تحریر:نعیم الحسن نعیم
اس سے پہلے کہ کسی رسم پہ وارے جائیں
چل کسی خواب کی تکمیل میں مارے جائیں
انتہائی قابل احترام جناب وزیراعظم آزاد جموں کشمیر چوہدری انوار الحق صاحب
کچھ دن پہلے صدر ریاست نے حکومتی تجویز پہ صدارتی آرڈیننس کی منظوری دی. جس کا نفاز بھی فوری طور پر ہو گیا.نئے صدارتی آرڈیننس کے تحت آزاد کشمیر میں احتجاج 7 سال قید اور فوری نظر بندی کی سخت سزائیں ہوں گی.آزاد کشمیر میں عوامی اجتماعات، جلسے، جلوس اور احتجاجات کے حوالے سے نئے قانون جس پر عمل نہ کرنے والوں کو 7 سال تک قید اور فوری نظر بندی کی سزا ہو گی. قانون کے مطابق، صرف رجسٹرڈ جماعتیں، تنظیمیں اور یونینز ہی احتجاج کرنے کی مجاز ہوں گی، اور اس کے لیے ڈپٹی کمشنر کی اجازت لازم ہوگی۔ غیر رجسٹرڈ جماعتوں، تنظیموں یا یونینز کو کسی بھی عوامی اجتماع یا احتجاج کی اجازت نہیں ہوگی۔ جناب وزیراعظم صاحب ایک صدارتی آرڈیننس کے تحت ازاد کشمیر میں کالا قانون نافذ کر دیا گیا اس کی ضرورت کیوں پڑھی اور کیوں نافذ کیا گیا. جناب وزیر اعظم صاحب آزاد کشمیر میں پچھلے عرصے میں جو تحریک چلی ہم نے اسے بھی ہرامن رہنے پہ زور دیا سوشل میڈیا سمیت ہر پلیٹ فارم پہ شہریوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہم پرامن اجتجاج پہ یقین رکھتے ہیں. لیکن جناب اعلیٰ آزاد کشمیر میں حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ جب تک عوام مجبور ہو کر سڑکوں پہ نہ نکلے شنوائی بھی نہیں ہوتی.
جناب وزیراعظم صاحب اللہ تعالیٰ نے آپکو وزیر اعظم آزاد کشمیر کا رتبہ دیا جو کہ شاید کبھی آپکے وہم گمان میں بھی نہیں تھا.ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایسے کالے قانون کا نفاذ کرنے کے بجائے آپ آزاد کشمیر کے مسائل کی طرف توجہ دیتے تو یقیناً سول سوسائٹی کو اجتجاج کرنے کی اور جناب کو ایسے قانون نافذ کرنے کی نوبت ہی نہ آتی.جناب وزیر اعظم صاحب ریاستی عوام کو بنیادی انسانی حقوق کے متصادم کوئی بھی آرڈیننس قبول نہیں. حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے اس طرح کے آرڈیننس منظور کر کے سول سوسائٹی کی آواز کو بند کرنا چاہ رہی ہے. اسی طرح کے قوانین تو مارشل لاء کے دور میں بنائے جاتے ہیں .جناب وزیراعظم صاحب اسطرح کے قانون کے نفاذ سے بہتر تھا آپ اپنی کارگردگی بہتر بناتے. اور آئندہ الیکشن میں اپنی کارکردگی اپنے حلقے اور آزاد کشمیر کی عوام کے سامنے رکھ کر عوامی عدالت میں سرخرو ہو جاتے. جناب وزیر اعظم صاحب آپ نے ریاستی عوام سے یہ حق چھین لیا کہ وہ حکمرانوں سے سوال کر سکیں تو آئیں ریاست مدینہ کی تاریخ اٹھا کہ دیکھ لیں خلفائے راشدین کے دور حکومت کو دیکھ لیں. جناب وزیر اعظم صاحب آپکے نااہل وزیروں مشیروں نے آپکی سیاست کا بیڑا غرق کر دیا ہے.وزراء کی فوج ریاستی خزانے پہ بوجھ کے سوا کچھ نہیں.حضرت سعید بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ دوم 22 لاکھ مربع میل کے حکمران حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک علاقے کے گورنر تھے اس وقت امیر المومنین شہر کی جامعہ مسجد میں جاتے اور عام لوگوں سے گورنر کی بابت پوچھتے تھے کے لوگو تمیں گورنر سے کوئی شکایت تو نہیں؟
جب حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت سعید بن عامر کی بابت لوگوں سے پوچھا کہ گورنر سے کوئی شکایت تو نہیں تو لوگوں نے جواب دیا چار شکایتیں ہیں. تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے گورنر کو بلایا اور فرمایا چار شکایتیں ھیں لوگوں کو آپ سے؟
1 یہ کہ آپ لوگوں سے فجر کے وقت نہیں ملتے اشراق کے وقت ملتے ہیں. حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میری بیوی جس نے تیس سال میری خدمت کی اب بیماری کی وجہ سے معزور ھو گئی ھے میں صبح نماز پڑھ کر اپنی بیوی کو ناشتہ بنا کر دیتا ھوں اسکے کپڑے دھوتا ھوں اسکا پاخانہ صاف کرتا ھوں اس لیے دیر ہو جاتی ہے. دوسری شکایت یہ ھے کہ آپ ہفتے میں ایک دن ملتے نہیں لوگوں سے؟سعید بن عامر بولے میں اسکا جواب ہر گز نہ دیتا اگر پوچھنے والے آپ نہ ھوتے بہرحال بتا دیتا ھوں میں گورنر ضرور ھوں لیکن بہت غریب ھوںمیرے پاس یہی ایک جوڑا کپڑوں کا ہے جسے میں ہفتے میں ایک دن دھوتا ھوں پھر سوکھنے تک میں اپنی بیوی کے کپڑے پہنتا ھوں اسلیے لوگوں کے سامنے نہیں آتا اس دن یہ سن کر عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ رونے لگے اور سعید بن عامر کے بھی آنسو جاری ہو گئے تیسری شکایت یہ کہ آپ رات کو ملتے نہیں؟ سعید بن عامر رضی اللہ عنہ بولے دن سارا مخلوق کی خدمت کرتا ھوں میری داڑھی سفید ھو چکی ھے مطلب کہ کسی وقت بھی مالک کا بلاوا آسکتا ھے اس لیے پوری رات اس رب زوالجلال کی عبادت کرتا ھوں کہیں دن حشر کو رسوا نہ ھو جاؤں.
چھوتھی شکایت ان لوگوں کی یہ ھے کہ آپ بے ہوش کیوں ہو جاتے ہیں. سعید بن عامر رضی اللہ عنہ بولے میں چالیس سال کی عمر میں مسلمان ھوا ان چالیس سالوں کے گناہ یاد کر کے روتا ھوں کیا پتا میرے مالک مجھے بخشے گا بھی یا نہیں بس خشیت الہی سے میں بے ھوش ھو جاتا ہوں اے عمر رضی اللہ عنہ ان شکایتوں کے نتیجے میں جو میری سزا بنتی ھے دے دو .حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ھاتھ اٹھے اور رب سے التجا کی یا اللہ اسطرح کے کچھ اور گورنر مجھے عطا کیے جائیں مجھے ان پر فخر ہے. جناب وزیراعظم صاحب یہ ایک مختصر سا واقعہ ریاست مدینہ کے حکمران کا تھا جو اپنے گورنر کا بھی محاسبہ کرتا تھا ان سے بھی پوچھ گچھ کرتا تھا.اور یہاں آپکے وزراء بےلگام ہیں.جناب وزیر اعظم صاحب خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نماز پڑھانے مسجد میں گئے تو لیٹ ہو گے صحابہ کرام بیٹھے انتظار کر رہے تھے عمر فاروق رضی اللہ عنہ مسجد میں پہنچے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے خلیفہ سے سوال کر دیا. جناب اعلیٰ وہاں رعایا خلیفہ سے سوال کرتی تھی اور یہاں رعایا کی زبان بندی کی جا رہی ہے.وہاں خلیفہ فرماتے تھے کہ میری صورت میں کمی نہ دیکھو اگر کمی دیکھنی ہے تو میری سیرت میں دیکھو اور مجھے بتاؤ. یہاں عوام سے بولنے کا حق بھی چھین لیا گیا ہے. جناب وزیراعظم صاحب حضرت علی رضی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول ہے کہ کفر کی حکومت تو قائم رہ سکتی ہے مگر ظلم کی نہیں.حجاج بن یوسف کے زمانے میں لوگ صبح کو بیدار ہوتے اور ایک دوسرے سے ملاقات ہوتی تو یہ پوچھتے۔
گزشتہ رات کون کون قتل کیا گیا؟کس کس کو کوڑے لگے؟ولید بن عبدالملک مال، جائیداد اور عمارتوں کا شوقین تھا۔ اس کے زمانے میں لوگ صبح ایک دوسرے سے مکانات کی تعمیر، نہروں کی کھدائی اور درختوں کی افزائش کےبارے میں پوچھتے تھے۔سلیمان بن عبدالملک کھانے، پینے اور گانے بجانے کا شوقین تھا۔اس کے دور میں لوگ اچھے کھانے، رقص وسرود اور ناچنے والیوں کا پوچھتے تھے۔جب حضرت عمر بن عبدالعزیز (رحمہ اللہ) کا دور آیا تو لوگوں کے درمیان گفتگو کچھ اس قسم کی ھوتی تھی،،
تم نے قرآن کتنا یاد کیا؟؟؟
ھر رات کتنا ورد کرتے ھو؟؟؟
رات کو کتنے نوافل پڑھے؟؟؟”
اس بات کی تصدیق ہوتی کہ عوام اپنےحکمرانوں کےنقش قدم پر چلتے ھیں اگرحکمران کرپشن، اقربا پروری، ظلم، عدل وانصاف کا خون، جہالت اور دین کی قدروں کو پامال کریں گے تو رعایا بھی گمراہ ھو گی۔جناب وزیر اعظم صاحب قیامت کے دن یہ بوجھ اٹھانے سے بہتر ہے ایسے آرڈیننس کو منسوخ کریں اللہ تعالیٰ نے آپکو موقع دیا ہے عوام کی فلاح کے لیے وہ کام کر جائیں جو رہتی دنیا تک یاد رہیں اور لوگ آپکو دعائیں دیتے رہیں.ابن خلدون تاریخ کے بڑے دماغوں میں سے ایک دماغ تھا اس نے ایک عجیب بات کہی!اگر مجھے ظالم حکمرانوں اور غلاموں میں سے کسی ایک کو مٹانے کا اختیار ملے تو میں غلاموں کو مٹا دوں گا کیونکہ یہ غلام ہی ہیں جنہوں نے ظالم حکمران پیدا کئے ہیں سوچ کی غلامی ملک و قوم کو تباہ کر دیتی ہے. حضرت عمر رضی اللہ عنہ مدینہ کی گلیوں میں گشت کر رہے تھے تاکہ عوام کے حالات سے باخبر رہ سکیں۔ اس دوران انہوں نے ایک گھر سے بچوں کے رونے کی آواز سنی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس گھر کے دروازے پر گئے اور اجازت طلب کی۔ جب وہ اندر گئے تو دیکھا کہ ایک عورت ایک برتن میں پانی ڈال کر چولہے پر چڑھا رہی ہے اور بچے بھوک سے رو رہے ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس عورت سے پوچھا کہ یہ بچے کیوں رو رہے ہیں؟ عورت نے جواب دیا کہ یہ بچے بھوکے ہیں اور میں نے انہیں بہلانے کے لئے پانی میں پتھر ڈال کر چولہے پر رکھا ہے تاکہ یہ سمجھیں کہ کھانا پک رہا ہے، حالانکہ کچھ بھی پک نہیں رہا۔
یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دل پر بہت اثر ہوا۔ وہ فوراً بیت المال گئے اور وہاں سے کھانے کا سامان اور دیگر ضروریات کا سامان خود اپنے کندھوں پر اٹھا کر اس عورت کے گھر لے آئے۔ جب ان کے ساتھیوں نے کہا کہ ہم آپ کے لئے یہ بوجھ اٹھا لیتے ہیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “قیامت کے دن میرا بوجھ کون اٹھائے گا؟جناب وزیراعظم صاحب آج آزاد کشمیر میں آپکی ناکام پالیسیوں وزراء کی نااہلیوں کی وجہ سے ریاستی عوام رو رہی ہے لیکن جناب کا دل نہیں پگھل رہا.جبکہ دوسری طرف ریاست مدینہ کے حکمران سے ایک بچے کا رونا برداشت نہیں ہوا تھا. آزاد کشمیر میں اجتماعات، احتجاج اور اظہار رائے پر پابندی کے ایسے بے بنیاد اور غیر آئینی غیر قانونی، قانون کو ریاستی عوام مسترد کرتی ہے. پرامن اجتجاج عوام کا جمہوری حق بنتا ہے کشمیر میں اس طرح کا کوئی بھی کالا قانون نہ بنایا جائے جو عوامی اجتماعات یا جلسوں کو روکے. یہ جلسے جلوس بھی عوام کے بنیادی حقوق کے لیے ہو رہے ہیں ان کو پوری ریاستی مشینری لگا کر بھی نہیں روک سکتے ہیں. یہاں جو بھی کچھ ہے سرکاری اور غیر سرکاری سب کچھ کشمیر کی محنت کش عوام کی اجتماعی ملکیت ہے لہذا ایسے قانون کی کوئی اہمیت نہیں جو عام عوام کے بنیادی حقوق کا استحصال کرتا ہو اور حکمران طبقہ کا تحفظ کرتا ہو.جناب وزیر اعظم صاحب میں آزاد کشمیر کے شہری کی حیثیت سے اس صدارتی آرڈیننس کو مسترد کرتا ہوں جس میں اظہار رائے پر پابندی عائد کر کہ بنیادی حقوق سلب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ میں اس ریاست کا درجہ اول کا شہری ہوں اور جناب سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس کالے قانون کو فوری منسوخ کیا جائے۔آزاد کشمیر کی ساری سیاسی قیادت اس وقت اقتدار میں شریک ہے جناب آپکو ساری سیاسی جماعتوں کی بھرپور سپورٹ حاصل ہے.آپکو اللہ تعالیٰ نے موقع دیا ہے ریاستی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف میں لکھوا جائیں آزاد کشمیر کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنا جائیں ہسپتالوں کی حالت زار کو دیکھ لیں تعلیمی نظام کو درست کر جائیں یہ غریب لوگ جناب کو ساری زندگی دعائیں دیتے رہیں گے. ورنہ یہاں کتنے وزیر اعظم آئے اور چلے گئے جناب آپ نے بھی ایک دن چلے جانا ہے. فرعون بھی ہمیشہ کی بادشاہی کا خواب دیکھ رہا تھا لیکن ایسے نیست و نابود ہوا کہ دنیا دیکھتی رہ گئی,اس عدالت سے ڈرنا چاہیےجس میں نہ وکیل ہوگا نہ گواہ اور نہ دلائل صرف ایک اعلان ہوگا.
وَامۡتَازُوا الۡيَوۡمَ اَيُّهَا الۡمُجۡرِمُوۡنَ