جرمنی،عام انتخابات اور ان کے نتائج

73

تحریر: امجد شریف
جرمن میں ہونے والے عام انتخابات کے نتائج بظاہر غیر ملکیوں کے لیے مایوس کن ہیں۔ میرے لیے یہ صورت حال حیران کن نہیں ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے بہت سے واقعات ایسے پیش آئے اور پھرجرمنی میں مقیم نوجوان مسلمان ایسے ہیں۔جھنوں نے فلسطین کے معاملے میں حکومتی پالیسی کی وجہ سے AFD کو ووٹ دیا ہے۔ بہت سارے مسلمان ایسے ہیں۔جنھوں نے ان انتخابات میں اپنے ووٹ کا استعمال ہی نہیں کیا، اس کی وجہ وہی ہمارے مذہبی رہنما جو لوگوں کو ہر جگہ کنفیوز کرتے رہتے ہیں۔ وہ علامت اور نقطہ یہاں بھی حائل رہا، مذہبی رہنماوں نے یہاں بھی ووٹ ڈالنے کے بارے میں حرام کا فتوی دیا تھا۔ ہمارے لوگ یہ بات اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ یورپ میں حکومت کسی بھی پارٹی کی ہو، یہاں پالیسی ساز اپنے ملکی مفادات ہی کو مدنظر رکھتے ہیں۔
جرمنی میں اس وقت 3.1 ملین تارکین وطن آباد ہیں۔

ان میں ترک مسلمان بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس سال 7 لاکھ 30 ہزار ترک مسلمانوں نے یہاں انتخاب میں حق رائے دہی استعمال کیا ہے۔مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث جہاں مسلمانوں کے مثبت تشخص کی تصدیق ہو رہی ہے۔ وہیں تعصب پسند اور مسلمان مخالف طبقے میں نفرت اور انتشار کی فضاء بھی پروان چڑھا رہی ہے۔عالمی سیاسی افق اس وقت عجیب منظر نامہ پیش کررہا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے۔جیسے دائیں بازو کی حامل شخصیات اور سیاسی جماعتوں نے رائے عامہ کو یرغمال بنا لیا ہے۔ امریکہ میں ڈونلڈٹرمپ کادوسری بار صدارت کے لیے منتخب ہونا، آسٹریا میں”فری ہائٹلیشے پارٹی آسٹریا” اور اٹلی میں “لیگا” جیسی پارٹیاں، جو امیگریشن کے اصطلات میں تبدیلی کی بنیاد پر انتخابات میں کامیاب ہوئیں اور اب ان ممالک کی بھاگ دوڑ سنبھال رہی ہیں۔

اسی طرح اب جرمنی میں ہونے والے عام انتخابات میں بھی دائیں بازو کی جماعت “آلٹرنیٹو فار جرمنی”(اے ایف ڈی) اپنی امیگریشن مخالف پالیسی اور نازی حمایت یافتہ موقف کی بنیاد پر مقبولیت کی نئی سطح کوچھو رہی ہے۔دنیا کی چوتھی بڑی اور یورپ کی سب سے بڑی معیشت کےحامل اس ملک کی فیصلہ سازی کے عمل میں اس دائیں بازو کی جماعت کا کلیدی کردار ہوگا۔ اس بڑھتی ہوئی مقبولیت سے مسلمانوں اور غیر ملکیوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔جرمنی میں مقیم پاکستانیوں کی اکثر تعداد طالب علم، نوکری پیسہ افراد یا پناہ گزینوں پر مشتمل ہے۔ان انتخابات کے نتائج کا ڈائریکٹ اور فوری اثر ان میں سے بیشتر افراد خصوصاً وہ افراد جو غیر قانونی طور پر رہ رہے ہیں۔ان کے مستقبل پر پڑے گا۔ اس پارٹی (اے ایف ڈی) کی جانب سے چانسلر کی امیدوار اور اس پارٹی کے رہنماوں نے اپنے حالیہ متنازعہ بیانات میں ہٹلر کے کچھ خیالات کو درست قرار دیا اور یورپی اتحاد پر کڑی تنقید بھی کی ہے۔

یہ پارٹی اپنی امیگریشن اور مہاجرین مخالف پالیسی کو بخوبی اجاگر کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ جرمنی کے ایک شہر کارلسروہے میں،”آلٹرنیٹو فار جرمنی” کے حامی کارکنوں نے ۳۰,۰۰۰ پمفلٹ چھپوا کر تقسیم کیے،جن کا ڈیزائن یک طرفہ ہوائی جہاز ٹکٹوں سے مشابہت رکھتا ہے۔ اس کی منزل کے خانے میں “محفوظ سر زمین” درج تھا۔ اس بات کا بھی خیال رکھا گیا کہ یہ پمفلٹ اپنے اصل مخاطب یعنی مہاجرین تک پہنچ سکیں،چنانچہ یہ ان کے گھروں کے لیٹر باکس میں ڈالے گئے تھے۔ اگرچہ پولیس نے اس واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ اگرچہ دوسری طرف پارٹی کے مخالفین نے سوشل میڈیا پر “نیور اگین” کا ہیش ٹیگ چلا کر ان انتہا پسند بیانات اور سرگرمیوں کی مخالفت کی ہے۔ مگر اس پارٹی کے مہاجرین مخالف موقف کو غیر ملکیوں کے پر تشدد واقعات کی بنا پر پزیرائی ملتی ہے۔حال ہی میں، اشافن برگ میں ایک افغان شہری نے دو افرار کو چاقو کے وار کر کے ہلاک کر دیا تھا.

پھر سعودی شہری کے واقعے اور پھر ایک دوسرے شہر میں ایک اور افغانی کی جانب سے ہڑتالی کیمپ میں بیٹھے ہڑتالیوں پر حملہ کرنا ، ان واقعات کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور اینٹی امیگریشن قوانین پر بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ امر بھی ممکنات میں سے ہے کہ سی ڈی یو کچھ نکات جیسے کہ غیر قانونی غیر ملکیوں کے اوپر کریک ڈاؤن جیسے معاملات پر دائیں بازو کی اے ایف ڈی کے ساتھ الحاق کر کے ایک “لیمیٹ ایڈیشن آف ورکنگ ریلیشن شپ” قائم کر لے، دنیا بھر کی نظریں جرمنی کے ان انتخابات اور اس کے نتیجے پر لگی ہوئی تھی۔ تاہم ہمیں اس کے نتائج اور اس کی بنیاد پر بننے والی اتحادی حکومت جو کہ نہ صرف جرمنی بلکہ یورپ کی سمت کا تعین کرے گی۔ اس سے خیر کی توقع رکھی چاہیے، ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اس ملک میں امن عطا فرمائے اور ہماری نسلوں کی حفاظت فرمائے۔آمین

نوٹ
امجد شریف جرمنی میں مقیم ہیں۔وہ ایک مصنف، کالم نگار ہیں۔ان کے مضامین سماجی مسائل،بین الاقوامی تعلقات اور جدید دنیا کے مختلف پہلوؤں پر محیط ہوتے ہیں۔ یہ ان کے ذاتی خیالات ہیں۔ ادارہ کا ان کی رائے سے متفق ہو یہ ضروری نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں