جموں و کشمیر کی مشکل جدوجہد

177

تحریر: گلزار اختر کاشمیری
خطہ کشمیر کا جغرافیہ
کشمیر کا رقبہ

ریاست جموں کشمیر کا کل رقبہ 84471 مربع میل ہے۔ بلحاظ رقبہ ریاست جموں و کشمیر دنیا کے ۱۱۰ آزاد خود مختار ممالک سے بڑی ریاست ہے۔ تقسیمِ کشمیر سے پہلے ریاست کا صوبائی رقبہ حسبِ ذیل تھا۔
صوبہ جموں:12378 مربع میل
صوبہ وادی کشمیر: 8539 مربع میل
صوبہ لداخ گلگت بلتستان: 6354 مربع میل
1947 کے بعد یہ ریاست تین حصوں میں تقسیم ہوگئی۔
۱۔ بھارت کے زیرِ قبضہ علاقہ ۲۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا علاقہ جو یہاں کے لوگوں نے ڈوگرہ فوج سے لڑ کر آزاد کرایا۔ ۳۔ چین کے زیرِ قبضہ علاقہ
مختصر تفصیل:
۱۔ ریاست جموں و کشمیر کے زیادہ تر علاقے پر بھارت نے قبضہ کر رکھا ہے۔ اس کی تفصیل آئیندہ کسی مضمون میں پیش کروں گا۔ اسی علاقے میں آزادی کی تحریک چل رہی ہے۔ اس میں صوبہ جموں کا علاقہ جو 9880 مربع میل ہے اس کے 6 اضلاع ہیں اور اس کی ۲۲ تحصیلیں ہیں جن کی مختصر تفصیل یہ ہے۔
۱۔ ضلع جموں: تحصیلیں: ۱۔ جموں ۲۔ سانبہ ۳۔ رنبیر سنگھ پورہ ۴۔ اکھنور
۲۔ ضلع کھٹوعہ: تحصیلیں: ۱۔ کھٹوعہ ۲۔ ہیرا نگر ۳۔ بسولی ۴۔ ملاوہ
۳۔ ضلع اودھم پور: تحصیلیں: ۱۔ اودھم پور ۲۔ رام نگر ۳۔ ریاسی ۴۔ گلاب گڑھ
۴۔ ضلع راجوری: تحصیلیں: ۱۔ راجوری ۲۔ نوشہرہ ۳۔ بدھل
۵۔ ضلع پونچھ: تحصیلیں: ۱۔ حویلی ۲۔ مینڈھر ۳۔ سرن کوٹ
نوٹ: یہ ضلع دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا آدھا مقبوضہ علاقے میں ہے اور آدھا آزاد کشمیر میں ہے اس کی تفصیل آگے آئے گی۔
۶۔ ضلع ڈوڈہ: تحصیلیں: ۱۔ ڈوڈہ ۲۔ رام بن ۳۔ کشتواڑ ۴۔ بھدروہ
صوبہ وادیِ کشمیر: رقبہ: 6893 مربع میل
اس صوبے کے بھی 6 اضلاع اور ۲۵ تحصیلیں ہیں۔ تفصیل یہ ہے۔
۱۔ ضلع سری نگر: تحصیلیں: ۱۔ سری نگر ۲۔ گاندر بل ۳۔ کنگن
۲۔ ضلع انت ناگ: (اس ضلعے کا پرانا نام اسلام آباد ڈوگرہ حکومت نے تبدیل کر دیا) تحصیلیں: ۱۔ انت ناگ ۲۔ پہل گام ۳۔ ڈورہ ۴۔ کولگام
۳۔ ضلع بڈگام: تحصیلیں: ۱۔ بڈگام ۲۔ بیروہ ۳۔ چاڈورا ۴۔ ماگام
۴۔ ضلع بارہ مولا: تحصیلیں: ۱۔ بارہ مولا ۲۔ سو پور ۳۔ اوڑی ۴۔ بابڈی پورہ ۵۔ ٹنگمرگ ۶۔ سونا واری ۷۔ پٹن
۵۔ ضلع کپواڑہ: تحصیلیں: ۱۔ کپواڑہ ۲۔ ہندواڑہ ۳۔ کرناہ
۶۔ ضلع پلوامہ: تحصیلیں: ۱۔ پلوامہ ۲۔ شوپیاں ۳۔ ترال ۴۔ پامپور
صوبہ لداخ: رقبہ 24569 مربع میل
۱۔ ضلع لداخ: تحصیلیں: ۱۔ لیّہ ۲۔ پدم
۲۔ ضلع کرگل: تحصیلیں: ۱۔ کرگل ۲۔ دراس
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان:
آزاد کشمیر کا رقبہ: 4144 مربع میل

یہ چھوٹا سا خطہ یہاں کے عوام نے ۱۹۴۷ میں پاکستان لے آزاد ہونے پر ہمت کی اور ۴۱۴۴ مربع میل علاقہ ڈوگرہ حکومت سے خالی کروا لیا۔ ریاست کے اس حصے میں اپنا صدر اپنا الگ وزیرِاعظم اور اپنا ہائی کورٹ اور اپنا سپریم کورٹ ہے۔ حکومتِ پاکستان کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت دفاع کرنسی اور خارجہ امور حکومتِ پاکستان کے حوالے کیے ہیں۔ ۱۹۴۷ میں یہ علاقے تین اضلاع پر مشتمل تھا۔ ۱۔ مظفر آباد ۲۔ پونچھ ۳۔ میرپور
اب یہ تین اضلاع ۱۰ اضلاع بن گئے ہیں۔ جن کی تفصیل حسبِ ذیل ہے.
۱۔ ضلع مظفر آباد: تحصیلیں: ۱۔
۲۔ ضلع نیلم ویلی: تحصیلیں: ۱۔ اٹھمقام ۲۔ شاردہ
۳۔ ضلع جہلم ویلی: تحصیلیں: گڑہی دوپٹہ ۲۔ چناری
۴۔ ضلع پونچھ: یہ ضلع ۱۹۴۷ میں تقسیم ہوگیا تھا اس کا پونچھ شہرمقبوضہ کشمیر میں ہے ۱۔ آدھا حویلی ۲۔ مینڈھر ۳۔ سرن کوٹ پر بھارت قابض ہے باقی علاقہ آزاد کشمیر میں ہے اس کے چار اضلاع بن چکے ہیں۔

ضلع پونچھ کی تحصیلیں: ۱۔ راولاکوٹ ۲۔ ہجیرہ
۵۔ ضلع سندھنوتی: تحصیلیں: ۱۔ پلندری ۲۔ تراڑ کھل
۶۔ ضلع باغ: تحصیلیں: ۱۔ باغ ۲۔ دھیرکوٹ
۷۔ ضلع حویلی: تحصیلیں: ۱۔ حویلی ۲۔ عباس پور
۸۔ ضلع میر پور: تحصیلیں: ۱۔ میر پور ۲۔ ڈڈیال
۹۔ ضلع کوٹلی: تحصیلیں: ۱۔ کوٹلی ۲۔ سہنسہ ۳۔ نکیال
۱۰۔ ضلع بھمبر: تحصیلیں: ۱۔ بھمبر ۲۔ سماہنی ۳۔ برنالہ
گلگت بلتستان:
۱۔ ضلع گلگت: تحصیلیں: ۱۔ گلگت ۲۔ نگر ۳۔ ہنزہ
۲۔ ضلع دیامر: تحصیلیں: ۱۔ چلاس ۲۔ استور ۳۔ داریل تانگیر
۳۔ ضلع غذر: تحصیلیں: ۱۔ پنیال ۲۔ اشکومن ۳۔ گوپس ۴۔ یاسین
۴۔ ضلع اسکردو: تحصیلیں: ۱۔ اسکردو ۲۔ روندو ۳۔ شگر
۵۔ گانچے: تحصیلیں: ۱۔ خپلو ۲۔ سیاچن ۳۔ گھر منگ
گلگت بلتستان کا علاقہ ریاست جموں و کشمیر کا حصّہ ہے۔ یہاں کے مقامی لوگوں نے جہاد کے ذریعے اس علاقے کو آزاد کرایا تھا۔ یہ علاقہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے لداخ اور کرگل کے ساتھ تھا۔ اب یہ علاقہ حکومتِ پاکستان کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت عارضی طور پر حکومتِ پاکستان کے پاس ہے اس کا گورنر اور وزیرِ اعلیٰ الگ ہے مگر یہ باقاعدہ صوبہ نہیں ہے۔ اس کی اسمبلی بھی اپنی ہے۔
چین کے زیرِ قبضہ کشمیر کا علاقہ:
۱۹۶۲ میں بھارت اور چین کے درمیان جنگ ہوئی تھی چین نے بھارت کے زیرِ قبضہ صوبہ لداخ کا ۹۱۷۱ مربع میل علاقہ اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ جسے اقصائی چن کہا جاتا ہے۔اس میں آبادی نہیں ہے۔
چین نے اس دور میں اپنا نقشہ جاری کیا تھا۔ جس میں اقصائی چن کا علاقہ اور سکردو گلگت اور ہنزہ کا علاقہ بھی شامل تھا۔ بھارت کے ساتھ جنگ میں اقصائی چن پر چین نے قبضہ کر لیا۔ البتہ حکومتِ پاکستان نے چین کی مدد کرتے ہوئےامریکہ اور چین کی ملاقات کا انتظام کیا پھر چین کو سلامتی کونسل کا رکن بنانے میں بڑی مدد کی۔ اس پر پاکستان اور چین نے بیٹھ کر اپنے سرحدی معاملات طے کرنے کا فیصلہ کیا۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے سربراہان نے جو طے کیا کہ گلگت بلتستان کی شمالی سرحد پر ۱۸۶۸ مربع میل علاقے کو چین کے حوالے کر کہ معاملہ طے کر لیا۔
آبادی:
ایک محتاط تخمینے کے مطابق اس وقت ریاست جموں و کشمیر کی کل آبادی ایک کروڑ اڑسٹھ لاکھ 16,800,000 ہے۔ جس کی تفصیل درج ذیل ہے۔
۱۔ مقبوضہ جموں و کشمیر(بھارت کے زیرِ قبضہ) ۹۰ لاکھ
۲۔ آزاد جموں و کشمیر ۳۵ لاکھ
۳۔ گلگت بلتستان ۱۲ لاکھ
۴۔ مہاجرین جموں و کشمیر مقیم پاکستان ۱۶ لاکھ
۵۔ بیرون ملک آباد کشمیری ۱۵ لاکھ اس طرح کل آبادی ایک کروڑ اڑسٹھ لاکھ بنتی ہے۔ ۱،۶۸،۰۰۰۰۰
بلحاظ آبادی ریاست جموں و کشمیر دنیا کے ۱۳۱ ممالک سے بڑی ہے۔

کشمیر کی تاریخ:
کشمیر کا پہلا مسلمان حکمران سلطان صدر الدین کے نام کا سلطان تھا۔ جو ایک مسلمان صوفی شرف الدین عرف بلبل شاہ کی کوشش سے مسلمان ہوا تھا۔ صدر الدین نے ۱۳۲۰ء سے ۱۳۲۳ء حکومت کی۔ اس کے بعد شاہ میر سلطان نے شمس الدین کا لقب اختیار کیا۔ شاہ میری خاندان نے ۲۱۶ سال کشمیر پر حکومت کی۔ اس خاندان کی حکومت سید علی ہمدانی ان کے رفقاء اور دیگر بزرگان کی کاوشوں سے اسلام کی روشنی کشمیر کے کونے کونے تک پھیل گئی۔ ۱۵۵۵ء تا ۱۵۸۶ء چک خاندان جو شیعہ مسلک کا تھا اس نے کشمیر پر حکومت کی۔

مغلیہ دور حکومت:
مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کے دورِ حکومت میں ۲۸ جون ۱۵۸۶ء مغلیہ فوج کشمیر پر قابض ہوئی۔ اور کشمیر کو اپنا صوبہ بنا دیا۔ اورنگزیب مغلیہ سلطنت کے بادشاہ کی وفات کے بعد افغان بادشاہ احمد شاہ ابدالی نے ۱۷۵۲ء میں ۱۶۶ سالہ مغلوں کا اقتیدار ختم کر کے اپنا گورنر مقرر کیا۔ ۱۸۱۹ء میں رنجیت سنگھ والئی لاہور نے افغان گورنر جبار خان کو شکست دے کر کشمیر کو سکھ سلطنت کا حصہ بنا لیا۔ ۱۸۴۶ء میں جب انگریزوں نے سکھ سلطنت کو ختم کر کے ۱۶ مارچ ۱۸۴۶ء کومعاہدہ امر تسر کر کہ یہ ملک ۷۵ لاکھ سکہ نانک شاہی میں گلاب سنگھ ڈوگرہ کےہاتھ فروخت کر دیا۔ یوں کشمیر سکھوں کے مسلط سے ڈوگروں کی عملداری میں آگیا۔ ڈوگرے ہندو ۱۸۴۶ء سے ۱۹۴۷ء تک کشمیر پر قابض رہے۔

ڈوگروں میں مہاراجہ گلاب سنگھ۔ رنبیر سنگھ۔ پرتاب سنگھ اور ہری سنگھ تخت نشین رہے۔ یوں تو کشمیر کی انفرادی حیثیت جب سے ختم ہوئی۔ مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ کشمیر پر جب سکھوں نے قبضہ کیا تو یہاں مسلمانوں کی آبادی ۸۵ فیصد تھی۔ڈوگرہ حکومت میں تو انتہا ہو گئی۔ اس دور میں مسلمانوں کو حکومتی انتظام و انصرام سے دور رکھا گیا۔ ڈوگرہ عہدِ حکومت میں ۲۸ وزرائے اعظم گزرے ان میں سے ایک بھی مسلمان نہ تھا۔ ڈوگرہ دور میں فوج کی ۱۳ بٹالین تھیں جن میں صرف ایک مسلمان بٹالین تھی۔ ۸۵ فیصد مسلمانوں کی ایک بٹالین تھی۔ جبکہ ۱۵ فیصد سکھ اور ہندو کی ۱۲ بٹالین فوج تھی۔

کشمیری مسلمانوں پر ظلم و ستم
جب سے کشمیر پر مسلمانوں کی حکومت ختم ہوئی مسلمان مشکلات، مسائل اور پریشانی میں مبتلا ہوگئے۔ ڈوگرہ حکومت کے دور میں مسلمانوں سے زمینیں چھین کر ہندووں کو دی گئیں۔ ہندووں کو جاگیردار بنا دیا گیا مسلمان ان جاگیرداروں کے پاس کام کرنے پر مجبور ہو گئے۔ جو مسلمان حکومتی اہل کاروں کی مدد کرتا وہ تو محفوظ رہتا ورنہ جبری مشقت بیگار (بغیر معاوضے کے کام) عام تھی۔ مسلمان زمیندار کا غلہ تین حصوں میں تقسیم ہوتا ایک حصہ حکومت کا دوسرا حصہ پنڈت کا اور تیسرا حصہ زمیندار کا ہوتا۔ مسلمان مکان بناتا تو کھڑکی پر ٹیکس، گھر میں چولہے پر ٹیکس، مال مویشی پر ٹیکس، بیوی پر ٹیکس، دستکاروں اور ہنر مندوں پر ٹیکس جس کی وجہ سے مسلمانوں کی معاشی حالت ناگفتہ بہہ ہوگئی۔ مسلمانوں پر بیگار مسلط کر دی گئی۔

ہندو اور مسلمان کے لئے الگ الگ قانون تھا۔ کشمیر میں زمین کا مالیہ انگریز حکومت کی نسبت تین گنا تھا۔ شالیں بنانا مسلمانوں کا ہنر تھا شالیں بنانے پر الگ ٹیکس اور انہیں برآمد کرنے پر الگ ٹیکس تھا۔ مقامی صنعتیں مسلمانوں کی تھیں جو ٹیکس سے بری طرح متاثر ہوئیں۔ قالین کی برآمد پر ۸۵ ٹیکس تھا۔ قصاب، تندوری، بڑھئی، میسن، کشتی کے ملاح حتٰی کہ طوائفوں پر بھی ٹیکس لگ گیا۔ سیاحوں کے ساتھ جو پورٹر سامان اٹھاتے ان کی نصف آمدن ٹیکس دینا پڑتا۔ نمبردار زمین کا مالیہ لیتے وقت بہت سختی کرتے۔ جو آدمی بر وقت مالیہ ادا نہ کر سکتا اس کے سر پر کنکر رکھ کر اوپر پانی کا گھڑا بھر کر رکھا جاتا اور اسے کئی کئی گھنٹے اس اذیت سے گزارا جاتا۔ اس کے نتیجے میں کنکر سر کی ہڈی میں اتر جاتا اور بندہ لہولہان ہو جاتا۔ ۱۹۷۰ میں ایک بزرگ نے مجھے اپنے والد کا قصہ سنایا۔ کہ میرے والد صاحب کی ہندو پٹواری سے ناراضگی ہو گئی۔ پٹواری نے دشمنی میں ایک سو کنال زمین میرے والد صاحب کے نام پر کر دی۔

نمبردار نے بتایا اس دفعہ آپ کا مالیہ بڑھ گیا ہے والد صاحب چار بکریاں پیدل یہاں سے مری لے گئے وہاں انہوں نے ایک روپیہ فی نگ کے حساب سے بیچ کر مالیہ ادا کیا۔ ٹیکس وصول کرنے والے سرکاری اہلکار رشوتیں وصول کرتے تھے جس گاوں میں سرکاری اہلکار آتا تمام محلے سے ہر گھر سے ایک ایک دیسی مرغ وصول کر کے اسے کھلایا بھی جاتا اور ساتھ بھی لے جاتا۔ یہ نظرانہ کسی شمار میں نہ تھا۔ بس حاکم کی آمد پر کسی سختی سے بچنے کے لئے یہ رشوت تھی۔ مسلمان مزدور سے کوئی پنڈت یا سرکاری اہلکار کام کرواتا تو اسے مزدوری نہیں دیتا تھا۔ مسلمان مزدوروں سے کئی کئی ماہ بیگار لی جاتی۔ گلگت اور سکردو کی طرف فوجوں کے لئے راشن اور دیگر سامان پہنچانے کے لئے سرکاری اہلکار جب آتا تو مزدور کے بیوی بچے اس اہلکار کی ٹانگوں سے لپٹ جاتے انہیں خدشہ ہوتا تھاکہ اس یخ بستہ سردی اور طوفانی برف باری میں کہیں اس کی موت ہی آجائے۔ غربت کے مارے ۹۹ لوگ ننگے پاوں سفر کرتے۔ یہ ننگے پاوں مزدوں بیماریوں کا شکار ہو جاتے بعض راستے میں ہی مر جاتے۔

جبری محنت یعنی بیگار کو قانونی حیثیت حاصل تھی۔ ان مظلوم لوگوں کے قافلے ڈیڑھ من اجناس سر پر اٹھا کر سردیوں اور گرمیوں میں سفر کرتے۔ یہ لوگ مجرم نہیں بلکہ مہاراجہ کی بے ضرر رعایا تھی۔ جو کئی کئی دن بھوکے کہیں اپنی منزل پر پہنچتے اس وقت کے مصنف میر محمد کشفی نے اس سارے ماحول کی منظر کشی کی ہے۔ ان کی کتاب کشمیر ہمارا ہے صحفہ نمبر ۱۴۹ ملاحظہ ہو۔آزاد کشمیر کے پہلے صدر بیرسٹر سردار ابراہیم نے اپنی کتاب The Kashmir Struggleمیں بھی اس صورت حال کا تذکرہ کیا ہے۔ملاحظہ ہو صفحہ نمبر ۱۷۔ مشہور سیاستدان چوہدری غلام عباس نے اپنی کتاب “کشمکش” میں بھی اس منظر کی تصدیق کی ہے۔

بھارت کا کشمیر پر قبضہ
دوسری جنگِ آزادی کے بعد برطانیہ کی گرفت ہندوستان میں کمزور پڑتی جا رہی تھی۔ ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف نفرت بڑھ چکی تھی۔ ہندووں کی جماعت کانگرس پورے ہندوستان پر قبضہ کرنا چاہتی تھی۔ مگر قائداعظم ہندو کی فطرت سے واقف تھے انہیں اندازہ تھا کہ ہندو اقتیدار میں آگئے تو جس طرح کشمیر میں ڈوگرہ حکومت مسلمان رعایا پر ظلم ستم روا رکھے ہوئے تھی۔ ہندوستان میں بھی ہندو اپنی فطرت سے باز نہیں آئے گا۔ چنانچہ مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے مسلمانوں نے اپنے الگ وطن لے لئے جدوجہد شروع کی۔ مسلمانوں کی غالب اکثریت نے مسلم لیگ کے ساتھ شامل ہو کر جدوجہد کی انگریز مجبور ہوگیا اور دو قومی نظریے کے مطابق مسلمانوں کے مطالبے تسلیم کرنا پڑا۔

ہندوستان میں بہت ساری خود مختار رسیاستیں تھیں۔ فیصلہ ہوا کہ ان ریاستوں میں عوام سے مشاورت کے ساتھ حکمران فیصلہ کریں کہ وہ ہندوستان یا پاکستان میں سے کس کے ساتھ شامل ہوں گے۔ کشمیر میں مسلمان کی اکثریت تھی کشمیر پاکستان کے ساتھ لگتا تھا ان کی سرحدیں ملتی تھیں مگر حکمران ہندو تھا۔ کشمیر میں لوگوں نے پاکستان کی تحریک سے حوصلہ پا کر لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور ڈوگروں سے نجات حاصل کرنے کا فیصلہ کر دیا۔ آزاد کشمیر کا علاقہ جو پاکستانی علاقوں سے قریب قریب تھا۔ تحریک زور سے اٹھی ڈوگرہ فوج مجبور ہو کر پیچھے ہٹنے لگی۔ مہاراجہ نےاپنا اقتدار ڈوبتے دیکھا مجاہدین آگے بڑھ رہے تھے۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے پنڈت نہرو سے مشاورت کے بعد ہندوستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا تو کشمیری مسلمانوں نے اس فیصلے کو مسترد کر دیا۔ اور ڈوگرہ فوج کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔

ہری سنگھ کے ہندوستان کے ساتھ الحاق کا اعلان ہوتے ہی بھارتی فوج ۲۷ اکتوبر ۱۹۴۷ کو کشمیر میں داخل ہوگئی۔ کشمیری مجاہدین نے جہاد جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔ بھارتی وزیرِ اعظم پنڈت نہرو نے اقوامِ متحدہ میں جنگ بندی کی درخواست کر دی۔ اور اعلان کیا امن قائم ہوتے ہی کشمیری عوام کو استصواب رائے کا حق دیا جائے گا۔ کہ وہ ہندوستان یا پاکستان میں سے کس کے ساتھ شامل ہوں گے حکومتِ پاکستان نے ہندوستان کی تجویز سے اتفاق کر دیا جنگ بندی ہو گئی۔ جنگ تو بند ہو گئی مگر کشمیریوں کی آزادی کی منزل دور ہو گئی اور آج بھی کشمیری اپنی آزادی کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں