علوم کے محققین کو 50 ہزار روپے بھی میسر نہیں۔ جاناں آویز نے ثابت کیا کہ سماجی تحقیق صرف کتابوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ معاشرے کی نبض ہوتی ہے.

انہوں نے ایشین پولیٹیکو کو ایک ایسے پلیٹ فارم میں تبدیل کیا جہاں نوجوانوں کو مفت میں ریسرچ میتھڈالوجی کی تربیت دی جاتی ہے، خواتین محققین کو مقالہ جات شائع کرنے کے لیے ماہر ایڈیٹرز کی سپورٹ ملتی ہے، اور دیہی علاقوں کے طلبا کو ڈیجیٹل ریسرچ ٹولز سے متعارف کرایا جاتا ہے۔ جاناں آویز کا کہنا ہے کہ وسائل کی کمی کوئی بہانہ نہیں لیکن اب حکومت اور HEC کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سماجی علوم کی تحقیق کو نظرانداز کرنا درحقیقت معاشرتی مسائل کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ جیسا کہ وہ کہتی ہیں: ہم نے اپنا فرض نبھا دیا، اب حکومت کو چاہیے کہ وہ ہمارے کام کو قومی دھارے میں شامل کرے۔”

جاناں آویز کی خدمات نہ صرف سماجی تحقیق کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں بلکہ ایک ایسی نسل کو پروان چڑھا رہی ہیں جو پاکستان کو علم کی بنیاد پر مضبوط بنانے کا عہد رکھتی ہے۔ ان کا یہ جملہ کہ ہماری تحقیق ہی ہماری شناخت ہے نوجوانوں کے لیے نصب العین بن چکا ہے۔ سوچیے! کیا جاناں آویز جیسے کردار ہمارے معاشرے کی اصلاح کے لیے کافی نہیں؟ کیا ہم ان کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا نہیں کریں گے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں