اسلام آباد (سٹیٹ ویوز)کل جماعتی حریت کانفرنس(آزاد جموں و کشمیر و پاکستان شاخ)کا ایک اہم، اعلی سطحی اجلاس کنوینر غلام محمد صفی کی قیادت میں منعقد ہوا، جس میں تمام وابستہ اکائیوں کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس میں خطے کی موجودہ سیاسی صورتحال، کشمیر کاز کی حساس نوعیت اور آئندہ حکمتِ عملی کے مختلف پہلووں پر نہایت سنجیدگی، فہم و فراست اور گہرے غور و خوض کے بعد متفقہ اور اصولی فیصلے کیے گئے۔ اجلاس کے بعد جاری تفصیلات کے مطابق اجلاس کے شرکا نے دوٹوک اور غیر مبہم انداز میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر اور پاکستان کے انتخابی عمل کے حوالے سے اپنی سابقہ اصولی پالیسی کو برقرار رکھے گی۔
واضح کیا گیا کہ حریت کانفرنس نہ خود کو کسی سیاسی جماعت میں تبدیل کرے گی اور نہ ہی کسی سیاسی یا مذہبی جماعت، گروہ یا فرد کے حق یا مخالفت میں انتخابی مہم کا حصہ بنے گی۔ اس موقف کی بنیاد اس اصول پر رکھی گئی کہ مسئلہ کشمیر ایک قومی، نظریاتی اور بین الاقوامی حق خودارادیت کا مسئلہ ہے، جسے وقتی سیاسی مفادات یا انتخابی وابستگیوں کے تابع کرنا اس کی بنیادی روح اور وقار کے منافی ہے۔اجلاس میں اس امر پر خصوصی زور دیا گیا کہ پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کی سیاسی و مذہبی قیادت کے ساتھ ساتھ عوام الناس کو بھی کشمیر کاز کے گرد یکجا کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس تناظر میں حریت کانفرنس کا غیرجانبدار، اصولی اور متوازن کردار کلیدی اہمیت کا حامل قرار دیا گیا، تاکہ وہ ایک مشترکہ قومی آواز کے طور پر اپنی ساکھ، اعتماد اور اثرپذیری کو برقرار رکھ سکے۔
شرکا نے اس حقیقت کا بھرپور اعادہ کیا کہ حریت کانفرنس شہدائے کشمیر کی وارث اور ان کے عظیم مشن کی امین ہے۔ اس حیثیت میں اس پر یہ بنیادی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ شہدا کے ادھورے مشنحقِ خودارادیت کے حصو ل کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے اپنی جدوجہد کو مزید موثر، منظم اور ہمہ جہت بنائے۔ اس جدوجہد کو اصولی، پرامن اور بین الاقوامی قوانین و سفارتی اقدار کے مطابق جاری رکھنا حریت کانفرنس کی مستقل اور غیر متزلزل حکمتِ عملی قرار دیا گیا۔مزید برآں، اجلاس میں اس بات پر مکمل اتفاق رائے پایا گیا کہ حریت کانفرنس کی نمائندہ ٹیمیں پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کی تمام بڑی سیاسی و مذہبی جماعتوں سے باضابطہ اور موثر روابط قائم کریں گی۔
ان روابط کا بنیادی مقصد یہ ہوگا کہ متعلقہ جماعتوں کو اپنے انتخابی منشور میں مسئلہ جموں و کشمیر کے بنیادی، کلیدی اور اصولی نکات شامل کرنے پر آمادہ کیا جائے، تاکہ کشمیر کاز کو ریاستی، سیاسی اور عوامی سطح پر بھرپور انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر اس غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حریت کانفرنس اپنی اصولی، غیرجانبدار اور واضح پالیسی پر کاربند رہتے ہوئے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے اپنی جدوجہد کو مزید مربوط، موثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے تمام دستیاب سیاسی، سفارتی اور عوامی وسائل بروئے کار لائے گی، اور ہر سطح پر اس آواز کو موثر انداز میں عالمی ضمیر تک پہنچانے کی کوشش جاری رکھے گی۔اجلاس میں سنیر حریت رہنما محمد فاروق رحمانی،محمود احمد ساغر ، جنرل سکریٹری ایڈوکیٹ پرویز احمد ، الطاف حسین وانی،سید فیض نقشبندی ،شیخ عبد المتین ،حسن البنا،جاوید جہانگیر، نثار مرزا، سید اعجاز رحمانی ،راجہ خادم حسین ،داود خان، چوہدری شاہین ،زاہد صفی، ،کفایت حسین رضوی ،زاہد اشرف ،حاجی محمد سلطان،محمد شفیع ڈار،امتیاز وانی، میاں مظفر،محمد اشرف ڈار ،سید گلشن،،منظور احمد ڈار،شیخ عبد الماجد ، زاہد مجتبی، نذیر کرناہی اور سکریٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ شامل تھے.