جس سے خون سے سینچا تھا وہ شجر کملایا کیوں

105

آج سے تقریبا. 77 سال قبل ایک شجر جس کو لاکھوں مسلمانوں نے اپنے خون سے سینچا تھا ایک آزاد اور خود مختار ریاست جس کی بنیاد لا الہ الا اللہ پر رکھی گئی تھی جس کی تعمیر محمد الرسول اللہ پر ہونی تھی وہ شجر جس کا نظام نظام مصطفی ایک ایسا شجر جس نے پوری امت مسلمہ کی لیڈر شپ کا کام کرنا تھالیکن ستم ظریفی دیکھئے کہ 77 سال گزر جانے کے باوجود آج بھی وہ شجر بے سایہ ہے جس کو لاکھوں مسلمانوں نے اپنے خون سے سینچا تھاوہ شجر اب کملا ہو چکا ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھی گئی تھی جس کے لیے کہا جاتا تھا کہ اس میں ہر شخص آزاد ہوگا جس میں ہماری عزت جان۔ و مال محفوظ ہو گا مگر افسوس کہ یہاں حوس کے پجاری سیاہ راتوں میں سفید جسموں کا جیون سیاہ کرتے ہیں یہاں عزت کی بولی سب سے اونچی لگتی ہے یہاں پر ناچتے پیروں کی تھاپ بکتی ہے اب یہاں پہ جاگتی آنکھوں کے خواب بکتے ہیں یہاں پھول سے ہونٹوں کی پیاس بگتی ہے یہاں پر جسم بکتے شباب بکتے ہیں اب اس ملک میں دو وقت کی روٹی کے بدلے بنت حوا کو ابن آدم کی حوس کا نشانہ بننے پر مجبور کر دیتی ہے مگر کہیں کوئی قیامت نہیں اترتی قوم کی معصوم بیٹیاں اپنی عصمت لوٹانے کے بعد اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں مگر کہیں کوئی قیامت نہیں اترتی۔

تھر کی جلتی ریت پہ ننگے پاؤں چلنے والی قوم کا صدر اسلام آباد مرسڈیز میں سفر کرتا ہے لیکن کہیں کوئی قیامت نہیں اترتی بلوچستان اور کشمیر میں لگی نفرت کی آگ اپنی آخری حدوں کے بھی آخر تک پہنچ گی ہے مگر کسی کو کوٸی فکر نہیں ہر کوٸی اپنی دھن میں مگن ہے .
یہ شاہراہیں اسی واسطے بنی تھیں کیا
کہ ان پر دیس کی جنتا سسک سسک کر مرے
زمیں نے کیا اسی لیے اناج اگلا تھا۔
کہ نسل آدم و حوا بلک بلک کر مرے۔
ملیں اسی لیے ریشم کے ڈھیر بنتی ہیں کہ دختران وطن تار تار کو ترسیں ۔
چمن کو اسی لیے مالی نے خوں سے سینچا تھا کہ اس کی اپنی نگاہیں بہار کو ترسیں۔

نام ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان جہاں ہر کوئی اپنی دھن میں مگن ہے سر کھوجانے کی فرصت نہیں دائیں بائیں کی فکر نہیں ہر شخص بھوکا ہے۔ کوئی اقتدار کا طالب ہے تو کوئی شہرت کا بھوکا۔ کوئی دولت کا پرستار ہے تو کوئی پیٹ کا بھوکا ۔کوئی بھنگ کے ایک پیالے کے عوض اپنا سب کچھ نچھاور کرنے پر آمادہ ۔کوئی طاقت کا بھوکا قہط و۔ رجال بڑھتا چلا جا رہا ہے تہذیب و تمدن کے پیمانے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر وقت کی ناقدری کا گلہ کر رہے ہیں ۔ ہم زوال کی آخری حدوں کے بھی آخر تک پہنچ چکے ہیں انصاف مہیا کرنے والے ادارے سے سسک سسک کر دم توڑ رہے ہیں ہر طرف سے ایک ہی پکار سنائی دیتی ہے ۔کہ جسے خون سے سینچا تھا وہ شجر اب کملا چکا ہے عوام منگاٸی سے پریشان نوجوانوں کی ایک بڑھی تعداد ملک چھوڑ چکی ہے ریاست کی رٹ کہیں نظر نہیں آتی تمام ادارے دم توڑ رہے ہیں انصاف مہیا کرنے والے ادارے جوظلم کا شکار ہیں ۔ پاکستان زندہ باد کا دم بھرنے والے پاکستان سے زندہ بھاگنے پر مجبور ۔

جب ایک مزدور شام کو خالی ہاتھ گھر لوٹتا ہے۔ تو اپنے بچوں سے نظریں چراتے ہوئے کہتا ہے. ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات .جب جاگیردار کسی غریب ہاری کی بیٹی کو اٹھا کر لے جاتے ہیں تو وہ أیک ہی صدا آتی ہے آواز دو انصاف کو انصاف کہاں ہے ۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی آج بھی سراپا سوال ہے ذمہ دار کون۔ جب بے روزگار باپ نے اپنی اولاد کو موت کے گھاٹ اتارا تو کہتا ہے.
عجب رسم ہے چارہ گروں کی محفل میں
لگا کر زخم نمک سے مساج کرتے ہیں
غریب شہر ترستا ہے ایک نوالے کو
امیر شہر کے کتے بھی راج کرتے ہیں

اب یہ شجر اتنا کملا چکا ہے کہ غربت سے مجبور لوگ اپنے بچے بھون کر کھا جاتے ہیں اپنے گردے اور آنکھیں تک بیچ ڈالتے ہیں۔ اپنے خاندان کے ساتھ لوگ دریاؤں اور سمندروں میں چھلانگ لگا دیتے ہیں۔ پنکھوں کے ساتھ لٹک جاتے ہیں ٹرین کی پٹری کے آگے لیٹ جاتے ہیں ۔غربت ظلم اور مہنگائی سے مجبور لوگ اپنے معصوم بچوں تک کہ گلے کاٹ دیتے ہیں ۔صدارت۔ وزارت و عمارت کے بھوکے تہذیبی اقدار کو پامال کر رہے ہیں اور کبھی تو چند کھوٹے سکوں کے بدلے قوم کی بیٹیوں کو بیچ ڈالتے ہیں اور کبھی مساجد کا تقدس پامال کرتے ہوئے لہو رنگ کرتے ہیں اور کبھی ہم تمہارے ساتھ وہ کریں گے تو تمہیں پتہ بھی نہیں ہوگا کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا جسے الفاظ سے اپنے ہی لوگوں کو نوازا جاتا ہے اس سے پہلے کہ بھوک اس ملک کو کھا جائے لہجے بے آواز ہو جائیں شجر بے سایہ ہو جائے ملت اسلامیہ ہم سب سے چیخ چیخ کر یہ استدعا کررہی ہے کہ خداراخدارا اس بوڑھے پاپ کا سہارا بنیں جس کے بیٹے نے خود سوزی کی خدارا اس عورت کا سہارا بنیں ہے جس کی بیٹی جاگیردار کی حوس کا نشانہ بنی اور خدارا ان معصوم بچوں کے سر پر دست شفقت رکھے جن کا باپ پولیس مقابلے میں مارا گیا .

ستم صرف یہ وقت نے کہنیوں کی نزاکت کو دلوں کی محبت کو اس طرح سے مسلہ ۔ اس طرح سے کھچلا اور زندگی اذیت ہے اور سانس کی بھی قیمت ہے ۔کس کا ہاتھ ہے جو خون سے رنگا نہیں ۔کس کا گریباں ہے جگر سے بچا نہیں؟سزائے موت آتی ہے شہر کی گلیوں سے خون کی بو آتی ہے پھولوں اور کلیوں سے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں